تحریر: شہک جان 

ہم بس عجیب مقدر کے مالک لوگ ہیں،ہم خوشگوار مواقعوں سے محروم اوراچھے چیزوں کو ترسنے والے ہیں ساحل اور وسائل سے مالامال سرزمین کے باسی ہونے کے باوجود جدید سائنسی ترقی سے پرے ہوئے۔۔۔۔۔دیہی علاقوں میں سکول ہے نہ ہسپتال۔صاف پانی ہے اورنہ معیار زندگی کو بہتر کرنے کے مواقع۔۔۔۔۔۔۔لوگ بے بس ہوکر شہروں کا رخ کرتے ہیں تو یہاں خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔۔۔۔

روز دھماکے اور تشدد، ٹریفک جام اور آلودگی، ملاوٹ بھرے اشیاء اور نہ جانے کتنے مصنوعی مصائب و مشکلات۔۔۔۔۔۔۔اور غضب یہ کہ حصول  تعلیم جوئے شیر کے مترادف ۔۔۔۔گذشتہ روز ایک درد دل رکھنے والے دوست کے توسط سے علم ہوا کہ کوئٹہ شہر میں پبلک لائبریریوں کے مسئلے نے سنگین رخ اختیار کرکے ہمارے اجتماعی نااہلی اور غفلت پر نوحہ کناں ہے۔۔۔۔۔جناح روڈ پر قائم قائداعظم نامی صرف ایک ہی لائبریری فعال ہے اور پڑھنے والے سات ہزار سے زیادہ ہیں،،،،،

کوئتہ شہر کے اندر قائم کئی اور لائبریریاں جن میں گورنمنٹ سنڈیمن لائبریری،صادق شہید لائبریری وغیرہ وغیرہ جانے کب سے بند پڑی ہیں اورہمارے بچے قائداعظم لائبریری کے گرد لمبی قطاریں بناکر گھنٹوں جگہ پانے کی آس میں کوئٹہ کی بے رحم اور یخ بستہ ہوائیں کھارہے ہیں۔۔۔۔۔۔کاش کوئی مسیحا بن کر یہ بند لائبریریاں کھولوا نے کا احسان کر دے۔


افکار و نظریات: کوئٹے کی بند لائبریریاں کھلوا دو