اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات قائداعظم اور اسرائیل ’’اب میں مسئلہ فلسطین کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں، اس کا ہندوستان کے تمام مسلمانوں پر بہت گہرا اثر پڑا ہے۔ حکومت برطانیہ کی پالیسی رہی ہے کہ اس نے شروع سے لے کر اب تک عربوں کو دھوکہ دیا ہے۔ ان کی اعتبار کر لینے والی فطرت سے پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے۔ برطانیہ نے اس وعدے کو پورا نہیں کیا جو جنگِ عظیم (اوّل) کے دباؤ کے تحت کیا گیا تھا اور جس میں کہا گیا تھا کہ عربوں کو مکمل آزادی کی ضمانت دی جاتی ہے اور ایک عرب وفاق کی تشکیل کا اعلان کیا جاتا ہے۔ عربوں سے جھوٹے وعدے کرکے ان سے فائدہ اٹھانے کے بعد برطانیہ نے اب بدنام زمانہ اعلان بالفور کے ذریعے اپنے آپ کو ان پر مسلط کر دیا ہے اور یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن بنانے کی پالیسی کے بعد اب برطانیہ فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے اور رائل کمیشن کی سفارشات نے اس المناک داستان کا آخری باب لکھ دیا ہے۔ اگر اس کو نافذ کر دیا گیا تو عربوں کے اپنے وطن میں ان کی تمام تمناؤں اور آرزوؤں کا خون ہوجائے گا۔ اب ہمیں یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم اصل حالات پر غور کریں، لیکن سوال یہ ہے کہ حالات پیدا کس نے کئے ہیں؟ یہ برطانوی مدبرین کی پیداوار ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ لیگ آف نیشنز رائل کمیشن کی سفارشات کی تائید نہیں کرے گی اور خدا کرے کہ اس کی تائید نہ کی جائے اور اصل حالات کا از سر نو جائزہ لیا جائے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عربوں کو ان کا صلہ دینے کے لیے یہ کوئی دیانت دارانہ کوشش ہے؟ میں حکومت برطانیہ کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر اس نے مسئلہ فلسطین کا جرأت، دلیری اور انصاف کے ساتھ فیصلہ نہ کیا تو یہ برطانوی سلطنت کی تاریخ میں اہم موڑ ثابت ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ میں صرف ہندوستان کے مسلمانوں کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی بات کر رہا ہوں۔ صحیح سوچ اور منصفانہ ذہن رکھنے والے تمام طبقے میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ برطانیہ اپنی قبر خود کھودے گا، اگر وہ اپنے ابتدائی اعلان، وعدوں اور ارادوں کا احترام نہیں کرے گا، جو اس نے جنگ سے پہلے کئے تھے۔ میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ عربوں کے اندر نہایت شدید احساس پیدا ہوچکا ہے اور حکومت برطانیہ جھلاّ کر اور جوش میں آکر فلسطینی عربوں کے خلاف نہایت سخت تشدد پر اتر آئی ہے۔ مسلمانان ہند عربوں کے اس منصفانہ اور جرأت مندانہ جہاد میں ان کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ چنانچہ آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے میں ان کو یہ پیغام بھیجنا چاہتا ہوں کہ اس منصفانہ جنگ میں وہ جس عزم، ہمت اور حوصلے کے ساتھ لڑ رہے ہیں وہ انجام کار کامیاب ہو کر رہیں گے۔‘‘ قائداعظم کے مذکورہ بالا خطاب کے حوالے سے چند وضاحتیں ضروری معلوم ہوتی ہیں: 1۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اعلان بالفور کا حوالہ دیا ہے، 1917ء میں برطانوی وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک وطن کے قیام کے لیے اپنے تعاون کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان سے پہلے برطانیہ نے اس کی تائید امریکی صدر وڈروولسن سے حاصل کر لی تھی۔ 2۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ لیگ آف نیشنز نے بھی 1922ء میں اعلان بالفور کی تائید کر دی تھی۔ 3۔ قائد اعظم شروع ہی سے متوجہ تھے کہ برطانیہ فلسطین کی سرزمین پر یہودیوں کی قومی ریاست کے قیام کے بعد اس سرزمین کو دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے پر گامزن ہے۔ انھوں نے اس دو ریاستی نظریئے کو شدت سے مسترد کر دیا۔ بعدازاں امریکہ اور برطانیہ اس نام نہاد دو ریاستی حل کی طرف زبردستی پیش قدمی کرتے رہے۔ ایک طرف اسرائیل کی دہشت گردی تھی، دوسری طرف عرب حکمرانوں کی بے وفائی اور تیسری طرف فلسطین کی مایوس قیادت۔ جس کے نتیجے میں بالآخر یاسر عرفات نے دو ریاستی حل کو قبول کر لیا، لیکن فلسطینیوں کو جس طرح کی بے دست و پا ریاست دی گئی اور جیسے اس نام نہاد آزاد علاقے کو اسرائیل کا دست نگر کر دیا گیا اور اسرائیل نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے اور دیگر معاہدوں کے ذریعے فلسطینیوں سے جو وعدے کیے، انھیں بھی ایفا نہ کیا، جس کے بعد یاسر عرفات اس دو ریاستی حل سے بھی مایوس ہوگئے۔ وہ سمجھ گئے کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے، لیکن جیسا کہ بعد میں ثابت ہوچکا ہے کہ اسرائیل نے زہر دے کر انھیں اپنے راستے سے ہٹا دیا۔ اس ساری صورت حال سے قائد اعظم کی بالغ نظری کا اظہار ہوتا ہے کہ انھوں نے ابتداء ہی سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو ٹھکرا دیا تھا۔ 1937ء ہی میں قائد اعظم نے یہ پیشکش کی کہ اگر برطانیہ فلسطین کے بارے میں معقول پالیسی اختیار کرے تو اس کی بھرپور مدد کی جائے گی، بصورت دیگر ہندوستان کے مسلمان عربوں کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، جو قومی آزادی کے لیے جنگ کر رہے ہیں اور اپنے فرض اور حقوق کی حفاظت کے اجراء پر انھیں بہ نوک سنگین مارشل لاء نافذ کرکے دبایا جا رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کی طرف سے یہودیوں کی امداد اور انھیں دنیا بھر سے اکٹھا کرکے فلسطین میں آباد کرنے کی امریکی سازش کے خلاف قائد نے امریکہ پر کڑی نکتہ چینی کی۔ انھوں نے اینگلو امریکی کمیٹی کی طرف سے ایک لاکھ یہودیوں کو فلسطین میں داخلے کی اجازت دینے کی سفارش کرنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ نہایت ہی بے ایمانی کا فیصلہ ہے اور اس میں انصاف کا خون کیا گیا ہے۔ قائد نے عربوں سے کہا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ جائیں اور ایک یہودی کو بھی فلسطین میں داخل نہ ہونے دیں۔ جیسا کہ ہم ایک اور مقام پر لکھ چکے ہیں کہ پاکستان کے بننے کے بعد بھی 1947ء میں جب قائد اعظم پاکستان کے گورنر جنرل تھے تو اسرائیلی وزیراعظم ڈیوڈ بن گورین نے سفارتی تعلقات کے قیام کی خواہش پر مبنی ایک ٹیلی گرام قائد اعظم کے نام بھجوایا۔ جس کا جواب بانی پاکستان نے سرکاری طور پر ان الفاظ میں دیا: ’’دنیا کا ہر مسلمان مرد و زن بیت المقدس پر یہودی تسلط کو قبول کرنے کے بجائے جان دے دیگا۔ مجھے توقع ہے کہ یہودی ایسے شرمناک منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ میری خواہش ہے کہ برطانیہ اور امریکہ اپنے ہاتھ اٹھا لیں اور پھر میں دیکھوں کہ یہودی بیت المقدس پر کیسے قبضہ کرتے ہیں۔ عوام کی آرزوؤں کے خلاف پہلے ہی 5 لاکھ یہودیوں کو بیت المقدس میں بسایا جا چکا ہے۔ میں جاننا چاہوں گا کہ کیا کسی اور ملک نے انھیں اپنے ہاں بسایا ہے؟ اگر تسلط قائم کرنے اور استحصال کا سلسلہ جاری رہا تو پھر نہ امن قائم ہوگا اور نہ جنگیں ختم ہوں گی۔