ان چار سالوں میں ہم نے دو چیف دیکھے اور ساتھ تین اہم سیکورٹی اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے منصوبے اور آپریشن جن میں ضرب عضب،  نیشنل ایکشن پلان،  اور اب ردالفساد  شامل ہے .

کل کی آرمی چیف کی ان سیشن بریفنگ میں ان تینوں کے بارے میں پارلیمنٹ کے منتخب نمائندوں نے کتنے سوالات کیے اور ان سیشن بریفنگ کی جتنی خبریں باہر آئیں ان میں ان تینوں کے حوالے سے کتنی خبریں تھیں وہ آپ جانتے ہی ہیں.

جتنی خبریں باہر آئیں جتنی سینیٹرز نے بتائیں وہ سب کی سیاسی تھی ان میں غالب اکثریت فیض آباد دھرنا، اور فوج کے حوالے سے سیاسی کردار پر اٹھنے والے سوالات تھے.

آپ ان سیشن بریفنگ کے بعد والی تمام خبروں کو اکھٹا کریں اور ہماری دھشت گردی کو روٹ لیول سے ختم کرنے کی سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں.

کیا ان سیشن بریفنگ میں سوال اٹھا کہ ان چار پانچ سالوں میں ہم انتہاپسندی کا خاتمہ روٹ لیول تک کیوں نہیں  کرسکے؟ 

کیا سوال اور سوچ بچار ہوا کہ ہم افغان مہاجرین کو قومی دھارے میں لائیں یا ان کو واپس بھیجیں؟ 

کیا ہم نے.مدارس اصلاحات پر کچھ کیا؟

یونیورسٹیوں میں بڑھتے ہوئے انتہاپسندانہ کلچر کے خاتمے کے لیے کیا پلان ہے؟

بے روزگاری،  غربت،  اور مہنگائی بھی دھشت.گردوں کو فیول دیتی ہےاس پر کیا کام کیا ہے اور کیا کرنا چاہیے؟ 

حالیہ آپریشن زدہ علاقے جہاں عوام کو قومی دھارے اور پھر انکی سوچ کو قومی و ملی بنانے کے لیے سیاسی و عسکری قوتیں کیا کام.کرسکتی ہیں؟ 

ایسے سوالات ان کے جوابات آپ کو ان ان سیشن اجلاسوں کی خبروں، تجزیوں اور بریفنگوں میں کہیں نہیں ملیں گے

#ضرب_تحریر.

فرحان منہاج


افکار و نظریات: آرمی چیف کی بریفنگ اور سلگتے ہوئے سوالات