السلام علیکم
محکمہ تعلیم ضلع چاغی  ایکٹنگ اور اٹیچمنٹ پر چلا یا جارہا ہے_
پدگ،برابچہ اور دور دراز کے سکولوں کو اساتذہ کو سفارش کے بل بوتے پر شہر میں اٹیچمنٹ کی گئ ہیں_
اکثر اساتذہ کرام سے ڈی ای او اور ڈی ڈی او کے دفتر میں بابو اور کلرک کا کام لیا جا رہا ہے
2004 سے چاغی کو نوشکی سے الگ ضلع بنا دیا گیا مگر آج تک ڈی ای او اور ڈی ڈی او نے اپنے آفس میں کلرک کی آسامیاں منظور نہیں کیں تاکہ پرسنٹیج سے بچ جائے اساتذہ کرام کو شہر کے اندر سکولوں میں اٹیچ کردیا گیا ہے_
کیا باہر کے سکولوں کے طلعباء تعلیم کا حقدار نہیں ؟
رہی ایم پی اے اسکالرشپ کی بات شنید میں آیا ہے کہ پشتوں اضلاع میں ایم پی اے صاحباں نے طلباء کو امسال اسکالرشپ دی ہیں؟
مگر ہمارے ایم پی اے نے طلباء سے اسکالرشپ فارم وصول کرنے سے بھی کترایا ہے حلانکہ اسکالرشپس کے مد میں کروڈوں روپے ہیں غریب طلباء میٹرک کے امتحان فیس بھی نہیں دے سکتے مگر ارب پتی ایم پی اے کو بچوں کے مستقبل کا کوئی سوچ نہیں_
مستقبل کے معماروں کو تعلیم تحفظ اور اسکالرشپ دو
اسکالرشپس کی خورد برد نا منظور نا منظور
میرٹ کی پامالی نامنظور نامنظور

"پڑھو بلوچستانیو پڑھو"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نویدبلوچ۔......

00923318090672

 


افکار و نظریات: محکمہ تعلیم ضلع چاغی 00923318090672