‘‘ قیام پاکستان کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے تقسیم فلسطین کے فیصلے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے قائد نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ ’’اس برصغیر کے مسلمان تقسیم فلسطین کے متعلق اقوام متحدہ کے ظالمانہ، ناجائز اور غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف شدید ترین لب و لہجہ میں احتجاج کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ برصغیر کے مسلمان امریکہ یا کسی اور ملک کی مخالفت مول نہیں لینا چاہتے، لیکن ہماری حسِ انصاف ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم فلسطین میں اپنے عرب بھائیوں کی ہر ممکن طریقے سے مدد کریں۔‘‘ بی بی سی کو دیئے گئے قائد کے اس انٹرویو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کو بھی فلسطین کے مسئلے پر شریک جرم سمجھتے تھے اور اس کے خلاف انھوں نے نہایت بے باکی سے صدائے احتجاج بلند کی۔ ایک اور بات جو ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ قائد کے پیش نظر ظلم کے خلاف انصاف کی حمایت تھی۔ قائداعظم کے پاکستان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ خارجہ پالیسی میں اسی اصول کو پیش نظر رکھے۔ انہی دنوں قائد اعظم نے رائٹر کے نمائندے کو بتایا کہ ’’فلسطین کے بارے میں ہمارے موقف کی صراحت اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کے سربراہ محمد ظفر اللہ خان نے کی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ تقسیم فلسطین کا منصوبہ مسترد کر دیا جائے گا۔ ورنہ ایک خوفناک ترین اور بے مثال چپقلش کا شروع ہو جانا ناگزیر اور لازمی امر ہے۔ یہ چپقلش صرف عربوں اور منصوبۂ تقسیم کو نافذ کرنے والوں کے مابین نہ ہوگی بلکہ پوری اسلامی دنیا اس فیصلے کے خلاف عملی طور پر بغاوت کرے گی، کیونکہ ایسے فیصلے کی حمایت نہ تاریخی اعتبار سے کی جاسکتی ہے اور نہ سیاسی اور اخلاقی طور پر۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارۂ کار نہ ہوگا کہ عربوں کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کرے اور خواہ مخواہ کے اشتعال اور ناجائز دست درازیوں کو روکنے کے لیے جو کچھ اس کے بس میں ہے پورے جوش و خروش اور طاقت سے بروئے کار لائے۔‘‘ اس بیان کا آخری جملہ قائد اعظم کی شجاعت اور بہادری کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ اس وقت جب کہ پاکستان کے پاس ابھی ایسی منظم اور طاقت ور فوج بھی نہ تھی، وہ فلسطین کے مسئلے پر عربوں کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کر رہے تھے اور واشگاف الفاظ میں کہہ رہے تھے کہ جو کچھ پاکستان کے بس میں ہے، وہ فلسطینیوں کی حمایت میں پورے جوش و خروش اور طاقت سے بروئے کار لائے گا۔ پاکستان کئی دہائیوں تک فلسطین کے مسئلے پر اپنے قائد اور بانی کے نقطۂ نظر پر قائم رہا، لیکن بعدازاں عالمی استعماری طاقتوں کے دباؤ کے نتیجے میں بعض ایسے اقدامات بھی کئے گئے کہ جو قائد کی حکمت عملی سے انحراف کی غمازی کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے قائد اور بانی کی دی ہوئی دانشمندانہ اور مبنی برحق حکمت عملی کو پورے جوش و خروش سے اختیار کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے کہ دنیا میں اس کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ایک ظلم کو جائز تسلیم کرنا نئے ظلم کے لیے راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ بشکریہ: البصیرہ
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں