فیروز کانجو

ابھی چند دن پہلے لاہور سے اسلام آباد سفر کا اتفاق ہوا سفر کے دوران جگہ جگہ ڈرائیوروں و مسافروں کیلیئے سفر کی تھکاوٹ سے آرام کیلیئے آرام گاہ کے بورڈز آویزاں کیے گئے ہیں جہاں ریفرشمنٹ کا اور ورکشاپس کا بھا انتظام کیا گیا ہے۔

 بہت اچھا نظام ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اداروں نے موٹر وے بنائ بہت اچھی سوچ و کام ہے اس پے ٹیکس رکھا گیا کوئ مسئلہ نہیں کیونکہ بہت اچھی سہولت ہے لیکن میری اپ ے متعلقہ اداروں سے التماس ہے پاکستان کی لٹی پٹی عوام پے ٹیکسوں کے انبار کے ساتھ ساتھ یہ سفری ڈاکہ تو بند کروائیں جو عوام سہولت و آرام کے متلاشی آرام کیلیئے رکتے ہیں ان کی جیبوں پے ٹھیکے کے نام پے ضرورتوں کی اشیاء کی صورت میں ڈاکہ مارا جا رہا ہے.

 ایک چیونگم 60سے 80روپے کی بیچی جارہی ہے اور تو اور ٹی وائٹنر سے بنی چائے 100 روپے تک بیچی جا رہی ہے کھانا تو ویسے بھی سونے کے بھاؤ ہے اور ورکشاپ سونے پے سہاگہ ہماری گاڑی کا ایک سائیڈ کاویل بیرنگ آواز کر گیا موصوف مکینک صاحب نے ویل بیرنگ + ڈسک + مزدوری  6000 روپے مانگ لیئے جو کہ تقریباّّ باہر مارکیٹ سے 2000 سے نارملی ہو سکتا ہے لیکن موصوف نے موٹروے ٹھیکے کا بہانہ بنا کے ایک روپیہ رعائیت کرنے سے انکار کردیا .

کیا کبھی وزیر اعلی صاحب نے اس کا نوٹس لیا کیونکہ یہ ایک بہت بڑا سکینڈل جو حکومتی نظروں سے اوجھل ہے کیونکہ اس پے سفر کرنے والے اکثر مختلف علاقوں اور بیرون ممالک سے ہوتے ہیں تو انکو پتا بھی نہیں ہوتا کہ وہ کریں تو کیا کریں یہ ہماری حکومت کی کارکردگی پے اور اداروں کی کارکردگی پے سوالیہ نشان ضرور ہے کیونکہ یہ عوام ڈیلی اربوں روپے موٹر وے پے ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن آگے آرام گاہ کے متلاشی عوام جیبوں پے ڈاکہ ڈلوا لیتے ہیں اور وہ بھی دیدہ دلیری سے ۔

میری متعلقہ اداروں سے التماس ہے کہ اس عوام کی خواری کا نوٹس لیں کیونکہ اللہ تعالی کے حضور اسکا حساب کسی اور نے نہیں آپ نے دینا جہاں نا رشوت کام آنی نا سفارش نا دولت نا شہرت نا اولاد نا رشتہ دار وہاں آپ نے اور ہم نے اپنے اپنے ہی اعمال کا حساب دینا ناکہ دوسروں نے ہمارا یا ہم نے دوسروں کا۔

زندگی چند لمحوں کی مہمان ہے  زندگی صرف اذان سے نمازکا فرق ہے لیکن ہم غفلت میں ہیں خدارا اپنی غفلت کو توڑیئے اپنے مسلمان ہونیکا ثبوت دیجیئے اور اس موٹر وے عوام کی جیبوں پے ضروتوں کا ڈاکہ بند کروائیے کیونکہ وہاں پے موجود دکاندار و مکینک عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں اس کا خدارا متعلقہ ادارے نوٹس لیں کیونکہ وہاں پے مسافر غرض و ضرورت کے بعث چیزیں بھی خریدتی ہے ورکشاپس میں جانا بھی مجبوری لیکن وہاں پے موجود مکینکس و شاپ کیپرز کی بے حسی قابل مذمت ہے پلیز اس کی حوصلہ شکنی کیجیئے۔

کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیز کو آدھی سلطنت دینے کو کہا ، لیکن ساتھ میں کچھ شرائط بھی عائد کیں- وزیر نے لالچ میں آکر شرائط جاننے کی درخواست کی بادشاہ نے شرائط 3 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔

سوال نمبر 1: دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟

سوال نمبر 2 : دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟

سوال نمبر 3 : دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے؟

بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ ان تین سوالوں کے جواب ایک ہفتہ کے اندر اندر بتائے بصورت دیگر سزائے موت سنائی جائے گی۔ وزیر نے سب پہلے دنیا کی بڑی سچائی جاننے کے لئے ملک کے تمام دانشوروں کو جمع کیا اور ان سے سوالات کے جواب مانگے۔

انہوں نے اپنی اپنی نیکیاں گنوائیں۔ لیکن کسی کی نیکی بڑی اور کسی کی چھوٹی نکلی لیکن سب سے بڑی سچائی کا پتہ نہ چل سکا۔ اس کے بعد وزیر نے دنیا کا سب سے بڑا دھوکا جاننے کے لئے کہا تو تمام دانشور اپنے دیئے ہوئے فریب کا تذکرہ کرتے ہوئے سوچنے لگے کہ کس نے کس کو سب سے بڑا دھوکا دیا لیکن وزیر اس سے بھی مطمئن نہیں ہوا اور سزائے موت کے خوف سے بھیس بدل کر وہاں سے فرار ہوگیا۔

چلتے چلتے رات ہوگئی ،اسی دوران اس کو ایک کسان نظر آیا جو کھرپی سے زمین کھود رہا تھا۔ کسان نے وزیر کو پہچان لیا، وزیر نے اس کو اپنی مشکل بتائی جسے سن کر کسان نے اس کے سوالوں کے جواب کچھ یوں دیئے

دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے۔

تیسرے سوال کا جواب بتانے سے پہلے کسان نے کہا کہ میں اگر تمہارے سارے سوالوں کےجواب بتادوں تو مجھے کیا ملے گا ،سلطنت تو تمہارے ہاتھ آئے گی۔ یہ سن کر وزیر نے اسے بیس گھوڑوں کی پیشکش کی اور اسے ہی اصطبل کا نگران بنانے کی بھی پیشکش کی۔ کسان نے یہ سن کر جواب دینے سے انکار کر دیا۔

وزیر نے سوچا کہ یہ تو آدھی سلطنت کا خواب دیکھ رہا ہے۔ وزیر جانے لگا تو کسان بولا کہ اگر بھاگ جاوگے تو ساری زندگی بھاگتے رہو گے اور بادشاہ کے بندے تمہارا پیچھا کرتے رہیں گے اور اگر پلٹو گے تو جان سے مارے جاوگے۔ یہ سن کر وزیر رک گیا اور کسان کو آدھی سلطنت کی پیشکش کی لیکن کسان نے اسے لینے سے بھی انکار کر دیا۔

اتنے میں ایک کتا آیا اور پیالے میں رکھے ہوئے دودھ میں سے آدھا پی کر چلا گیا۔ کسان نے وزیر سے کہا مجھے آدھی سلطنت نہیں چاہیے بس تم اس بچے ہوئے دودھ کو پی لوتو میں تمہارے تیسرے سوال کا جواب بتادوں گا۔ یہ سن کر وزیر تلملا گیا مگر اپنی موت اور جاسوسوں کے ڈر سے اس نے دودھ پی لیا۔ وزیر نے دودھ پی کر کسان کی طرف دیکھا اور اپنے سوال کا جواب مانگا تو کسان نے کہا کہ

دنیا کی سب سے میٹھی چیز انسان کی غرض ہے- جس کے لئے وہ ذلیل ترین کام بھی کر جاتا ہے۔


افکار و نظریات: موٹر ویز پر ڈاکووں کا راج