محبوب اسلم

ابھی پچھلے دن کاشف عباسی کو ایک انٹرویو دیتے ھوۓ عمران خان کاشف عباسی پر بگڑنے لگے کہ جہانگیرترین نے جو ان سائیڈر ٹریڈنگ سے غیر قانونی پیسہ بنایا ھے وہ کرپشن نہیں ھے کیونکہ جہانگیر ترین نے وہ پیسہ پکڑے جانے پر واپس کردیا۔ واہ رے تیری قدرت یہ وہ عمران خان ھیں جو ملک میں تبدیلی لانے کے دعویدار ھیں؟؟؟

یہ بات اتنی ھی مضحکہ خیز ھے جتنی وہ منطق جو ایک جیب کترا آپکی جیب کاٹتے ھوۓ پکڑے جانے پر آپکا بٹوہ واپس کر دے اور آپ پر رعب جھاڑے کہ میں نے رقم واپس کردی اب آپ اپنا راستہ ناپیں۔ اور بقول خادم حسین رضوی  تیری پین دی سری ترمیم واپس لینے سے یہ مسئلہ حل نہیں  ھوگا۔ آخر کو ترمیم کی کیوں گئی۔

 یعنی پیسےواپس کرنے سے جرم کا ارتکاب محو نہیں ھوسکتا۔ اور اگر ایسا ھو سکتا تو پھر اس دنیا میں کوئی مجرم نہ رھتا۔ جو پکڑا جاتا وہ نقصان پورا کر کے دوبارہ پاکباز بن جاتا اور جو نا پکڑا جاتاوہ پہلے کیطرح دنیا کی نظر میں باعزت ھی رھتا۔

 دوسری طرف عمران کی شکل پر یہ بونگی مارتے وقت جو جھنجھلاھٹ، اکتاھٹ اور بے بسی کا عالم تھا وہ بہت ھی تکلیف دہ تھا۔ ساری قوم یہ منظر دیکھ رھی تھی اور ھمارا لیڈر ایک غلط بات کا بڑی ڈھیٹائی سے تحفظ کر رھا تھا۔ اب  سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ آخر عمران خان اس ڈھیٹائی سے جہانگیر ترین کی کرپشن کو ڈیفنڈ کیوں کر رھا ھے؟؟؟

اور یہ وہ نقطہ ھے جو عمران خان کی سیاست کا اصل روپ آشکار کرتا ھے۔ تبدیلی کے جس نظریے اور ذاتی شفافیت کی جس بنیاد پر عمران خان نے اس قوم کے سامنے بلندوبلا دعوے کیے تھے آج وہ بنیادیں ھل چکی ھیں۔ کیونکہ آج عمران خان کے ان دعووں کی قلعی کھل چکی ھے کہ وہ اس ملک میں تبدیلی کے خواہ ھیں اور کرپشن کا خاتمہ چاھتےھیں کیونکہ انکے اپنے دست راست اسی طرح کی کرپشن میں ملوث ھیں جو وہ دوسری پارٹیوں کے سربراھان میں ڈھونڈتے ھیں لیکن عمران خان ان چوروں کو خود تحفظ دے رھےآپ  ھیں۔ یوں پی ٹی آئی اور دوسری جماعتوں کے بیچ فرق ختم ھو جاتا ھےاور یہی وہ حقیقت ھے جس کے آشکار ھونے پر عمران خان بوکھلاھٹ کا شکار ھیں اور ایسی بونگیاں مارنے پر مجبورھیں۔

لیکن نیشنل میڈیا پر بیٹھ کر اس ھٹ دھرمی سے پارٹی کے ایک کرپٹ لیڈر کا دفاع کرنا عمران خان کیلئے مزید شرمندگی کا باعث ھے اور وہ پڑھےلکھے طبقے میں اپنی ساکھ مزید کھو رھے ھیں۔

 

ھم نظریاتی ورکرز نے عمران خان کو بہت پہلے مطلع کر دیا تھا کہ انکی پارٹی میں کرپشن اور چوروں کو تحفظ دینے والی پالیسی ایک دن انکے گلے کا ناسور بنے گی۔ آج ھماری پیشن گوئی سچ ھوتی نظر آ رھی ھے۔ لیکن افسوس اس بات کا ھے کہ اس ملک کی عوام کیساتھ ایکبار پھر دھوکہ ھو رھا ھے۔ زرداری اور نواز شریف کی کرپشن سےتنگ آ کر ایک عوامی تحریک کا آغاز پی ٹی آئی کی شکل میں کیا گیا اور عمران خان کو آگے لایا گیا۔ لیکن جب 2011 میں عمران خان آخر کار ایک بڑے پیمانے پر عوامی پذیرائی حاصل کرنے  میں کامیاب ھوۓ تو انھوں نے بدقسمتی سے پارٹی میں ایک ڈیکٹیٹر کا روپ دھار لیا اور ایک روایتی مطلق العنان آمر کے طور پر سامنے آۓ۔

ایک طرف ملک میں تبدیلی کی ایجنڈے کومحض نعرے کے طور پر استعمال کیا اور دوسری طرف پارٹی میں جمہوری اقدار کو ھر لمحہ ھر پل تار تار کیا۔ پارٹی میں فنڈز کی چوری سے لیکر جھرلو پارٹی انتخابات تک ھر وہ برا کام کیا جو پی پی پی اور نون لیگ کا وطیرا رھا۔ اب کس منہ سے عمران خان تبدیلی کی بات کرتے ھیں؟

لیکن افسوس ھے تو اس قوم کی قسمت پر کہ واۓ قسمت آسمان سے گرے تو کھجور میں اٹکے۔۔۔ زرداری اور نواز شریف سے بچے تو عمران خان کے چوروں کے ھاتھ پڑ گئے۔ اگر امید ھے تو پارٹی نظریاتی ورکرز سے جو عمران خان پر ایک اخلاقی اورسیاسی دباٶ قائم رکھیں گے اورسچ کا ساتھ دیتے رھینگے۔ عمران خان کو شنید ھو کہ ھم آپکی اندھی تقلید نہ پہلے کرتے تھے نہ اب کرینگے۔ آپ کا ساتھ ملک کی بہتری کیلئے دیا تھا۔نواز شریف جیسے کرپٹ کو جہانگیر ترین، علیم خان، نعیم الحق، پرویز خٹک اور عون چودھری جیسے کرپٹ سے بدلنا مقصود نہیں تھا!!!


افکار و نظریات: عمران خان کا پاکستان