تحریر :محمد حسن جمالی

طول تاریخ میں اسلام اور مسلمانوں کو جتنا ذیادہ نقصان منافقین نے پہنچایا ہے اتنا کفار سے نہیں پہنچا - آج بھی پوری دنیا میں مسلمانوں کو بدنام کرنے میں سب سے ذیادہ اسی گروہ کا کردار نمایاں ہے- 

ہمارے زمانے میں منافقین کا بارز مصداق تکفیری ٹولہ ہے جو دین کا لبادہ اوڑھ کر خود دین کی جڑیں کاٹ رہا ہے، اس خشک وبے بنیاد عقیدے کے حامل مٹھی بھر لوگوں نے پوری دنیا میں مسلمانوں کو طرح طرح کے مظالم سے دوچار کررکھے ہیں- پاکستان، افغانستان، شام،برما، یمن عراق، بحرین و... میں تکفیری سوچ رکھنے والوں نے کھبی دہشتگردی کی آگ جلاکر اور کھبی بے گناہ مسلمانوں کو پابند سلاسل اور قید وبند کی صعوبتوں میں رکھہ کر مظلوم مسلمانوں کی جان اور آبرو سے کھیل رہے ہیں –

 اس ٹولے کا سرپرست اعلی آل سعود ہے- بحرین میں آل سعود کی پشت پناہی سے ہی آل خلیفہ نے بحرینی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے، ریاستی طاقت استعمال کرکے آل خلیفہ نے لاتعداد مسلمانوں کو شھید کرنے کے علاوہ بہت سوں کو قیدی بناکر جسمانی اور روحانی اذیتوں میں مبتلا کررکھا ہے جن میں قائد مسلمین اتحاد کے علمبردار، بحرین میں مسلمانوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والی عظیم شخصیت آیت اللہ شیخ قاسم بھی شامل ہیں-

 جب سے بحرینی مسلمانوں میں اسلامی بیداری آئی ہے آل خلیفہ نے مسلمانوں پر ظلم وستم کرکے اس اسلامی بیداری کو کمزور کرنے اور اسے پھیلنے سے روکنے کے لئے اپنی پوری توجہ مرکوز کررکھا ہے، انہوں نے بحرین میں آئی ہوئی اسلامی بیداری میں جو شخصیات اور افراد سب سے ذیادہ فعال تھے کو چن چن کر یا بے دردی سے قتل کئے جاچکے ہیں یا قید کرکے دردناک ازیتوں میں زندہ رہنے پر مجبور کررکھے ہیں، لیکن دنیا جانتی ہے کہ آل خلیفہ کو اپنے ناپاک عزائم میں کامیابی ملنے کے بجائے دنیا والوں کے سامنے رسوائی کا منہ دیکھنا پڑا ہے، اس نے اپنے غیر انسانی اقدامات کے ذریعے بلاواسطہ آل سعود اور بالواسطہ امریکہ واسرائیل کو خوش ضرور کیا مگر اسلامی ممالک کو اپنے سے دور کردیا ہے-

اس نے اپنی درندگی اور بربریت پر مبنی غلط حرکتوں کے ذریعے کفار اور ان کے مطیع وفرمانبردار ٹولے سے دوستی کا رشتہ ضرور جوڑا مگر اپنے مسلمانوں سے کھلی عداوت کا مظاہرہ کردیا ہے، جس کی سنگین سزا اسے بھگتنا پڑے گی-

 اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے دنیوی حالات پر گہری نظر رکھنے والوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ بحرین میں آل خلیفہ کی بادشاہت زوال کے بالکل قریب ہے - تاریخ بشریت گواہ ہے کہ ظلم کا انجام نابودی ہے, تاریخ کتب گزشتہ ظالم بادشاہوں اور آمروں کی ظلم وستم کی داستانوں سے بھری پڑی ہیں اور جن میں ان ستمگروں کے انجام بد کی تفصیلات بھی مرقوم ہیں مگر افسوس؛ آل سعود وآل خلیفہ سمیت آج کے ہمارے حکمرانوں نے ان سے درس عبرت لینے کے بارے میں سوچا تک نہیں ۔

