تحریر: محمد زکی حیدری

کلاچی میں سورج ڈوبنے کو ہے، سمندر بادشاہ کو رات اپنی سیاہ چادر پہنانے والی ہے مگر شمن... روپ متی عرف روپی کا شمن جو مچھیروں کے ساتھ ناؤ میں بیٹھ کر شکار کو گیا تھا، ابھی تک نہیں لوٹا. روپی اس وقت تک تو مچھی صاف کرکے پکنے کو بھی رکھ چکی ہوتی ہے مگر آج کیوں اتنی دیر!

 کلاچی میں شمن کے سوا روپی کیلئے رکھا ہی کیا تھا، لہٰذا وہ شمن کے انتظار میں سمندر کے کنارے بنی اپنی جھگی سے نکل کر باہر آگئی. ساحل سمندر کی ٹھنڈی ہوا منتظر و مضطر روپی کے سیاہ زلفوں کی تاروں کو اس طرح ایک دوسرے جدا کر رہی تھی جیسے خزاں کی تیز ھوا کے جھونکے نازک سی ٹہنیون کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں.

 چاند روپی کی شکل میں زمین پر چمکنے والے اس تارے کا دیدار کرنے کو بڑے شوق سے گردن اٹھانے لگا. ساحل سمندر! لہریں! ڈھلتی ہوئی جاڑے کی سرد شام سب روپی کیلئے ھیچ تھا کیونکہ شمن سمندر کی طرف گیا ہوا تھا. شمن اس کا عشق، اس کا سہاگ، اس کا ھمسفر، اس کی زندگی...

 اچانک اس کے کانوں سے مندر کی گھنٹی کی آواز ٹکرائی، ریت پر بے چینی سے اِدھر اُدھر ٹہلتی روپی کو جیسے کوئی سہارا مل گیا. اِندر! بادلوں کا خدا! بھگوان ورُن سمندروں کا رکھوالا! وہ تیز قدموں سے مندر کی طرف دوڑی کہ اِندر اور ورُن  بھگوان سے جاکر کہے کہ اس کے شمن کو سمندری آفات و طوفان سے محفوظ رکھے.

 اس نے دیہ جلایا اور رو پڑی... اے بھگوان! مجھے تو نے شمن دیا، تو ہی اس کی رکھوالی کر، ابھی میں آس پاس کے مچھیروں کی کسی بھی جھُگی میں چلی جاؤں، جو مانگو گی ملے گا، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ رات کے وقت ناری کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے، تو میں کیسے مان لوں کہ تو! جو کہ سب سے اچھا ہے، مجھے میرا شمن نہیں دیگا...

 کلاچی کا اتنا بڑا سمندر اور اس میں میرے شمن کو مجھ سے چھیننے پر تلے ہوئے بڑے بڑے مگرمچھ... لیکن تو! تو ان سب مگرمچھوں سے زیادہ شکتی رکھتا ہے، تو مجھے میرا شمن واپس دے گا وہ جیسے گیا تھا ویسا ہی لوٹے گا...  ہاں تو دے گا بھگوان! تو ہی ہے میرا سہارا اور جسے تو مجھے دے دے اسے کون مجھ سے چھین سکتا ہے.

 

 وہ اپنے محبوب کو یاد کر کے زارو قطار رونے لگی اور اس کے آنسو اس کی ھرنی جیسی آنکھوں سے بہہ کر گالوں پر ٹپک رہے تھے. اسی دیئے کے برابر میں ہی اسے اونگھ آگئی. کچھ دیر بعد کوئی ہاتھ اس کے بال سہلاتا ہوا محسوس ہوا! روپی نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو اس کا شمن اس کے سامنے تھا، اس کے دل کو سکون ملا، خوشی کی ایک لہر نے اس کے اعصاب کو بجلی کی طرح چھوکر اس کی روح تک کو تازہ و توانا کردیا، اس چہرے کی تازگی و آنکھوں کی چمک کیا ہوتی ہے جو سجدوں میں گر کر معبود سے اپنا محبوب لینے میں کامیاب ہوجاتی ہیں یہ وہی جانے جو ساجد بھی ہیں اور عاشق بھی...

روپی پر بھی وہی کیفیت طاری تھی مگر اس نے جان بوجھ کر ناراضگی کے انداز میں منہ پھیر لیا، اس کے دل میں شمن کے آنے کا جشن برپا تھا مگر وہ جانتی تھی کہ مرد جب مناتا ہے تو اس کا سرور ہی الگ ہوتا ہے سو روپی یہ موقع گنوانا نہیں چاہتی تھی... شمن قصوروار تھا مگر اس نے روپی کو منانے کا انتظام کر رکھا تھا اس نے جیب سے سپیون سے بنا ہار نکالا اور اسے ہلاتے ہوئے روپی کو دکھایا اور وہ مسکرا دی.

