محبت

 ....... گلزار حسین فکشن رائٹر....

محبت ایک ایسا احساس ہے جوانسان کو انسان کی تکریم سکھاتا ہے. جو انسان کو خدا کے قریب لاتا ہے..محبت کرنے والا انسان بہت ہی بلند مرتبہ کا مالک ہوتا ہے. انسان کی ابتدا سے ہی جو تربیت ہوئ اس میں محبت نے ہی اسے خدا کا لاڈلا بنادیا اسی لیۓ تو کہا جاتا ہے کہ انسان جتنا بھی میلا کچیلا ہو کر واپس خدا کی بارگاہ میں آجاۓ اسے دھو کر پاک کردیا جاتا ہے. اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ یہ محبت ہی ہوتی ہے جو انسان کو دھو کر دوبارہ خوبصورت بنا دیتی ہے,  یہاں ایک تو یہ معلوم ہوا کہ خدا بندے سے بے حد محبت کرتا ہے.

کیونکہ اگر وہ محبت نہ کرتا ہوتا تو معافی کے دروازے فی الفور بند فرما دیتا, لیکن ایسا نہیں. کیونکہ.........

اللہ اپنے بندے سے اتنا پیار کرتا ہے کہ بندہ شمار تو شمار سوچ نہیں سکتا..........

زرا سوچیئے تو....

معذرت کے ساتھ.....  معاف کیجیۓ گا.....

کیا خادم رضوی صاحب امت مسلمہ کو بخشوائیں گے...

کیا ان کا لب و لہجہ انسانیت سے محبت کا درس دیتا ہے. کیا ان کے بیانات میں اشتعال نہیں, کیا وہ فرقوں کو اسلام پہ حاوی قرار نہیں دیتے... اگر آپ مجھے گستاخ خادم صاحب کہہ کر مروا دینا چاہیں تو تب بھی میں یہی کہوں گا کہ   اسلام محبت کا درس دیتا ہے.

خدا کی قسم میرے اسلام کی تاریخ میں کبھی انسانیت کو مسمار کرنے کی تربیت نہیں دی گئ.....

حکومت گرانے کے بعد آپ کیا کریں... کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا یہی تقاضا ہے کہ ملک پاکستان میں جیسے جی چاہے اپنی مرضی سے گالیاں دی جائیں.

افسوسناک بات تو یہ ہے کہ لوگ جلسے جلوس میں پہنچ جاتے ہیں لیکن اپنے ہمساۓ کی مدد کرنے نہیں پہنچتے. کیا یہی اسلام ہے جو سڑکوں پہ چوکوں میں آپ اور میں سمجھا رہے ہیں یا پھر وہ اسلام ہے جس میں شعب ابی طالب گھاٹی میں محصور رہ کر پتے کھاناپڑتے ہیں... خود کرسیوں پہ بیٹھ کر کٹ مرنے پر مشتعل کرنا اور سکون سے بیٹھ کر نعشیں گرتے دیکھنا یا پھر قاری صاحب آپ ہی بتائیں

کہ کون سی محبت سچی ہے وہ جس میں نبی پاک خود غزوہ خندق کے موقعہ پہ دو پتھر باندھ لیتے ہیں اور پیروکار ایک پتھر باندھتے ہیں.... میں صرف اتنا کہوں گا کہ محبت کا مطلب ہے قربانی دینا,  قتل کروانا نہیں...

ہاں محبت اگر ابراہیم سے اسماعیل کی قربانی مانگتی ہے تو قدم قدم پہ یادگار بنا دیتی ہے. محبت اگر پاک رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیٹے حسین اور اہل بیت کی قربانی مانگتی ہے تو پھر درجہ بھی یہ عطا کرتی ہے کہ اس محبت کو ہر باہوش اور سلجھے ہوۓ انسان کی آنکھ کا تارہ بنادیتی ہے,اور کوئئ بھی پھر اہل بیت اطہار سے محبت کےبغیر انسان نہیں کہلا سکتا...

محبت طور سکھاتی ہے, محبت جینا سکھاتی ہے, محبت معاشرہ کو خوشحال بناتی ہے. آج کے دور میں ہر کوئ جانتا ہے کہ کیا کرنا ہے, دین ہر شخص کے سامنے موجود ہے, نبی پاک کی سیرت طیبہ کی ان گنت امثال موجود ہیں. وہ قرآن جس کو ہمارے رہنماء دستور ماننے سے منکر ہیں وہ ایک استاد کی صورت میں موجود ہے,  بات صرف محبت کی ہے .جو شخص قرآن کو اپنی زندگی میں نافذ نہیں کرنا چاہتا اور کہتا ہے کہ کاش مجھے موت مدینے میں آۓ وہ سفید جھوٹ بولتا ہے....

