حب الوطنی  کا مفہوم اور ہماری ذمہ داریاں

*شہک رند*

جس فیلڈ میں کام کر رہے ہیں اس میں پوری مخلصی کے ساتھ پاکستان کا مفاد سامنے رکھ کر کام کرتے رہیں اللہ برکت دے گا۔ ملک کےلیے قربانی دینا بڑے وسیع معنوں کا حامل ہے۔ یہ صرف اسی بات تک محدود نہیں ہے کہ آپ کسی ادارے میں آکر پاکستان کےلیے جان قربان کر دیں۔ ملک کی خدمت سڑک کنارے ریڑھی لگا کر چنے بیچتا وہ شخص بھی کر رہا ہے جو غربت اور مہنگائی کے باوجود ملاوٹ نہیں کرتا۔

 ملک کی خدمت وہ کلرک بھی کر رہا ہے جس کے بچے گھر بیمار ہوں لیکن وہ رشوت نہ لے۔ ملک کی خدمت ناکے پہ کھڑا وہ پولیس مین بھی کر رہا ہے جو اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے سر انجام دے رہا ہے۔ ملک کےلیے وہ بوڑھا کسان بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے جو اپنی فصل کو چوری کا پانی نہیں دیتا۔ گھر میں برتن دھوتی وہ عورت بھی ملک کی خدمت کر رہی ہے جو پانی ضائع ہونے سے بچاتی ہے۔ خدا وہ وقت نہ لائے جب اس ملک کی خدمت کےلیے عام شہریوں کی جان کی قربانی مانگی جائے اس کےلیے تو مسلح ادارے پہلے سے موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا عام پاکستانی اس ملک کی عزت کا بھرم رکھے۔ وہ اپنی سطح پر کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے اس ملک کا نقصان ہو۔

 وہ اس ملک کو نقصان دینے والے عوامل کا تدارک کرے۔ وہ اپنے اردگرد موجود پاکستانیوں کو یہ شعور دے کہ یہ کام کرنے سے ہمارے ملک کو نقصان پہچنتا ہے۔ ایک پاکستانی کے محلے میں کوئی دکاندار ملاوٹ کرتا ہے تو وہ اسے سمجھائے کہ بھائی ملاوٹ اسلام میں حرام ہے اور اس سے ہمارے ملک کا بھی نقصان ہے۔ کوئی آلودگی پھیلا رہا ہے تو اسے بتائیں کہ بھائی اسلام کہتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور ہمیں اپنے ملک کو صاف کرنے کی ضرورت ہے۔

پاس پڑوس کے کسی سرکاری دفتر میں کوئی رشوت لیتا ہے تو اہلِ علاقہ مل کر اسے روکیں۔ گلی محلے کی کوئی نالی کیچڑ جمع ہونے کی وجہ بند ہو چکی ہے اور گندا پانی سارا محلہ آلودہ کر رہا ہے تو اسے چھ چھ ماہ پھیلانگ کر گزرنے کے بجائے لوگوں کو اکھٹا کر کے اسے خود صاف کر دیں۔

یہاں ہم لوگ اس ملک کےلیے جان قربان دینے کی قسمیں کھاتے ہیں دعوے کرتے ہیں مگر عملی طور پر ہم اپنے گلی محلے کی بہتری کےلیے بھی کچھ نہیں کرتے۔ تمام وہ لوگ جو اس ملک کےلیے جان قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں ان کے جذبوں کو ہم سلام پیش کرتے ہیں۔ پر ملک کےلیے کام کرنا یہی ہے کہ اپنے گھر اپنے گلی اپنے محلہ اپنے قصبے اپنے شہر کی سطح سے کام شروع کیا جائے۔ جو جو جس جس مقام پہ اپنا کام کر رہا ہے وہ اللہ کی رضا کی خاطر اسے ایمانداری اور خلوص سے کرے تو اس کا مجموعی فائدہ اس ملک کو ہی ہو گا۔ ہم جانتے ہیں کہ اس ملک سے محبت اس ملک کے عوام میں کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے۔ لیکن اس ملک سے عملی محبت یہی ہے کہ اپنی سطح پر رہتے ہوئے اپنے ماحول اور گرد و پیش کی بہتری کےلیے کام کیا جائے۔ مت دیکھا جائے کہ کسی ادارے میں جائیں گے تو ہی اس ملک کےلیے کام کریں گے۔

 بابا جب اس ملک کا ہر شہری اپنے اپنے طور پر اس ملک کی بہتری کےلیے کام کرے گا تو فائدہ اس ملک کو ہی ہو گا۔ عہد کر لیں خود سے کہ میں اپنے روز مرہ معمولات میں روزانہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کیا کروں گا جو میرے ماحول کےلیے بہتر ہو۔ خواہ وہ اپنی گلی سے کچرے کا ایک شاپر اٹھا کر ٹھکانے لگانا ہی کیوں نہ ہو۔ قطرے قطرے سے ہی دریا بنتا ہے۔  اقبالؒ نے فرما دیا نا کہ

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

 لوگوں آپ سب کے سب ہی اس ملت کے مقدر کے ستارے ہو۔ کرنا بس یہی ہے کہ اپنے حصے کی روشنی تقسیم کرنی ہے۔ پاکستان کی سڑک کو صاف کرتا ایک خاکروب اپنے حصے کی روشنی تقسیم کر رہا ہے۔ ٹاٹ کے سکول میں بغیر کرسی کے کھڑا ایک استاد اگر ایمانداری سے بچوں کو تعلیم دے رہا ہے تو وہ اپنے حصے کی روشنی بانٹ رہا ہے۔ گمان کریں اگر پاکستان کے بائیس کروڑ شہری اسی جذبہ سے کام شروع کر دیں تو یہ ملک ایک سال میں کتنی ترقی کرے گا۔ بس عمل کی ضرورت ہے عمل شروع کریں برکت خدا دیتا ہے۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔ یہی ملک کےلیے کام کرنا ہے اور یہی حب الوطنی ہے۔


افکار و نظریات: حب الوطنی کا مفہوم اور ہماری ذمہ داریاں