محبوب اسلم

 امریکی صدر ٹرمپ نے یروشلم کو ناجائز اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دے دیا۔ لیکن یہ فیصلہ امریکی صدر ٹرمپ کا فیصلہ نہیں ھے۔ اس فیصلے کے اصل کردار امت اسلامیہ کے نام نہاد حکمران ھیں۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے یہ عقدہ کھل چکا ھے کہ امریکہ اور دوسری مغربی طاقتیں مشرق وسطی میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرنا چاھتے ھیں اور اس ساری پلاننگ کی کڑیاں آج ظاھر ھو چکی ھیں۔

 سب سے پہلے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی اور وھاں شیعہ سنی تفریق کو ھوا دی گئی اور داعش کو نہ صرف ابھرنے کا موقعہ دیا بلکہ اس کے ھاتھ مضبوط کیئے گئے اور اس میں پیش پیش تھے سودی عرب، مصر اور عرب امارات کی چھوٹی ریاستیں۔ یہ سب امریکہ کو اپنا مائی باپ مان چکے ھیں اور ان سے خیر کی توقع خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ھے۔

عرب بہار کے نام سے شروع ھونے والے عوامی ردعمل کو نہایت مہارت سے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلیۓ استعمال کیا گیا۔مثلاٌٌ مصر میں عوامی تحریک کے نتیجے میں بننے والی محمد مرسی کی حکومت کو راتوں رات مصری فوج نے قبضہ کر کے ختم کر دیا۔ شام اور عراق میں داعش کو سعودی عرب، مصر، عرب امارات،امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی اثر کو ختم کرنے کیلئے استعمال کیا۔

لیکن اب اس عالمی پلاننگ میں روس، چین اور ترکی نےنہ چاھتے ھوۓ بھی شمولیت اختیار کی ھے جس سے شام میں داعش کی ذریعے کیا گیا فتنہ اب ناکام ھوچکا ھے۔ یوں سعودی عرب اور مصر اس پلاننگ میں امریک اور اسرائیل کے حواری بن چکے ھیں۔ سعودی عرب کی پچھلے کئی مہینوں میں یمن کی نہتے شہریوں پر پہلے بمباری اور اب خوراک اور دوائی کی بندش اسی پلاننگ کا حصہ ھے۔ یمن میں معصوم شہریوں اور خاص طور پر بچوں کی ھلاکتیں سعودی عرب کی براہ راست محاصرہ بندی کا نتیجہ ھے۔

 یوں اس سارے کھیل میں ٹرمپ کی یروشلم پر پالیسی پر چیخ پا ھونا ویسا ھی ھے جیسا جوتے کھانے والا جوتے کو کوسے اور جوتے مارنے والے کو نظر انداز کر دے!

 

فلسطینیوں کو جوتے مارنے والا حقیقت میں یہ ٹرمپ نہیں ھے بلکہ سعودی عرب، عرب امارات، اور مصر جیسی مسلمان طاقتیں ھیں۔ میں تو یہاں تک کہونگا کہ یہ ایران دشمنی اور شیعہ مسلک کے نام پر بھی صرف اپنے اقتدار کی جنگ ھے۔ اسلام اور قرآن کی مسلم بھائی چارے کی کھلی تعلیمات کو چھوڑ کر یہ نام نہاد مسلمان ممالک فرقہ وارایت کے نام پر صرف اور صرف اپنے اقتدار کو بچارھے ھیں۔ جتنا مسلمان خون داعش کو ساتھ ملا کر امریکہ اور اسرائیل کی مدد سےعراق، لیبیا، اور شام میں بہایا گیا ھے وہ ان نام نہاد مسلمان ممالک کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ھے۔ اور اب تو امریکی حمایت میں ان ممالک کا چہرہ پوری طرح بے نقاب ھو چکا ھے۔

اب آئیے اس مسئلے کے حل کیطرف۔ پہلی بات تو یہ ھے کہ ھم سب کو ایسے مذھبی حوالہ جات کو ان کی اصل روح میں سمجھنے کی ضرورت ھے جہاں صہیونی فتنے اور گریٹر اسرائیل کی پیشن گوئیاں کی گئی ھیں۔ ان تاریخی حوالہ جات کا یہ ھرگز مطلب نہیں کہ ھم ھاتھ پر ھاتھ دھر کر بیٹھ جائیں بلکہ ھمیں اور زیادہ شدومد سے اس فتنے کا سدباب کرنے کی ضرورت ھے۔ پاکستان کی سویلین حکومت اور اپوزیشن میں ایک بھی جماعت ایسی نہیں  ھے جو اس مسئلے پر فکری سوچ اور عملی جدوجہد کی قابلیت رکھتی ھو۔ لے دیکر پھر وہی پاکستان آرمی رہ گئی ھے جو امریکہ بہادر سے لیکر ھندو بنیئے اور یہہودی استعمار تک کی آنکھوں میں کھٹکتی ھے۔

اور شاید اسی لیۓ اس پاکستان آرمی کو طالبان پاکستان جیسی داعش طرز کی جماعتوں سے مسلسل الجھایا جارھا ھے اور بلوچستان تک کےواقعات میں یہ کڑیاں مل جاتی ھیں۔ یوں میری نظر میں اسکا واحد حل پاکستان، ایران، ترکی،چین او روس کی آپس میں ایک طویل عرصہ پر محیط اسٹراٹیجک پارٹنرشپ ھے اور پاکستان آرمی کے علاوہ اسوقت اس کام کا آغاز کوئی اور نہیں کرسکتا کہ پاکستانی سیاست میں اس وقت قحط الرجال کا سماں ھے۔ دوسری طرف ایران ترکی،اور روس پہلے ھی تیار ھیں اور شام میں ملکر کام کر رھے ھیں۔ چین بھی سرگرم ھے لیکن ذرا پیچھے رہ کر کام کر ھا ھے۔

یہ اسٹراٹیجک الائنس صرف بیت المقدس کیلئے ھی نہیں بلکہ آنے والے کئی برسوں کیلئے اھمیت کا حامل ھے۔ اس پر جتنا جلدی کام شروع ھوگا اتنا ھی بہتر ھے۔ اور اگر اس کام کا بیڑا اس کرپٹ حکومت پر رکھ دیا گیا تو ھم اپنے آپ کو جلد ھی سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کھڑا پائینگے۔ جو ظالم کا ساتھ دینےوالی بات ھوگی اور عوام میں ھرگز پذیرائی حاصل نہیں کر سکے گی!!!

 

 

 


افکار و نظریات: فلسطین۔۔۔مجوزہ اسٹراٹیجک الائنس