نظریہ پاکستان  اور آج کا پاکستان

تحریر: ایس ایم شاہ

مملکت خداداد پاکستان اسلام کے نام پر دو قومی نظریئے کے تحت معرض وجود میں آیا۔ پاکستان کی تشکیل کے بعد مسلمان سکھ کا سانس لینے لگے، مذہبی آزادی نے آئین میں اپنی جگہ بنا لی۔ شہری حقوق میں تمام اسلامی مسالک کو بدون تفریق برابر کے حقوق حاصل ہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے اسی لئے دن رات ایک کرکے مسلمانوں کے لیے ایک الگ مملکت کی تشکیل کو یقینی بنایا کیونکہ ہندو اور مسلمانوں میں نہ زبان مشترک ہے، نہ دین میں کوئی اشتراک پایا جاتا ہے، نہ ان کے رہن سہن کے طور طریقے آپس میں ملتے جلتے ہیں اور نہ ہی ثقافت و اقدار ایک ہیں۔

 جس نظریئے کو علامہ اقبال نے مسلمانوں کے الگ وطن کے طور پر پیش کیا تھا، قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے اس فکر کو عملی جامہ پہنایا۔پشاور میں اپنے ایک خطاب میں بانی پاکستان نے کہا کہ میں نے صرف زمین کا ایک ٹکڑا لینے کے لئے پاکستان نہیں بنایا بلکہ میں یہاں اسلامی اصولوں کو آزمانا چاہتا ہوں۔ اسلام میں کسی کالے کو گورے پر، امیر کو فقیر پر کوئی فوقیت حاصل نہیں بلکہ اسلام کی رو سے وہی سب سے زیادہ باعزت ہے، جو تقویٰ و پرہیزگاری میں سب سے بہتر ہو، سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ دن بدن باہمی اتحاد و اتفاق کو فروغ ملا، مسلمان خوشحال زندگی بسر کرنے لگے، یہاں تک کہ جو مسلمان تقسیم ہند کے بعد بھی ہندوستان میں رہ گئے، وہ بھی پاکستانی مسلمانوں کی بہتر حالت دیکھ کر رشک کرنے لگے، آئین پاکستان کے نام سے ایک مکمل قانونی ڈھانچہ 73ء میں طے پایا۔ جسے مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر نے من و عن قبول کیا۔ جس کی جامعیت پر آج تک کوئی حرف نہیں اٹھایا جاسکا۔

پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی پاکستان سے دشمنی کا سفر بھی جاری رہا  اور پاکستان کے خلاف  ہر طرف سے سازشیں بھی شروع ہوگئیں،۷۱ کے بعد اسی سے نوے کی دہائی میں دوبارہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے اور پاکستان کو توڑنے کا کام شروع ہوا، ، امریکہ نے جنرل ضیاء الحق کو اپنے مقاصد کے لئے بھرپور استعمال کیا۔ دن بدن مذہبی شدت پسندی فروغ پانے لگی، آہستہ آہستہ افغانستان میں طالبان کو بھی وجود میں لایا گیا، وہاں پر امریکہ اور روس کی پراکسی وار جب ختم ہوگئی تو جنرل صاحب نے ان نام نہاد مجاہدوں کو پاکستان میں خوش آمدید کہا۔

 اب فی الحال ان کے پاس کوئی محاذ جنگ تو تھا نہیں، لہذا انہوں نے مملکت خداداد میں ہی اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ خودکش دھماکوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ روز بروز مسلمانوں میں نفرتیں پروان چڑھنے لگیں، آہستہ آہستہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے مدمقابل آنے لگے، یہاں تک کہ ایک خاص گروہ نے اپنے علاوہ دوسرے تمام مسلمان مکاتب فکر کی تکفیر کرنے سے بھی گریز نہیں کیا، اب  نہ مسجدیں محفوظ رہیں، نہ ہی بارگاہیں اور نہ امام بارگاہیں، نہ بازار میں امن کا سماں باقی رہا اور نہ پارک اور دوسرے تفریحی مقامات میں امن کی فضا حاکم رہی۔ دو قومی نظریئے کے تحت تشکیل پانے والے اس ملک کے باسی مسلمان اب جہاد کے نام سے دوسرے مسلمان کے گلے کاٹنے لگے، یوں نفرتوں کی فضا حاکم ہوتی گئی اور نظریہ پاکستان منہدم ہوتا چلا گیا۔

بعد ازاں پاک فوج نے ان ملک دشمن عناصر کو سرکوب کرنے کے لئے کافی قربانیاں بھی دیں، لیکن اب یہ تکفیری سوچ ایک منظم صورت اختیار کر چکی ہے، جس کی وجہ سے ابھی تک اس کا خاتمہ ممکن نہ ہوسکا، قربانیوں کا یہ سلسلہ اب بھی برقرار ہے۔

 وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسی تنگ نظر ٹولے نے بیرونی قوتوں سے مدد لیکر حکومتی ایوانوں، مختلف سیاسی پارٹیوں اور صحافت کے میدان میں بھی اپنے قدم جما لئے اور وسیع پیمانے پر تنگ نظری کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی، اخبار والے بھی بلا تامل ان کی باتوں اور احکامات کو اپنی سرخیوں میں جگہ دینے لگے۔

بحیثیت قوم ہم سب کو یہ احساس کرنا چاہیے کہ ملک دشمن عناصر کا مقابلہ فقط  ضرب عضب یا ردالفساد جیسے آپریشنز سے ممکن نہیں، ملک دشمن عناصر سے نجات کے لئے مسلمانوں کے  درمیان شعور و  بیداری اور  باہمی اتحاد کے فروغ کے لئے منظم کوشش کی ضرورت ہے۔