ڈاکٹر طارق حسین سومرو  کے قلم سے

لاڑکانہ پولیس کے SHO میران خان درانی نے رشوت عوض سات سیپٹمبر 2015کو شہر کے ایک مسکین اور غریب اسٹوڈنٹ تنویر حسین سومرو جو پڑھائی کے ساتھ ساتھ لاڑکانہ میں پرائیوٹ جاب بھی کرتا تھا۔ اس کو اس وقت اٹھایا جب وہ صبح کے وقت اپنی ڈیوٹی پے جارہا تھا۔

تنویر کو اٹھانے کے بعد میران خان درانی نے رشوت مانگی۔ مگر فیملی کی جانب سے انکار کیا گیا اور تنویر کے بھائی آصف حسین نے بھائی کی اغوا اور غیر قانونی پولیس ڈٹینشن کے خلاف ہائی کورٹ لاڑکانہ مین ایک پٹیشن نمبر ڈی_ 1009/2015 دائر کردی اور جیسے ہی پولیس عملدارون کو نوٹیسس جاری ہوِی تو وہ غصے میں آہ کے ایک جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر کرائیم نمبر 81/2015 پی ایس سول لائین لاڑکانہ سے سامنے لیکے آے۔

اس ایف آئی آر کا فریادی عابد رشید آرائین ھے۔ جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لاڑکانہ کا کنٹریکٹر ھے۔ یاد رھے عابد رشید سے بی آئی ایس پی کے 78 لاکھ روپے تاریخ 21 اپریل 2015 کو لاڑکانہ کے گنجان علائقہ رسول آباد پولیس چونکی کے بلکل قریب ھی پیسے چھینے گئے تھے۔ اس وقت عابد رشید نے کہا تھا کہ تین آدمی جو پولیس نمبر پلیٹ والی گاڑی مین سوار تھے پیسے چھینے اور فرار ہوگئے جب کہ جائی وقوع سے کوئی بھی گواہی نہ ملی تو اس وقت کے ایس ایس پی لاڑکانہ کامران نواز پنجوتہ نے واقعی کو ڈرامہ قرار دیکے عابد رشید کو لاکپ کردیا۔ بعد مین سیاسی مداخلت کے بنا پر عابد رشید کو رہا کیا گیا۔ اور ایس ایس پی لاڑکانہ نے ایک چار رکنی انویسٹیگیٹنگ ٹیم تشکیل دے دی۔ جس کے میمبرس میران خان درانی، یار محمد رند، سید جانی شاہ اور سدورو لاشاری تھے۔ جیسی ہی ٹیم تشکیل ہوئی تو پولیس نے گرمی دکھاکے  لوٹ مار کرنا شروع کردی جیسا پولیس کرتی ہے۔ اور اسی طرح تنویر سومرو بھی پولیس گردی کا نشانہ بن گیا۔

چلو تنویر ایک ماہ کے عرصہ سے زیادہ پولیس ڈٹینشن کے بعد اپنی بھائی آصف حسین کی پٹیشن نمبر ڈی 1009/2015 کے تحت ہائی کورٹ لاڑکانہ کے حکم پر تاریخ 9 آکتومبر 2015 کو بازیاب ہوگیا۔

مگر ایف آئی آر نمبر 81/2015 پی ایس سول لائین لاڑکانہ پے تنویر اور اس کے بھائی آصف جس نے تنویر کی بازیابی کی پٹیشن دائر کی تھی اس کا نام بھی ڈالا گیا، اندازہ کرو یہ ایف آئی آر نمبر 81/2015  تاریخ 10 سیپتمبر کو درج گی گئی تھی، جبکہ ڈکیتی تاریخ 21 اپریل 2015 کو ہوئی تھی مطلب پانچ مھینون کی تاخیر کے بعد اس کیس کو مینیج کرکے آیف آئی آر کاٹی گئی صرف اور صرف نیب سے بچنے کے لئے،کیون کہ بی آء ایس پی لاڑکانہ مین کی گئی کرپشن بھی نیب کی نظر ھونے والی تھی۔ 

بہرحال جب تنویر رکور ہوا تو اس کے جسم پے تشدت کے بہت سے نشانات تھے جو جانی شاہ اور میران خان نے مل کے کیا تھا، جو تنویر کے میڈیکل رپورٹ سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ایف آئی آر کرائیم نمبر 81/2015 کو ایک بہانہ بناکہ ایس ایچ او مھتاب کھاوڑ اور ای ایس آئی آفتاب ابڑو پی ایس سول لائین لاڑکانہ اپنی نفری کے ساتھ تاریخ 18 سیپتمبر 2015 کو ڈاکٹر طارق حسین سومرو کے گھر کی چادر اور چودیواری کا تقدس پائمال کرتے ہوے گھر مین غیر قانونی اور غیر اخلاقی طریقی سے داخل ہوکے لوٹ مار کی اور قیمتی سامان بھی اٹھاکے لیگئے۔ اس وقت ڈاکٹر ملک سے باہر تھا جو تنویر اور آصف کا بڑا بھائی ہے۔

