ڈاکٹر شفقت شیرازی

اسلام کا پیغام برصغیر میں صدیوں پہلے پہنچا۔ مسلمانوں نے اس سرزمین پر اپنے عالی اخلاق، رواداری اور پیار و محبت کی ایسی مثالیں اور عملی نمونے پیش کئے کہ خطے میں رہنے والے ہندو اور سکھ ان سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے ہزاروں سال پرانے اپنے ادیان کو ترک کیا اور جوق در جوق دائره اسلام میں داخل ہوئے۔ ہندوستان کے مسلمان باہمی اخوت اور محبت سے رہتے تهے۔ شیعہ اور سنی فکری و عقائدی اور فقهی اختلافات رکهنے کے باوجود آپس میں باہمی اخوت کے مضبوط رشتے میں ﺟﮍے ہوئے تھے۔ ایک ہی گهر میں ایک بھائی اہل سنت تھا اور دوسرا شیعہ۔

گھروں میں گرما گرم بحث ہوتی تھی اور ہر شخص اپنے دلائل اور برهان بیان کرتا تھا، لیکن یہ اختلاف، اختلاف نظر اور اختلاف رائے سے تجاوز نہیں کرتا تھا۔ برصغیر کے شیعہ اور سنی دونوں بهائیوں نے ملکر آزادی کی تحریک چلائی اور انکی باہمی اخوت اور محبت کے جذبے اور شانہ بشانہ طولانی جدوجہد سے پاکستان معرض وجود میں آیا۔

 پاکستان کی تعمیر و ترقی اور دفاع کیلئے دونوں بهائیوں نے قربانیاں دیں اور وطن عزیز کو مستحکم کیا۔ یہاں تک کہ برطانوی جاسوس مسٹر ہمفر کا تخلیق کرده تکفیری اور متعصب اسلام پاکستان کے مسلمانوں میں سرایت کرنے لگا، محقیقین آج بھی برطانوی جاسوس مسٹر ہمفرے کے  اعترافات نامی کتاب اٹھا کر پڑھ سکتے ہیں۔

یہ مسٹر ہمفرے کی فکر تھی کہ جس نے بھائی کو بھائی سے لڑانے کا سلسلہ شروع کیا۔اس لڑائی کا آغاز تو کفر و شرک کے فتووں سے ہوا، لیکن جب روسی استعمار برادر ہمسائیہ ملک افغانستان میں وارد ہوا اور  دوسری طرف ایرانی عوام نے اڑھائی ہزار سالہ شهنشاہیت سے نجات حاصل کی، تو ہمفرے کے ہمفکر  گروہ نے پاکستانی مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کے لئے مناسب موقع سمجھا۔

 اس وقت ایک تو ایران سے  امریکہ کے تابعدار بادشاہ کا تختہ الٹ چکا تھا اور دوسری طرف امریکہ کا دشمن روس افغانستان میں وارد ہوگیا تھا۔ اب عربوں کو ہمفریوں نے ڈرایا کہ اگر  شیعہ و سنی مل کر پاکستان کی صورت میں  نیا ملک بنا سکتے ہیں اوراگر مسلمان بیدار ہوجائیں تو شہنشاہِ ایران کا تختہ الٹ سکتے ہیں تو  پھر باقی یہ چھوٹے موٹے بادشاہ تو ان کے سامنے کچھ بھی نہیں۔

چنانچہ پوری دنیا میں جہاں مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئے شیعہ سنی میں تقسیم کیا گیا وہیں ایران کے انقلاب کو بھی شیعہ انقلاب کہا گیا تاکہ سنی مسلمان اس انقلاب سے آمروں کے تختے الٹنے نہ شروع کر دیں۔

 مسلمانوں میں بیداری کو محسوس کرتے ہوئے عراق کے ڈکٹیٹر صدام نے ایران پر حملہ کردیا تاکہمسلمان شیعہ سنی میں تقسیم ہو جائیں اوردوسری طرف پاکستان میں روسی مداخلت کو روکنے کیلئے فقط اور فقط ہمفرے کے ہمفکر افراد  کواسلحے سے لیس کیا گیا۔بظاہر عوام کو یہ بتایا گیا کہ  انہیں کشمیر کی آزادی اور روس کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح کیا گیا ہے۔

