یہ روشن خیال طبقہ

ماھیا تاں راسی جدو تھنی کٹا راسی۔یہ ایک مشہور پنجابی کہاوت ھے کہ بگڑا عاشق تب باز آئیگا جب وہ منہ کی گھائیگا۔ اب یہ بتانے کی تو قطعاً ضرورت نہیں کہ یہ ماھیہا نواز شریف کے علاوہ کوئی اور نہیں۔ نئی حماقت یہ کی کہ اسلام آباد ھائی کورٹ کے کندھے پر ھنوز بندوق رکھے بار بار آرمی پر فائر کیا جا رھا ھے۔

ماھیہے کی شدید خواھش ھے کہ آرمی اسے سیاسی شھید بنا ھی ڈالے۔لیکن یہاں مزے کی بات یہ ھے کہ اسدفعہ ماھیہے کی تھنی کوٹنے کے بجاۓ اسکی بچگانہ حرکات پر صرفِ نظر کرنا ھی اسکا منہ توڑنے کے برابر ھے۔

لیکن مجھے جو حیرت پاکستانی لبرل اور روشن خیال طبقے کے خیالات اور ردعمل پر ھے اتنی ھی مولانا خادم حسین کی گالیوں پر ھے۔لیکن کم ازکم مولانا صاحب کے پیچھے لوگ تو ھیں۔ یہ لبرل تو صرف کمر لچکا کر آرمی کو مغلظات بک سکتے ھیں اور انکے گھر کے اپنے لوگ بعد میں معافیاں مانگتے پھرتے ھیں اور لاتعلقی کا اظہار کرنے پر مجبور ھیں۔

دوسری طرف روشن خیال پاکستانیوں کو بڑی زور سے پارلیمان اور عدلیہ کی حاکمیت کا درد اٹھا ھے۔ کیایہ وھی پاکستانی عدلیہ نہیں جہاں وکیل کرنے کے بجاۓ جج کرنے کا رواج تو ابھی کل تک ترو تازہ تھا۔ اور کیا یہی پارلیمان نہیں جو ایک کرپٹ ترین سیاستدان کو پارٹی کا سربراہ رکھنے پر بضد ھے۔ جمہوریت کے نام پر جو گند ھم عوام کے سروں پر مسلط ھے وہ ھر ذی شعور بخوبی جانتا ھے۔

ھمارا اصل مسئلہ ھماری آدھے تیتر اور آدھی بٹیر والی ذھنیت ھے۔ نہ تو ھم سارے جمہوری اقدار اپنانا چاھتے ھیں جہاں پارٹی کا صدر پارٹی ورکرز کو اور ملک کا سربراہ عوام کو جوابدھ ھو۔ ھم اسوقت جمہوریت جو آواز دینے لگتے ھیں جب انصاف اور احتساب کا پھندہ ھمارے گلے تک آجاتا ھے۔ اور دوسری طرف ھم لبرل کمر لچکانے کو تو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ھیں لیکن اسلام کی اساس پر حملہ ھو تو ملا کو احتجاج کا حق تک نہیں دیتے؟

ایک اور نام نہاد روشن خیال گویا ھوۓ اسلام تو ذاتی حد سے آگے ھونا ھی نہیں چاھیئے۔ یعنی اسلام ھم سب کا ذاتی معاملہ ھے؟ چلو چھٹی ھوئی۔۔۔دو نظریہ قومی کی ایسی گت کوئی ھندو انتہا پسند کیا بنائیگا جو ان صاحب نے بنا کر رکھ دی۔ بھئی اگر اسلام ذات تک ھی محدود ھونا ھے تو پھر یہ کیا پاپڑ بیلنے لگے ھو ستر سال سے۔ سیدھا سیدھا نیو ورلڈ آرڈر کو گلے لگاٶ۔ ھفتے میں پانچ دن کام کرو اور ویک اینڈ پر حیوان بن جاٶ۔ اور اگلے ویک اینڈ کا انتظار کرو۔۔۔لبرل اور روشن خیال اور مذھب سے مادر پدر آزاد معاشرے کو پچھلے پچیس سال سے تو میں دیکھ رھا ھوں۔ اور حیران ھوتا ھوں جب یہ دیسی نام نہاد لبرل اور روشن خیال سارا زور آکر مذھب پر توڑتے ھیں جیسے ساراقصور مذھب کا ھی تو ھے!

