لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ پپلک کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے لواحقین کو رپورٹ کی 3 روز میں کاپی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں 3 رکنی فل بینچ نے فیصلہ سنایا۔

 یاد رہے کہ 21 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام کرنے کی عوامی تحریک کی درخواست منظور کرتے ہوئے سیکرٹری ہوم کو جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت نے اپیل دائر کرتے ہوئے حکم امتناعی کی درخواست بھی لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی۔

 پنجاب حکومت کا موقف تھا کہ سنگل بینچ نے یہ فیصلہ ان کے تحریری جواب کے بغیر ہی جاری کر دیا اور رپورٹ عام نہ کرنے پر پنجاب حکومت کے خلاف پہلے ہی ایک توہین عدالت کی درخواست دائر ہوچکی ہے۔ حکومت کے وکیل نے استدعا کی کہ اپیل پر فیصلے تک سنگل بینچ کا حکم معطل کیا جائے۔ واضح رہے کہ 17 جون کو پولیس نے منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے سامنے سے بیئریر ہٹانے کے لئے جو کارروائی کی تھی، اس میں بیشتر زخمیوں اور ہلاک شدگان کو براہ راست گولیاں لگی تھیں۔

 ابتدا میں پولیس نے ان ہلاکتوں کا مقدمہ پاکستان عوامی تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج کر لیا تھا اور منہاج القرآن سیکرٹریٹ کی جانب سے دی گئی درخواست پر نئی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سے قبل 21 جون کو پنجاب کے وزیراعلٰی کے کہنے پر صوبائی وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

دیگر ذرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دے دیا ہے، حکومتی اپیل خارج، جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں فل بنچ نے فیصلہ سنا دیا۔ عوامی تحریک کے کارکن ہائیکورٹ کے باہر سجدہ ریز ہوگئے۔ صوبائی وزیر اوقاف سید زعیم قادری کہتے ہیں کہ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جائیں گے۔ اُدھر رہنما پی ٹی آئی اعجاز چودھری نے میاں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا ہے۔

 پاکستان عوامی تحریک سمیت دیگر مختلف جماعتوں کے بار بار مطالبے کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی جا رہی تھی، جس کا کیس ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے اس بڑے مقدمے پر بڑا فیصلے دیتے ہوئے انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں ہائیکورٹ کے فل بنچ نے رپورٹ پبلک نہ کرنے کی حکومتی اپیل خارج کر دی۔ اپنے حق میں فیصلہ آنے پر عوامی تحریک کے کارکن ہائیکورٹ کے باہر سجدہ ریز ہوگئے۔

عوامی تحریک کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے فیصلے پر کہا کہ آج انصاف کی بالادستی قائم ہوگئی، معلومات سے آگاہی عوام کا بنیادی حق ہے۔ اب وہ رپورٹ پڑھ کر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کرائیں گے۔ رہنما پی اے ٹی خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ازسرنو تحقیقات کی جائیں۔

 انہوں نے میاں شہباز شریف اور متعلقہ پولیس افسران کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ رپورٹ لینے کیلئے کل سیکرٹریٹ کے سامنے جمع ہوں گے۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید نے کہا کہ ظلم و جبر کی سیاہ رات ختم ہونیوالی ہے، جبکہ رہنما پی ٹی آئی اعجاز چودھری نے میاں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے عدالتی فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 زعیم قادری کہتے ہیں کہ گرفتار اہلکاروں کی ضمانتیں ہوچکی ہیں، فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرینگے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلٰی پنجاب نے خواجہ حارث کو فیصلہ چیلنج کرنے کی ہدایت کر دی ہے، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمان کو خواجہ حارث سے تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

 


افکار و نظریات: سانحہ ماڈل ٹاون۔۔۔ شریف خاندان اور ان کے گلو بٹ بچ