 ہر قسم کی عسکری تربیت اور جنگی اسلحہ فراہم کیا گیا، جس کا اعتراف خود سابقہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے امریکن کانگریس سے خطاب کے دوران کیا۔ "کہ ہم نے تکفیری گروہوں کو طاقتور اور مسلح کیا۔" روس کے پسپا ہونے کے بعد اب یہ گروه پاکستان کے وسیع و عریض علاقون پر قابض ہیں۔ کشمیر تو  آزاد نہ ہوا لیکن مختلف ممالک کے امریکی اور سعودی فنڈڈ لوگ فقط پاکستان کے وسیع و عریض علاقون پر قابض ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا امن و امان خراب کر رہے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ، قتل و غارت، بم دھماکے، اغوا برائے تاوان اور خودکش حملے کرنا انکا وطیره بن چکا ہے۔

  ملکی سرحدوں کی امین پاک فوج اپنے ہی گهر میں ذبح ہو رہی ہے۔ اسی طرح پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز بهی نہتے عوام کیطرح آئے دن انکے ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔

 

سچائی کو چھپانے کے لئے منافقین نے لوگوں سے کہا کہ یہ ایران و سعودی عرب کی پراکسی وار ہے!

 پاکستان میں ایسے ہزاروں سنی اور شیعہ  قیمتی مسلمانوں، اعلی! بیوروکریٹس، وکلا، ادبا اور شعرا  کو قتل کیا گیا، جن کا کہیں دور سے بھی ایران سے کوئی رابطہ اور تعلق نہیں تھا۔ انہیں سعودی فنڈڈ مسلح گروہوں کی طرف سے ملک کے سکیورٹی مراکز اور پاک آرمی بیسز اور جی ایچ کیو پر بھی حملہ ہوا، ان فوجی جوانوں کا ایران سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ایرانیوں کو پاکستان سے متنفر کرنے کے لئےپاکستان میں کبھی زیر تعلیم ایرانی کیڈٹس کو قتل کیا گیا اور کبھی ایرانی ڈپلومیٹس کے جناز بھیجے گئے، لیکن کوئی ثابت کرے کہ پاکستان کی سرزمین پر ایران نے کسی ایک سعودی کو قتل کروایا ہو۔ یہ سب یکطرفہ قتل و غارت ہے جسے پراکسی وار کا نام دے عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔

 اگر تعصب کی عینک اتار کر گذشتہ تیس سال سے پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کا جائزه لیا جائے اور پاکستان میں شہید ہونے والے انسانوں کو شمار کیا جائے تو ہم  دیکھتے ہیں کہ یہا غیرمسلموں کی عبادت گاہوں پر بھی حملے کئے گئے ، قائداعظم کی ریذیڈنسی پر بھی حملہ کیا گیا،آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں کو شہید کیا گیا، اور جنت البقیع کے بعد ابھی حالیہ چند سالوں میں بزرگ صحابہ کرام  مانند حضرت ابو ایوب انصاریؓ اورحضرت اویس قرنیؓ  تک کے مزارات اڑا دئیے گئے کیا آرمی پبلک سکول کے بچوں اور صحابہ کرام ؓ کا تعلق ایران سے تھا۔

ہمیں اب تو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے اور اپنی ملت کو سچ بتانا چاہیے کہ یہ سب قتل و غارت ، پاکستان اور عالم اسلام کے خلاف یکطرفہ طور پر منافقین کی ایک سازش ہے  اور ہماری سر زمین پر  کسی قسم کی پراکسی وار نہیں ہے۔

ہمیں مل کر اس لہو لہو پاکستان کو منافقین کے پاکستان کے بجائے قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پر امن اور سرسبز پاکستان بنانا ہوگا۔

 

 


افکار و نظریات: منافقین کا پاکستان