ساجد گوندل

ایک زمانہ تھا کہ جب  انسان  جہالت ، بدبختی و گمراہی کے گھپ اندھیروں میں گم تھا ۔ آنکھیں رکھنے کے باوجود وہ  کبھی اس دیوار تو  کبھی اس دیوار سے ٹکراتا  تھا    ۔عین اسی وقت چند افراد  اٹھے اور  انھیں چند نے ایک ایسی ملت کو تشکیل دیا کہ جس کے نقش ہزاروں سال  دنیا کے سینے پر ثبت رہے اور آج بھی باقی ہیں۔

  کل  کی طرح  آج بھی زمانہ انھیں افراد  کو امتِ اسلامیہ  کے نام سے جانتا ہے ۔یہ بھی ایک فطری عمل ہے  کہ جب ملّتیں  ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگیں یعنی وہ اصول ، ضوابط و اخلاقی اقدار کہ جن پر ان کی بناء تھی ان میں بگاڑ آنے لگے، تو تاریخ گواہ ہے کہ  پھر بھی چند افراد نے ہی آکر ان  کی گرتی ہوئی اقدار کو سہارا دیا ۔

 اپنے زور ِ بازو    و زور ِ عمل سے ان اصولوں کو قائم رکھا کہ جن کی بدولت انھوں نے عزّت کے آسمانوں میں پرواز کرنا سیکھا تھا  کہ واقعہ کربلا جس کا منہ بولتا ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ  بھی اپنے اشعار میں یہ  کہتے ہیں کہ

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر                                           ہر فرد ہے ملّت کے مقّدر کا ستارہ  

یعنی قوم و ملت کا اتار ، چڑھاؤ  افراد کے ہاتھوں میں ہوتاہے ۔ صرف یہاں تک ہی نہیں بلکہ ہر فرد کو ملّت  میں ایک درخشاں ستارے کی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔  جبکہ دوسری طرف کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں  کہ

                              فردِ قائم  ربط ِ ملّت سے ہے تنہا کچھ نہیں                                                                           موج ہے دریا میں ، بیرونِ دریا کچھ نہیں

یعنی ایسے افراد کہ جو قوم و ملّت کے رابطے سے خارج ہوں  وہ ہرگز سود مند نہیں ہوتے بلکہ ملت کے وہی افراد مفید و کار آمد ثابت ہوتے ہیں کہ جو ملّت کے ساتھ مضبوط رابطے میں ہوں۔    اسی طرح  جب ملّت کا ہر طبقہ دوسرے طبقوں کے ساتھ مضبوط  رابطے میں ہوگا تو ملّت کے جسم کا کارآمد جزء  ثابت ہوگا وگرنہ نہیں  ۔بلکل اسی طرح اگر معاشرے میں موجود تمام اصناف  کے افراد کا دِقت سے مطالعہ  کیا جائے تو ہم اس  نتیجے پر پہنچیں گے کہ معاشرے میں  شہید ایک  ایسی صنف ہے کہ جسے باقی تمام اصناف میں تغمہءِ امتیاز حاصل ہے  ۔کیونکہ اس صنف کے افراد کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے کہ  جو ہمیشہ اپنی جان کا نذرانہ  دے کر بے جان و بے روح ملّت کو تازہ دم کرتے ہیں۔ زمانے میں یہی وہ افراد ہیں کہ جنہوں نے اپنے زور بازو و عمل سے ہمیشہ ملّت کے شیرازے کو بکھرنے سے بچایا ہے ۔

شہید وہ افراد ہیں کہ جو ملّتیں تشکیل دیتے ہیں  ، جو قوموں کو ان کی کھوئی ہوئی عزّت و عظمت واپس  دلاتے ہیں  ۔

 اگر 61ھجری میں ملّت اخلاقی گراؤ   و   تنزلی کا شکار ہو کر مرجھاجائے اور اس میں زندگی کی رمق  باقی نہ رہے    ، تب بھی ہمیں 72 شہداء ہی نظر آتے ہیں کہ جو ملّت  کی حیات کے لیے اپنی زندگی   ملّت کو تحفے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔  اور اسی طرح اگر 2014  جیسے ماڈرن دور میں ملّت پاکستان نہ صرف یہ کہ  ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے  بلکہ اس  حد تک کہ بلکل اندھی ، بہری و  گونگی ہوجائے کہ جو ہر روز ظلم کے سورج کو ایسے دیکھے کہ گویا  اس کو دیکھائی ہی نہ  دیتاہو   ، مظلوم کی چیخ   و پکار کو ایسے سنے کہ جیسے اس کو سنائی ہی نہ دیتاہو  اور ظالم کے ظلم پر ایسا سکوت اختیار کرے  کہ گویا اس کو بولنا آتا ہی نہ ہو ۔