تنویر کی غیرقانونی پولیس کی طرف سے ڈٹینشن اور گھر مین گس کے ڈاکہ ڈالنی کی خبر کا سن کے جب مین سعودی عرب سے ایمرجنسی چھٹی لے کے پہنچا اور پولیس سے ملا تو کوئی بھی خاطر خواہ جواب نہ ملنے پے میری جانب سے بھی ھاء کورٹ لاڑکانہ مین ایک پٹیشن نمبر ایس 1130/2015 دائر کردی گئی جس پے میران خان درانی، مھتاب علی کھاوڑ اور آفتاب ابڑو کے خلاف ایف آء آر داخل کرنے کا کورٹ کی جانب سے حکم ملا، مگر اس وقت پی ایس ولید لاڑکانہ کے ایس ایچ اور خلیل الرحمن مسن نے نہ فقط کورٹ آرڈر کی بیحرمتی کی بلکہ فریادی کی بھی تذلیل کی اور ایف آء آر داخل کرنے سے جواب دیدیا،کیون کے وہ اپنے پٹی بھائیون کو بچانا چاھتا تھا۔ جس پے خلیل مسن کے خلاف کورٹ کنٹیمپ بھی چل رھی ہے۔

بعد مین ایش ایچ او خادم حسین بلیدی نے ایف آء آر نمبر 123/2016 پولیس عملدارون کے خلاف داخل کردی۔ مگر سجاد بھٹی کیس کا انویٹیگیٹنگ آفسر جس نے اچھے پے کالا اور کالے پے اچھا لکھ کے ایک سچے حقیقت کو جھوٹ مین تبدیل کرکے کیس کا بی کلاس چالان کورٹ مین پیش کیا، جس پے عدالت راضی نہ ہوئی اور مجبورن پولیس کو چالان پیش کرنا پڑا۔

اس دوران یہ عملدار پروموٹ ہوکے انسپیکٹرس بھی بن گئے، مگر جیسی ہی لاڑکانہ پولیس کی غیر قانونی حرکات کا محترم آء جی صاحب سندھ کو پتا چلا تو انہون نے پولیس والون کو رورٹ کردیا مگر لوکل پولیس کی مداخلت کے عیوض ان کو دوبارہ پروموشنس دے کے تھانون پے تعینات بھی کردیا گیا۔

اب یہ لوگ تھانون کے مالک ہین ان کو جو ذہن مین آتا ہے کرتے ہین، ہمین ان لوگون سے بہت خطرات لاحق ہین، ہم کو خوفزدہ کرنی کی بھرپور کوشش کرتے ہین اور کہتے ہین کہ کیسس کو فالو نہ کرو ورنہ مارے جائو گے ۔۔۔۔۔

بہت اچرج اور حیرانگی کی بات یہ بھی ہے کے جس طرح پولیس نے آصف کا نام ایف آء آر مین شامل کیا صرف اور صرف بیگناہ بھائی کی رکوری کرنے کے لیے پٹیشن دائر کی تھی، اس سے بھی زیادہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس کرائیم مین اس پڑھے لکھے بندے کو بھی نہین بخشا جو پاکستان مین موجود ہی نہین تھا۔

یہ ہے لاڑکانہ پولیس کی بدنیتی اور پولیس گردی جس نے تین سگی بھائیون کو ایک ہی وقت تباہ کرنے کی مکمل کوشش کی۔

اس کیس مین میران خان درانی ماسٹر مائیڈ ہے، جو عابد رشید سے ملا ہوا تھا اور اب بھی ملا ہوا ہے،اور ان سب کو جان دینے والا لاڑکانہ کا صحافی طارق محمود درانی بھی ہے، جس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ جب میران خان درانی اور عابد رشید نے مل کے مجھ پے اٹیک اور اغوا کرنے کی کوشش کی جس کی کمپلین جب ایس ایس پی لاڑکانہ اور کورٹ مین دی گئی تو میران خان درانی کو جیل کسٹڈی بھی کیا گیا، تو صحافی طارق محمود درانی جو میران خان کا بھانجا بھی ہے تو سوشل میڈیا کی ویب سائیٹ فیس بوک پے ایک جھوٹی آء ڈی سچی بات کے نام سے بناکے نہ فقط ہمین معاشرے میں رسوا کرنے کی کوشش کی مگر گالیان بھی دی۔ ۔۔۔۔

یہ ہے مختصر خلاصہ کرائیم نمبر 81/2015 پی ایس سول لائین لاڑکانہ کا اور جس مین اہم کردار عابد رشید آرائین، میران خان درانی اور طارق محمود درانی ہین۔

اور یاد رھے کہ انسپیکٹر میران خان درانی، انسپیکٹر مھتاب علی کھاوڑ اور آفتاب ابڑو کے خلاف ایک ٹرایل کیس سیشن کورٹ لاڑکانہ مین کیس نمبر 123/2016 بھی چل رہا ہے۔

ھاء کورٹ لاڑکانہ مین ان ہی لوگون اور عابد رشید کے خلاب کرمینل روین نمبر 10/2016 چل رہی ہے۔

صحافی طارق محمود درانی کے خلاف فورتھ ایڈیشنل جج لاڑکانہ مین سوٹ فار ڈمیجز کا کیس بھی چل رہا ہے۔

ہمین بہت خطرات ہین ان لوگون کو نظر مین رکھا جائے، ہمین تحفظ دیا جائے، ان لوگون کو سزا دی جائے تاکہ اور زندگیان ویران ہونے سے بچ جائین۔

ڈاکٹر طارق حسین سومرو لاڑکانہ۔

سابقہ رزیڈنٹ میڈیکل آفیسر انٹرنل میڈیسن کنگڈم آف سعودی عریبہ

03453854833


افکار و نظریات: لاڑکانہ پولیس کے مظالم