گلزار حسین فکشن رائٹر

اس معاملہ میں صرف حکومت فیل نہیں ہوئ بلکہ سارے ادارے فیل ہوۓ.. جس میں علماء کرام بھی شامل ہیں. ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیئے کہ جب کسی کلاس کا سٹوڈنٹ فیل ہوتا ہے  تو یہاں صرف سٹوڈنٹ فیل نہیں ہوجاتا دراصل ایک استاد ایک ادارہ فیل ہوجاتا ہے یعنی صرف ایک بچہ ہی فیل نہیں ہوا بلکہ پورا سماج فیل ہوا کیونکہ وہی ایک سٹوڈنٹ کل کا نوجوان بنتا ہے کل کا جج,وکیل,استاد,ڈاکٹر,انجینئر,عالم دین,ایم این اے, ایم پی اے ,منسٹر,سی ایم, یا پرائم منسٹر یا پھر ایک چور یا ڈاکو یا ایک قاتل بنتا ہے.

 اس لیئے عمارت کی ہر ایک اینٹ یا کسی عبارت کا ایک ایک لفظ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے.اسی طرح دین اسلام کا ہر ایک رکن بہت اہم ہوتا ہے. آج  اگر میں اور آپ اپنی کرسی پہ بیٹھ کر ہلاک ہونے والوں یا شہید ہونے والوں کی میتوں پہ تالیاں بجائیں یا خاموش تماشائ بنے رہیں تو یہ بزدلی سے کم نہیں ......

کیا ہم نے اپنے اداروں کو انسانیت کی نفرت کا سبق دیا ہے اور کیا دھرنے والوں یعنی ختم نبوت کے محافظوں نے اپنے پیروکاروں کو کسی کے گھر میں گھسنے اور جلاؤ گھیراؤ کا دین سکھایا ہے... چاہیئے تو یہ تھا کہ تمام مسالک و مکاتیب کے علماء کوئ پرامن حل نکالنے کی کوشش کرتے لیکن یہ انتشاری کیفیت پھیلانےکی تبلیغ تو اسلام نہیں دیتا...

 ہم میں اور ہندو انتہا پسندی اور اس انتہا پسندی میں کیا فرق رہ جاتا ہے..آج آپ انڈیا کی صورتحال کا جائزہ لے کر تو دیکھیں روزانہ کی بنیاد پر کسی نہ کسی کو انتہا پسندی کا نشانہ بنایا جاتا ہے..... حکومت کا قصور ہے تو یہی طریقہ کار ہی تو ضروری نہیں کہ دھرنے لگا کر عوام کا قتل عام کروایا جاۓ....

 میرے پیارو!  قرآن مجیدایک انسان کے قتل کو پورے مسلمانوں نہیں بلکہ پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیتا ہے... اسلام کی نظر میں سب کی جان ومال کی اہمیت برابر ہے... آج جب صورتحال اتنی سنگین ہوچکی ہے تو دونوں اطراف کے معززین سے درخواست کی جارہی ہے کہ قتل و غارت اور لڑائ جھگڑے سے پرہیز کیا جاۓ لیکن افسوس یہ جوشیلے ایسا نہیں کررہے ہیں..

خدا کی قسم میرے ملک سے مذاق کے ساتھ ساتھ دین اسلام کی تعلیمات کا مذاق اڑایا جارہا...

مجھے تو افسوس ہوا اور شک ہوا اسمبلی والوں پہ جنہوں نے اس معاملے کو چھیڑ کر جذبات کو مجروح کیا کہ واقعی وہ مسلمان ہیں یا قادیانی ہیں...

اور ادھر پھر اعلی حضرات کو دیکھیں جو کہہ رہے ہیں کہ صرف وہی مسلمان ہے جو دھرنا دے جو نہ دے اس کا ایمان کمزور ہے... کیا جناب عالی ہم نے اپنے گھروں,بستیوں,قصبوں,شہروں میں نبی پاک کی تعلیمات کو پہنچا کر عمل کر لیا اور کروا لیا .اگر جواب نہیں ہے تو شرمناک معاملہ ہے...

ایک شخص کو چاہیئے کہ پہلے وہ خود پر اپنے جسم پر اسلام نافظ کرے پھر اپنے ایمان کو منواۓ...

مجھے افسوس ہوا خادم صاحب کی لینگوئج سن کر, اسلام تو ایک لفظ کو بیان کرنے میں تہذیب کا درس دیتا اور وہاں جو مرضی زبان استعمال کی جاۓ... ایسا تو ہرگز اسلام نہیں سکھاتا کہ کسی سے انجانے میں غلطی ہوجاۓ تو اس کی ماں بہن کو گالیاں دی جائیں یا اس کی گردن کاٹ دی جاۓ...اسلام تو ہر لمحہ محبت سکھاتا ہے اور دوسرے کے جان ومال کی ضمانت فراہم کرتا ہے...

کیا کہیں ہم سب تو فیل نہیں ہوۓ. کیا ہم نے یہ سوچا کہ اس معاملہ پر پوری دنیا کی نظریں گھوم رہی ہیں اور ان کے اذہان میں کیا دال دلیا بن رہا ہے..

کیا ہم اکیلے تنہا ہوکر سوچ رہے ہیں یا بحیثیت قوم اس معاملہ کو حل کرنا چاہ رہے ہیں.

.....بطور طالب علم میں یہ سوچتا ہوں کہ صرف حکومت فیل نہیں ہوئ ہم بطور صحافی.,جج, فوجی, استاد, پروفیسر اور درحقیقت بطور مسلمان اپنے فرائض کی انجام دہی میں فیل ہوچکے ہیں...

چاہیئے تو یہی ہے کہ سب کو مل بیٹھ کر اس معاملے کو جلدازجلد حل کیا جاۓ.. پاکستان کو اس نفرت کی اور مزہبی جنگ سے بچایا جاۓ.

کیونکہ یہ آگ ہر شۓ جلادیتی ہے. اور اس معاملہ میں معصوم لوگوں کو جلنے سے بچالیا جاۓ..

....سوال یہ ہے کہ کون فیل ہوا... ہم یا حکومت ؟


افکار و نظریات: سوال یہ ہے کہ فیل کون ہوا