✍ *رضوان قادری*

دنیا میں ہر شخص اپنے آباواجداد کے نقش قدم پر چلتا ہے، ان کی یاد مناتا ہے اور ان کے آداب و رسوم و رواج کو باقی رکھتا ہے۔

جو انسان جس سے عقیدت اور محبت کرتا ہے اس کی ولادت پر خوش ہوتا ہے اور انسان جس سے نفرت کرتا ہے اس کی ولادت پر خوشی کے بجائے غم اور دکھ کا اظہار کرتا ہے۔

جس طرح بچہ پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کے پستان سے دودھ چوسنے لگتا ہے اور اسے کسی سے سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑھتی اسی طرح خوشی اور غم  کا اظہار بھی خود بخود ہوجاتا ہے ۔

پیغمبر اسلام ص کی ولادت کی خوشی منانا بھی ایک فطری امر ہے۔

جو بھی انسان پیغمبر اسلام ص سے عقیدت رکھتا ہے وہ ان کی ولادت کا جشن بھی مناتا ہے چونکہ بچے کی ولادت پر خوش ہونا ایک فطری بات ہے اور دین اسلام ایک فطری دین ہے۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا میں پیغمبر اسلام ص کی ولادت کے موقع پر جہاں جشن کا سماں دکھائی دیتا ہے وہیں غم اور دکھ کا بھی چونکہ دونوں طرح کے لوگ اس دنیا میں موجود ہیں۔

⭕بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

البدایۃ والنہایۃ میں ہے،کہ

أَنَّ إِبْلِیسَ رَنَّ أَرْبَعَ رَنَّاتٍ حِینَ لُعِنَ، وَحِینَ أُہْبِطَ، وَحِینَ وُلِدَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَحِینَ أُنْزِلَتِ الْفَاتِحَۃُ یعنی ابلیس چار بار بلند آواز سے رویا ہے

پہلی بارجب اللہ تعالیٰ نے اسے لعین ٹھہرا کراس پر لعنت فرمائی

دوسری بار جب اسے آسمان سے زمین پر پھنکا گیا

تیسری بار جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی

چوتھی بار جب سورۃ الفاتحہ نازل ہوئی

(بحوالہ البدایۃ والنہایۃ ۔جلد2صفحہ326۔مکتبۃالشاملۃ)

پیغمبر اسلام ص کی ولادت کے بعد انسانوں کے دو ہی فرقے اور گروہ ہیں۔

ایک وہ جو پیغمبر اسلام ص کو آخری نبی تسلیم کرتے ہیں ، انہیں اپناآقاو مولی ،داتا و ناجی اور نمونہ عمل مانتے ہیں دوسرے وہ ہیں جو حضور ص کی آمد پر غمگین و افسردہ ہیں۔

ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ خدا وند علم ہمیں عید میلاد النبی ص کے صدقے میں حضور ص کے فرمانبرداروں، عقیدتمندوں اور پیروکاروں میں شامل فرمائے۔


افکار و نظریات: شیطان کی چیخ اور عید میلاد النبی ص