محبوب اسلم

 یہ ھے وہ نئی بونگی جو ھمارے “لیڈر” عمران خان نے جہانگیرترین کی چوری پکڑے جانے پر ماری ھے!!! اس بات کو بھی یاد رکھیں کہ پارٹی کے اندر بھی ابھی پچھلے سال یہی حضرت جہانگیر ترین پرویز خٹک اور علیم خان کیساتھ ملکر  پارٹی الیکش میں دھاندھلی کرتےھوۓ ثبوت سمیت پکڑے گئے۔

پارٹی الیکشن ٹرائبونل نے جسٹس وجہیہ الدین کی سربراھی میں پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ سنایا اور یہ سب ھمارے “لیڈر” عمران خان کے پیچھے جا چھپے۔

 عمران خان کے پیٹ میں نئے پاکستان کا فوری مروڑ اٹھا اور عمران خان نے انصاف کے نئے ریکارڈ قائم کرتےھوۓ جسٹس وجہیہ الدین ھی کو معطل کر ڈالا۔ اور سارے ثبوت اور گواہ گئے انصاف کے کباڑ خانے میں!!!

پھر عمران خان کو اللہ زندگی دے انھوں نے اگلے پارٹی الیکشن کی ٹھانی لیکن الیکشن سے پہلے پارٹی کا جنرل سیکریٹری نامزد کیا تو اسی کرپٹ جہانگیر ترین کو اور اسکا دوسرا گرہ کٹ بھائی یعنی علیم خان سنٹرل پنجاب کا صدر نامزد ھوگیا۔ چلو اللہ اللہ خیر صلا۔۔۔نئے پاکستان کی بنیاد پکی ھوگئی۔ پھر عمران خان نے تسنیم نورانی صاحب کو پارٹی کا الیکشن کمشنر بنایا۔ لیکن جب تسنیم نورانی نے جھرلو پارٹی الیکشن کروانے پر لیل ولعت سے کام لیا تو عمران خان نے نئے پاکستان کی خاطر تسنیم نورانی کی بھی قربانی دے ڈالی اور وہ بھی کانوں کو ھاتھ لگاتے ھوۓ پیچھے ھٹ گئے۔

یوں اس نئے پاکستان کا کام کچھ عرصے ان نامردگیوں پر ھی چلتا رھا کہ پھر الیکشن کمیشن پاکستان نے ڈنڈا اٹھا لیا کہ پارٹی الیکشن کرواٶ یا پھر ڈنڈا کھاٶ۔ یوں نئے پاکستان کی جدوجہد میں الیکشن کمیشن پاکستان نے رغنہ اندازی کی جسارت کی۔ بہرحال عمران خان نے کمال مہارت سے قوم اور ملت کی دعاوٶں کےسہارے آخر کار اعظم سواتی جیسے محب وطن اور تبدیلی کےاستعارے کو پارٹی میں ایک جھرلو الیکشن کیلۓ تیار کر ھی لیااور ھمارا یہ تبدیلی کا سفر رواں دواں رہا۔

عمران خان نے یہ سارے چور اور کرپٹ اپنے نیچے ایک پینل پر جمع کئے اور اپنے لئے چیئرمین کےعہدے کیلئے پارٹی ورکرز سے ووٹ مانگ لیا۔مزے کی بات یہ ھے کہ تقریباً سات سے آٹھ فیصد پارٹی ورکرز نے اس کار خیر میں حصہ بھی لیا۔۔۔باقی کے بانوے فیصد نے گھر بیٹھ کر نئے پاکستان کے مضمرات پر غور و فکر کیا۔ بہرحال یہ چور اور کرپٹ جہانگیرترین ایک بار پھر پارٹی کا جنرل سیکریٹری “منتخب” ھوگیا اور علیم خان ھنوز وسطی پنجاب کا “منتخب شدہ” صدر ٹھہرا۔

دوسری طرف ھم نظریاتی ورکرز چیختے چلاتے رھے کہ لیڈر صاحب یہ تبدیلی کا سفر قوم کیساتھ مذاق ھے ذرا شرم اور و حیا کا مظاھرہ کریں۔ لیکن ھمیں دو رٹی رٹائی باتوں میں الجھایاگیا۔ پہلی یہ کہ اوپر لیڈر ٹھیک ھوتو نیچے سب ٹھیک۔ اور ھم سر کھجاتے رھے کہ ایں اتے سارا کام تو عمران خان نے خود کیا ان چوروں کو پارٹی میں تحفظ دینے کا۔ دوسری بونگی یہ بھی ماری گئی کہ اگر یہ کرپٹ ھے تو عدالت جاٶ۔ چلو اب عدالت بھی بول اٹھیٍ۔۔۔ ھن آرام ایں؟؟؟

لیکن نئے پاکستان کی کہانی یہاں ختم نہیں ھوتی۔ عمران خان کا یہ کہنا کہ وہ اب بھی جہانگیرترین کی عزت کرتےھیں اس بات کی غماز ھے کہ نیا پاکستان پرانے پاکستان کی ھے طرز پر کسی چڑیا کا نام ھے جہاں حکومت نواز شریف اور زرداری جیسےچور نہیں کرینگے بلکہ ھمارے جہانگیر ترین، علیم خان، اور پرویز خٹک جیسے کرپٹ حضرات نواز شریف اور زرداری کی باقیات کیساتھ ملکر  کریں گے اور عمران کی سربراھی میں کرینگے۔ اگر عمران خان کے پچھلے چندسالوں کے فیصلوں کا تجزیہ کیا جاۓ تو یہی کچھ ھونے والاھے۔

ہاں اسکا ایک حل ضرور ھےکہ پارٹی کے نظریاتی ورکرز عمران خان کا محاسبہ کریں اور عہدوں کی بندر بانٹ سے اوپر اٹھ کر پاکستان کا سوچیں۔ کم اوکھا ایں پر نا ممکن نیئں ایں۔

 یاد کریں۔ آج نہیں تو کب۔ ھم نہیں تو کون؟؟؟


افکار و نظریات: چوروں کا پاکستان