دھرنا اور دہشت گردی ،

(ڈاکٹر حفیظ ارحمان )

جمھوریت ایک نظام حکومت ھے اور اس نظام میں پارلیمان سب سے مقدم ھے ۔

پارلیمان ایک ایسا ادارہ ھوا کرتا ھے ،جہاں تہذیب اور شائستگی کے دائرے میں آئین کے تحت قانون کی عمل داری کے لیے دلیل کے موقف پہ بحث کی جاتی ھے اور عوام کے مبینہ حقوق کو پیش نظر میں رکھ کر ریاست کی عملداری کو یقینی بنایا جاتا ھے ۔

پارلیمان عوامی نمائندوں میں مشتمل ھوا کرتی ھے ۔

دھرنے کی روایت ھندستان میں سیاسی افق پہ رونما ھوئی اور پاکستان میں اس کی روایت پی ٹی آئی نے بھر پور انداز میں ڈالی ،عمومی طور پہ دھرنے اور بھوک ھڑتالی کیمپ احتجاج کے طور پہ پیش کیے جاتے پیں لیکن دھرنوں کے لیے بھی کچھ اخلاقی اصول ھوا کرتے ہیں ۔

اخلاقیات کا سب سے بڑا حسن یہ ھوا کرتا ھے کے اس میں کوئی بھی عمل اس طرح سے کیا جائے کے کسی کی بھی دل آزاری نہ ھو اور پیغام بھی پہنچ جائے ۔

آیا شارع عام پہ دھرنوں کا کوئی اخلاقی جواز ھے اور کیا اس طرح سے عوام اور ریاست کو یر غمال بنایا جا سکتا ھے ۔

درآصل پارلیمان کی بے توقیری کے سب سے بڑے عملدار پارلیمانی  نمایندے بزات خود ہیں اور اس سے انکی اس نیت کا پتا چلتا ھے کے جمھوریت اور جمھوری اقدار کے لیے کس قدر مخلص ہیں اور جمھوریت جمھوریت کا رونا صرف اقتدار کے لیے ایک زینے کے طور پہ لیا جاتا ھے ،

پارلیمان کو اہمیت نہ دینے کی عادت سیاسی جماعتوں کے اندروں مشاورت کا سلسلہ نہ ھونے سے شروع کیا جاتا ھے اور پھر سیاسی جماعت کو آمرانہ انداز میں چلایا جاتا ھے ۔

دھرنا یا بازاری احتجاج جمھوریت میں رہتے ھوئے ایک مکروہ عمل ھے اور خصوصی طور پہ اگر اس کی شکل یرغمالی ھو ۔

جمھوری نظام کے ھوتے ھوئے جب پارلیمان بھی موجود ھو تو تب ایک ایسے جتھے کا احتجاج جس کی پارلیمان میں نمائندگی بھی نہ ھو جمھوری دہشت گردی کی مکروہ ترین شکل ھے ۔

اس طرح کی دہشت گردی ریاست کو بے بس وپا کرنے کے مترادف ھے اور ان گُرو ہوں  کی حو صلہ افزائی کرنے کا مطلب کے پارلیمان اور عدالتوں کو لپیٹ دیا جائے ۔

دلچسپ امر یہ ھے کے ابتک تو ھر ائینی معاملے کی کمزوری کے لیے تو عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا رہا ھے لیکن ختم نبوت کے حوالے سے یرغمالی سیاست کا سہارا لیا گیا ۔

بنیادی طور پہ یرغمالی سیاست کا وطیرہ کسی طرح بھی جمھوری اخلاقیات کے زمرے میں نہیں اتی ۔

یہ بلکل ایسا ھی ھے کے اگر کل کلاں کو کوئی مسلح جتھہ ھندستان پہ یہ کہہ کے حملہ کر دے کے کشمیر کو آزاد کرانا ھے تو پاک فوج کے لیے یہ کس قدر قابل قبول ھو گا اور ریاست اس کے لیے کس قدر قابل جواز ھو گی ۔

حدیں اور اصول اور سب سے بڑھ کر جمھوری اخلاقیات ریاست کے لئے ھمیشہ سے مقدم ھوتے ہیں ۔

مورخہ ستائس ،نومبر ،سترہ ۔


افکار و نظریات: دھرنا اور دہشت گردی