 ہم اتنے اندھے نہیں ہیں کہ خادم صاحب سے قیامت والے دن سفارش کروائیں گے,میں اتنا جانتا ہوں کہ عاشق رسول کو دیکھ کر خدا سے ملاقات ہوتی ہے اور ہاں ہماری وہ محبت جو اپنے نبی سے ہے وہ رب جانتا ہے,  عاشق رسول کو مولوی صاحبان قبر کے عذاب سے نہ ڈرائیں کیونکہ ہماری نس نس میں امن ہے محبت رسول ہے, محبت اہل بیت و اصحاب ہے, محبت خدا بسی ہے,,

دوستو یاد رکھیئے !ہمارے ملک کو نہ کچھ ہوا ہے نہ ہوگا, دین اسلام کو کچھ ہوا ہے نہ کچھ ہوسکتا ہے. وہی ڈرا رہے ہیں جو بتوں کے پجاری ہیں وہی ڈر رہے ہیں جو اپنے اپنے صنم کی عبادت میں مشغول ہیں,,,, جو اللہ کو کائنات کا مالک اور رسول پاک کو اپنا سہارا سمجھتے ہیں وہ نہیں ڈرتے..سوال یہ بھی ہے کہ قادیانیوں سے اگر نفرت بھی ہے تو وہ کس ادارے میں نہیں بیٹھے ؟

جواب یہ بھی ہے کہ جب تک ہم قرآنی تعلیمات اور سیرت پاک سے انحراف برتتے رہیں گے..... اپنی محبت و چاہت کا منبع و مرکز موجودات کائنات رسول امیں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں بنائیں گے تب تک یہ صاحبان جو مولویوں کو بھی بدنام کرچکے ہیں ہمیں ہمارے ہی ہاتھوں سے مرواتے رہیں گے...

 اس لیئے محبت کا تقاضاہے کہ تمیز سیکھی جاۓ, اسلامی تربیت سیکھی جاۓ, محبت عام کی جاۓ گالیاں اور نفرتیں پھیلانے والے مولوی, استاد, علماء یا اداکار یا جو بھی اس زمرے میں آتے ہیں کے ہتھکنڈوں سے خود بھی بچاجاۓ اور اپنے اقرباء, دوست احباب سب کو بچایا جاۓ,,,,   ہمارا فرض محبت یہی ہے کہ قرآن کو اپنی زبان میں سمجھ کر اپنے جسم, گھر, محلے, صوبے, ملک اور معاشرہ پہ نافذ کیا جاۓ.....

یاد رکھئیے محبت دکھائ نہیں جاتی بلکہ نظر آتی ہے,  چیخ چیخ کر خود کو عاشق رسول نہیں کہا جاتا بلکہ جناب اویس قرنی کی طرح سارے دانت شہید کردئیے جاتے ہیں.....

محبت ایک حسین جزبہ ہے جس کا تقاضہ ہے کہ جو اس کے لائق ہو اسی سے کی جاۓ,  جو لائق پرستش ہے وہ ہمارا رب ہے وہ ہماری شہہ رگوں کےقریب کرسی ڈال کے بیٹھا ہے.... محسوس تو کیجے کہ وہ رب کتنی محبت کرتا ہے ہم سے.... جان لیجے کہ وہ طاہر القادری, عمران خان, نواز شریف, فضل الرحمان, زرداری, مشرف, اوباما ٹرمپ, طیب اردگان, حسن روحانی, ناصر عباس, یہاں تک کہ ماؤں سے بھی ستر درجے زیادہ محبت کرتا ہے..... کیا ہم بھی ایسی محبت کرتے ہیں, کیا ہم محبت کے تقاضے پورے کر رہے ہیں,,,

اسلام تو اول و آخر محبت و رحمت کا دین ہے.... تو پھر ہم کون سا دین چاہتے ہیں ؟

میرے خیال میں دین اسلام ہی مکمل ضابطہ حیات ہے.... بس ہماری نفرت والی نگاہ اندھی ہوجاۓ اور محبت والی دیکھنے لگے تو پھر شاید دین اسلام سمجھ آنے لگے اور دھوکے بازوں کے نقاب اتر سکیں.....

اللہ ہم سب کو ہدایت دے. آمین


افکار و نظریات: محبت بھری گالیاں