 دونوں ہاتھوں میں ہاتھ دیئے مندر سے نکلنے ہی لگے تھے کہ روپی کو یاد آیا کہ بھگوان کو شکریہ ادا نہیں کہا. اس نے دوبارہ آکر شکریہ ادائیگی کی، دوپٹے کے پلو سے مندر کے فرش کو صاف کیا، پھر دونوں جوان میاں بیوی ھنستے مسکراتے اپنی جھگی کی طرف چل دیئے، دور دور تک سوکھی جھاڑیوں اور گارے سے بنی جھگیاں اور ان میں لٹکتی لالٹینز اور سمندری لہروں کی مدھر آواز ساحل سمندر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے. دو محبت کرنے والے ہمسفر ہاتھوں میں ہاتھ دیئے ان جھگیوں کی طرف رواں دواں تھے.

روپی اور شمن کو کیا معلوم تھا ان کا کلاچی کل کراچی بن جائے گا، ان خوبصورت جھگیوں کے پیچھے آسمان سے باتیں کرتی ہوئی عمارتیں ہوں گی کہ جن کی بنیاد سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے چوسے ہوئے عوامی خون و پسینے سے ڈالی گئی ہوگی، اس کراچی میں کئی روپیاں اور کئی شمن ہوں گے مگر وہ ھوادار جھگیاں ہوں گی نہ وہ لالٹینز، انسان مرغیوں کی طرح تنگ فلیٹس میں گھٹ گھٹ کر جیئیں گے، پر ہجوم شاہرائیں، گاڑیوں کا شور، آلودہ آب و ھوا، اس پر غضب یہ کہ کسی بھائی و کسی سائیں و کسی مجاہد و کسی خان کے کہنے پہ قتل و غارت، بھتہ، ملاوٹ، گدھے کا گوشت تک فروخت ہوگا...

منحوس سیاسی و غیر سیاسی چہروں کی بڑی بڑی ھورڈنگز، بیہودہ وال چاکنگ، پلک جھپکتے میں انگریزی سکھانے کے جھوٹے دعوے، بسوں میں بکریوں کی طرح لدے ہوئے انسان، ٹریفک معطل، پان کی پیکیں، کھلے ہوئے فضلے کے گٹر، تعلیمی ادارے شہوت رانی و مساجد و مدارس فرقہ واریت کے مراکز، رشوت، لاقانونیت، گینگ وار...

 

لیکن ہاں! شمن و روپی یہ ضرور جانتے ہوں گے کہ  اسی کراچی کو کلاچی بنانے کیلئے سرگرداں رہنے والے ھمدرد کے شہید حکیم سعید و مرحوم عبدالستار ایدھی و ادیب رضوی و سیلانی و چھیپا و مہاجرہ رتھ فاؤ... جیسے عظیم لوگ اپنی تمام کوششیں بروئے کار لائیں گے. یہ لوگ یہ ثابت کریں گے کہ کراچی محبت کرنے والوں کا شہر ہے، کراچی معصوم دل رکھنے والوں کا ہے شہر ہے، پتھر دل و مطلبی و مفاد پرستوں و فرقہ پرست و نژاد پرست و پیسے کی خاطر جذبات کو بیچنے والوں کا اس سے کیا تعلق، یہ سب اغیار ہیں کراچی پر قابض ہوئے ہوئے ہیں.

کراچی میں دیکھنے والوں کو آج بھی روپی اور شمن ملتے ہیں کہ جب بھی انہیں اپنا عشق پانا ہوتا ہے تو وہ روپی کی طرح عبادتگاہوں کا رخ کرتی ہیں، رب ذوالجلال مسبب الاسباب کے سامنے اپنے شمن کی حفاظت و اس کے ساتھ کیلئے سجدوں میں رو رو کر دعائیں مانگتی ہیں اور آج بھی کئی روپیاں شمن کو پا لیتی ہیں اور کئی شمن روپیوں کو! کراچی نہ کسی بھائی کا ہے، نہ خان کا، نہ سائیں، نہ وڈیرے کا، نہ مولوی کا! کراچی سجدے کرنے والے عاشقان انسانیت کا شہر ہے، کلاچی روپی اور شمن کا تھا کراچی آج بھی روپی اور شمن کا ہے!


افکار و نظریات: روپی اور شمن کا کلاچی