 جب ملّتیں و افراد اس حد تک گر جا ئیں کہ انسان ، شناختِ انسان  کھو بیٹھے،  تب جا کر انھیں ایک ایسے  ہی گروہ کی ضرورت پڑتی ہے کہ جو اپنے معصوم و پاکیزہ خون کے چھینٹوں سے  سوئی ہوئی و مردہ قوم میں زندگی کی ایک نئی امید جگائے ۔ تب جا کر ہمیں پشاور کے ان ننھے پھولوں کی ضرورت پڑتی ہے کہ جو اپنے خون کے قطروں سے شبنم کا کام لیتے ہوئے مرجھائی ہوئی قوم میں تازگی پیدا کریں۔  16دسمبر ملّت پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ 16 دسمبر ملّت پاکستان کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہے ۔

 16 دسمبر ملّت پاکستان کو دو بڑے سانحات کی یاد دلاتاہے، ایک بنگلہ دیش کی جدائی کی اور دوسرے پشاور کے شہدا کی۔

 16  دسمبر کو پشاور کی سر زمین پر بہایا جانے والا  ان معصوم بچوں کا خون پوری ملّت پاکستان سے کچھ ذمہ داریوں کا مطالبہ کرتا ہے ۔ ظلم کے خلاف  مبازے کی ذمہ داری  ، سکوت  توڑنے کی ذمہ داری ، اپنی صفوں میں اتحاد و ؤحدت کو برقرار رکھ کر دشمن  کے خلاف  ایک ہونے کی ذمہ داری  ۔

کیونکہ آج  خود یہ واقعہ اور اسی طرح  سر زمین ِجنوبی ایشیاء  میں سکولوں پر ہونیوالے ایک ہزار 2  سو   59  حملوں  میں سے تقریباً 836  کا پاکستان سکولوں پر حملہ ہونا اس بات کا کھلا     و     واضح  ثبوت ہے کہ آج دشمن ہم سے زیادہ  خوف زدہ ہے۔  اور ہمارے شاہین دشمن کی آنکھوں میں تیر کی طرح چْبھ رہے ہیں۔ لہذا یہاں ہماری زمہ داری خوف سے ڈر کر گھر بیٹھنا نہیں بلکہ پہلے سے خوف زدہ دشمن کہ جو اب بوکھلاہٹ کا بھی شکار ہے کے خلاف میدان عمل میں آنا ہے۔

  ہم پشاور کےان ننھے بچوں کے خون کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ جن کے پاکیزہ خون نے  ملّت پاکستان کی رگوں میں شعور اجاگر کیا مگر ساتھ ساتھ افسوس اس بات کا ہے کہ جس طرح شہداء نے اپنی زمہ داری کو انجام دیا اس طرح ہم اپنی ذمہداری کو انجام نہ دے سکے ۔

 ہم نے کل بھی 16  دسمبر   سے سبق نہ سیکھا اور آج بھی اس کو ایک فراموش پہلو بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ گذشتہ دنوں میرے ایک فاضل دوست نے 16  دسمبر  کو بہت اچھے انداز میں یاد کیا اور بھارت جیسے دشمن کی طرف توجہ تو  دلائی  مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ سقوط ڈھاکہ سے جو سبق ہمیں ملتا ہے یا آئندہ جو ذمہ داریاں ملّت پاکستان کے کاندھوں پر عائد ہوتیں ہیں ان کو بلکل نظرانداز کیا ۔فاضل دوست کے مطابق  آج ہمیں  45  برس گزر گے  مگر ہماری بے حسی کی انتہاء ہوگی کہ  ہمیں احساس بھی ہوا تو نریندر مودی کے کہنے سے۔  آیا ہم اس قدر بے حس ہوچکے ہیں ؟ اگر ہاں تو پھر  بقول اقبالؒ یہ مردہ قوموں کی علامت ہے   اقبال ؒ   اس بارے میں کہتے ہیں کہ                 