بس اس ملک کے نظام کی دیگ میں ھر کوئی اندھا دھند بھانت بھانت کے چمچے چلاۓ جارھے ھیں۔جناب ھماری اپنی ثقافت، اپنی تہذیب، اور مذھبی روایات ھیں۔ یہ ملک انھیں بنیادوں پر چلائیے۔ اگر آپ کے پاس عوام مینڈینٹ

آھی گیا ھے تو اسے اول تو ان بنیادی روایات سے چھیڑ خانی کیلۓ استعمال نہ کریں اور اگر بحالت مجبوری آپ کے پیٹ کے درد کو افاقہ ان روایات سے چھیڑ خانی کرنے سے ھی ھوگا تو پھر ان معاملات کو آیئنی ترمیم کے ذریعے کھلے عام پیش کریں اور پارلیمان میں سیر حاصل بحث کروا لیجئے۔ لیکن آپ کو یہ بھی منظور نہیں اور کام چوری چھپے انتخابات کے قوائد وضوابط بدلنے کے پردے کے پیچھے کیا جا رھا تھا۔

یوں عوام کا احتجاج تو بنتا ھے۔ شومئی قسمت سے عوام کی خاموش اکثریت کی نمائندگی مولانا خادم رضوی جیسے بدزبان شخص کر رھے ھیں۔ لیکن ختم نبوت پر انکا مٶقف بالکل درست ھے۔ اب بھانت بھانت کی بولیاں ھیں کہ مولویوں نے پیسے پکڑ لیۓ۔کچھ کا خیال ھے فوج سے پکڑے اور کچھ کا خیال ھے نون لیگ نے اندر خانے پکڑوا رکھے ھیں۔ ھمارا خیال ذرا مختلف ھے۔ اور وہ یہ ھے کہ ملک میں مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں نے وہ لٹ مار مچائی ھوئی ھے کہ اب عوام اس جینے کے ھاتھوں مر چلے والی حالت میں ھیں۔ عوام اب تبدیلی چاھتے ھیں۔ عمران خان نے صحیح وقت پر درست نعرہ لگایا اور عوام کی حمایت سمیٹ لی۔ لیکن پھر وہ جہاز اور پیسے والوں کے ایسے اسیر ھوۓ کہ عوام کے سامنے برھنہ ھوگۓ۔مزید کسر ایمپائر کی انگلی نے نکال دی۔ اب ایسے میں جو خلا پیدا ھوا وہ اگر ایک مذھبی مسئلے کو لیکر مولوی پٌرکرنے آۓ ھیں تو انکا آگے آنا سمجھ میں آتا ھے۔

بہرحال ملک کی خاموش اکثریت ختم نبوت پر مصالحت نہیں کرے گی چاھے اسلام آباد ھائی کورٹ کتنابھی زور لگا لے۔ لیکن ھم سمجھتے ھیں کہ معاملہ وھی سیاسی شھید بننے والا ھے اور آرمی کو گھسیٹا جا رھا ھے۔ اور ھمارے وہ معصوم ساتھی ختم نبوت پر پارلیمان میں سیاست سیاست کھیلنا چاھتے ھیں انکو مشورہ ھے کہ ختم نبوت پر عوامی ریفرنڈم کروالیں۔ ھمیں بھی تو پتہ چلے کہ ھم پاکستانی کتنے لبرل بن چکے ھیں؟؟؟


افکار و نظریات: ہم کتنے لبرل ہیں, محبوب اسلم