بحرین کے مسلمان آل خلیفہ کی ظالمانہ حکومت سے تھک چکے ہیں، وہ بحرین میں جمہوری حکومت کے خواہاں ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عوامی رای اکثریت سے تشکیل پانے والی منصف حکومت چاہئے، وہ سیاسی ظلم پر مبنی نظام میں اصلاحات اور تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ملک کی سیاست میں ان کو بھی شامل کیا جائے جو ان کا بالکل منطقی اور حق پر مبنی مطالبات ہیں جن سے کوئی بھی عاقل ومنصف شخص انکار نہیں کرسکتا مگر آل خلیفہ کی حکومت لوگوں کے مطالبات ماننے سے انکار کر رہی ہے اور ان مشروع ، جائز اور برحق مطالبات کو اپنے مہلک ہتھیاروں اور وسایل کے ذریعے کچل رہی ہے

 ۔ آل خلیفہ کی حکومت آغیار کی ایماء پر بحرین کے انقلابی مسلمانوں کو صفحہ بحرین سے مٹانے کے لئے اپنی پوری توانیاں صرف کررہی ہے مگر بحرین کے انقلابی شجاعت ہمت اور جرات کے پہاڑ بن کر میدان سے ایک اینچ پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں بلکہ روز بروز ان میں ایمانی طاقت مضبوط اور مستحکم ہوتی جارہی ہے، ان کا یہ راسخ عقیدہ بن گیا ہے کہ یہ اسلام بیداری کا انقلاب آل خلیفہ کی حکومت کی نابودی کے لئے پیش خیمہ ہے ،ہم بحرین میں ڈکٹیٹر حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کر انصاف پر مبنی حکومت قائم کرکے ہی سکھہ کا سانس لیں گے ۔

 اس ملک کے  سیاسی ماضی پر ایک نگاۃ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ آل خلیفہ کی سیاسی حرکتوں نے ہی اس ملک میں ہر طرح کے انقلاب اور لوگوں کے اعتراضات کا راستہ ہموار کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں حکومت اور ملت کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ، جمہوریت کو دبانا ، گھٹن آمیز سیاسی ماحول ، جبر اور استبداد اور گھٹن ، ذرائع ابلاغ پر پابندی ، اور سیاسی سرگرم افراد کی گرفتاری نہ صرف بحرین میں بلکہ خلیج فارس  کے ملکوں کی تاریخ کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں تبدیلیوں اور اصلاحات کا ہونا ضروری ہے ۔

۔

بحرین کے اعتراض کرنے والوں نے شدت سے مکرر یہ اعلان بھی کررہے ہیں کہ یہ انقلاب مغرب والوں کے تصور کے باوجود نہ خاموش انقلاب ہے اور نہ بھولا بسرا انقلاب ہے ، بلکہ یہ ایک سرگرم ، محکم اور زندہ انقلاب ہے  اور جیسے جیسے وقت گذر رہا ہے انقلابیوں کا عزم راسخ تر اور پختہ تر ہو رہا ہے اور لوگوں کے کھوئے ہوئے حقوق کی بازیابی کے لیے پہلے سے زیادہ کوشش کی جارہی ہے ۔

 ایسے میں دنیا بھر کے مسلمانوں کا یہ اخلاقی اور انسانی ودینی فرض بنتا ہے کہ وہ بحرینی مسلمانوں کے جائز مطالبات کی بھرپور حمایت کریں، ان پر ہونے والے مظالم کی کھل کر مخالفت کریں اور آل خلیفہ کے ظالمانہ اقدامات کی واضح الفاظ میں مزمت کریں - بحرین میں ظلم کا سلسلہ جاری ہے ....

 


افکار و نظریات: بحرین ۔۔۔بول کہ لب آزاد ہیں تیرے