کامران کورائی

دادو میں ہسپتالوں کے خراب  حالات کے خبریں تو کئی سالوں سے سب سنتے چلے آ رہے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں سنا تھا کہ  ڈیوٹی میں غفلت کرنے والے ڈاکٹروں کو ایم ایس سمیت حوالات کا منہ دیکھنا پڑا  ہو، اسی طرح محکمہ تعلیم میں بدعنوانیوں  کا سسٹم چلنے کا تو سب نے سنا ہوگا لیکن اس سے پہلے  یہ کسی نے نہیں سنا ہوگا  اپنے فرائض  انجام نہ دینے والے اساتذہ کو جیل کی ہوا کھانی پڑی ہو۔

آپ شاید اس طرح کی خبریں تو سنتے رہتے ہوں گے کہ فلاں گاوں میں ایک سکول ٹیچر کو بدمعاشوں نے ہراساں کیا لیکن ایسی خبریں آپ تک کم ہی پہنچی ہونگی کہ ہراساں کرنے والے بدمعاشوں کو کسی نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا ہے۔

آپ نے پٹواریوں کی کرپشن کہ قصے تو اخباروں میں  بہت پڑھے ہونگے لیکن ایسا کم ہی پڑھا ہوگا کہ کوئی پٹواری رنگے ہاتھوں گرفتار ہوگیا ہو۔

یقین جانئے ہماری اس ارضِ پاکستان پر  شکر الحمداللہ سیشن جج اشوک کمار نے یہ سب کر دکھا یا ہے۔ظاہر ہے اس راستے میں مشکلات تو آتی ہیں،جب بدعنوان عناصر کی دم پر پاوں آیا تو انہوں نے  سیشن جج اشوک کمار کے خلاف بھیسازشوں کا بازار گرم کیااور ہڑتالیں کر کے ہسپتالوں کو بند کرنے کا ڈرامہ بھی رچایا لیکن پاکستان کے بہادُر بیٹے اشوک کمار نے اپنے صبر وتحمل کے ساتھ ہر سازش کا مقابلہ کیا اور دھرتی کے غدار بدیانتوں کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔  

یہی وجہ ہے کہ عوام علاقہ اشوک کمار کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے اس دیانتدار اور بہادر جج کے حق میں نعرے لگائے۔

اشوک کمار پورے صوبہ سندھ کے افیسروں کے لئے ایک بہترین نمونہ ہیں اور عوام ان کی جرات و بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔


افکار و نظریات: دادو کے سیشن جج کی استقامت