                             ہے یہی نشاں  زمانے میں زندہ قوموں کا                                                                                                                  کہ صبح شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں

دوسری بات یہ کہ آج صرف ملّت پاکستان ہی نہیں بلکہ تمام امت مسلمہ نے ان اصولوں و ضوابط کو پس ِ پشت ڈال دیا ہے کہ جن سے قومیں عظمت و سر بلندی کے راستے طے کرتیں ہیں ۔ آج ہم دنیا کی تاریخ  پر نگاہ ڈالتے ہوئے یہ تو ضرور ذکر کرتے ہیں کہ   برطانیہ و فرانس نے اپنے مفاد کی خاطر سلطنت عثمانیہ جیسی عظیم اسلامی سلطنت کو صفحہ ہستی سے مٹادیا  مگر ہماری توجہ ان عوامل ، اسباب و اس خاندان سے ہٹ جاتی ہے کہ جس کی مدد کے بغیر  یہ کام ممکن نہ تھا ۔

نہ صرف یہ کہ ہم اس خاندان ِ آل سعود کو بھول جاتے ہیں بلکہ حد تو یہ ہے کہ آج یہ غدار و غاصب خاندان، امت اسلامیہ کی لیڈنگ کا دعویدار ہے۔  آج امت اسلامیہ کو سوویت  یونین کا ٹکڑے ہونا تو نظر آتا ہے مگر اسی سوویت  ، افغانستان ،  عراق ، بحرین    ، شام و یمن  میں موجودہ اسلامی اقدار کی دھجیاں اْڑتی ہوئی نظر نہیں آتیں ۔کیونکہ ہم نے اپنے و اپنے آقاؤں کے مفاد کے پیش نظر ایک طرفہ اصولوں کو اپنایا ہوا ہے ۔

1971 ء  میں  تو مشرقی پاکستان میں ہم لوگ  بنگالی ہندؤں کے نوکر و قرضدار تھے ۔بنگال کے تعلیمی ادارں پر ہندؤں کا قبضہ تھا ۔ نصاب  ایسا تھا کہ جس میں دو قومی نظرے کی نفی تھی  مگر ہم نے مسلسل  ا  پنی غفلت و بے حسی  کی طرف  دھیان نہ دیا  ۔یہاں تک کہ 16  دسمبر   نے ہمارے منہ پر ایک ایسا طمانچہ مارا کہ جس  کی شدّت  سے ملّت پاکستان کچھ دیر کے لیے سونا گویا بھول سی گئی۔

  ملّت پاکستان میں کچھ عرصے کے لیے بے چینی و اضطرابی کی لہر دوڑ ی مگر آہستہ آہستہ  لہو پھر سرد ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ  ملّت پاکستان  نے اپنی اس غفلت کو ایسے بھلایا کہ  گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔ آج ایک بار پھر میرا ملّت پاکستان  سےسوال ہے کہ کیا ہم نے کل کے 16 دسمبر  سے عبرت لی؟ کیا آج پھر ہم اکثریت میں ہونے کے باوجود ذہنی غلامی کا شکار نہیں ؟  کیا آج پھر ہمارےتعلیمی ادارے و تعلیمی نظام مغرب کے زیرِ اثر نہیں ؟کیا آج پھر ہمارے  نصابِ تعلیم  کا تعین ہمارا دشمن کرتا ہے  کیا آج پھر ہم اپنے شاہینوں کو خاک بازی کا درس نہیں دے رہے ؟ کیا آج ہمارے پاس ہماری خودی موجود ہے ؟

ہمیں ہر سال سولہ دسمبر کو شہید بچوں کے مزاروں پر جاکر اپنے دشمنوں کو پہچاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔  اگر ہم نے آج اپنے دشمن کو نہ پہچانا تو شاید کل کا طلوع ہوتا سورج ہم نہ دیکھ سکیں۔ دوستو سولہ دسمبر پھر آرہا ہے ہمیں یہ یاد دلانے کے لئے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں ، ہمیں اپنے وطن کی حفاظت کے لئے ہمیشہ بیدار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔


افکار و نظریات: دوستو, سولہ دسمبرپھر آرہا ہے