(ڈاکٹر حفیظ الرحمان )

ھمارے ایک دوست ہیں جو سعودی عرب میں تقریبا تیس سال رہے بحثیت الیکٹریکل انجنیئر  کام کرتے رہے ہیں اور اب وہ واپس پاکستان آ گئے ہیں اور ریٹایرڈ زندگی گزار رہے ہیں ،پچھلے دنوں ان سے ملاقات ھوئی اور وہ بتا رہے تھے کے ان کے ساتھ ایک پروجیکٹ پہ ایک یوروپین کام کرتا تھا اور وہ دنیا کے چھپن ممالک دیکھ چکا تھا اور اس کا کہنا تھا کے پاک و ھند کے لوگ دنیا میں سب سے زیادہ زہین لوگ ہیں ۔

اس حوالے سے ھمارا نقطہ نظر تھا کے چونکے پاک و ھند میں مختلفالنوع نسلوں کے انسانوں کی اس خطے میں آمد رہی ،جس سے قدرتی جینیٹک انجنیرنگ ھوئی اور شائد اس سے زہنی استعداد میں بہتری آئی جبکے ان کا کہنا تھا کے جیسے کے سری لنکا میں حضرت آدم کے پیروں کے نشان ملے ہیں تو انسانی نسل کی ابتدا یہاں سے ھوئی اور یہاں انسانوں کو زندگی گزارنے کا تجربہ زیادہ ھے ،اس وجہ سے قابلیت بھی زیادہ ھے ،پھر اس گفتگو نے کھانوں میں مصالحوں کے حوالے سے ھم لوگوں کے تجربوں اور مغرب کا اب ان مصالحوں کی افادیت کو سمجھنا ،جسے وہ ھر بل یا جڑی بوٹیاں سے علاج بھی کہتے ہیں کو جاننا ۔

بہر حال اس خطے کے لوگوں کی قابلیت اور فہم و فراست کے حوالے سے یہ ھمارے چند مفروضات تھے ۔

اس تمہید کا بنیادی مقصد ھے کے دنیا میں سب سے پرانی تہزیب و تمدن کے وارث ھونے اور سائنسی اعتبار سے بین الاقوامی جینیٹک کراس ھونے سے ،جس میں کے عربوں ،یونانیوں ،انگریزوں اور وسط ایشیا کی اقوام کی نسلی آمیزش سے ھم زہنی استعداد میں کافی بہتر ھوئے ہیںُ ہ نسبت کے کئی دیگر اقوام کے ،پھر کیا وجہ ھے کے معاشرتی، اقتصادی اور ریاستی حوالے سے پسماندگی کا شکار ہیں ۔

پاک و ھند سے کبھی بھی کسی نظریے نے جنم نہں لیا اور نہ ھی پاک و ھند کے لوگ دیگر اقوام پہ حاوی رہے اور نہ ھی دیگر خطوں پہ ھندستان سے نککر فاتح رہے ،ھماری تاریخ مختلف راجدھانیوں میں تقسیم کی تاریخ ھے اور یا پھر بیرونی حملہ اوروں کے باجگزار وں کے طور پہ رہنے کی تاریخ ھے ۔

مسلمانان ھند اپنا شجرہ نسب مزّہبی حوالے سے عرب سے جوڑتے ہیں لیکن مزّہبی تعلق اور ثقافتی تعلق میں فرق ھوا کرتا ھے ،جبکے تاریخ ،ثقافتی اور جعرافیائی بنیادوں پہ ترتیب دی جاتی ھے ۔

چونکے یہ خطہ تہذیبی اور تمدنی اعتبار سے کافی مستحکم تھا اسی لیے دنیا کے ھر بر اعظم سے اقوام نے اس ضطے کا رخ کیا اور اس کی آسودگی کو نشانہ بنایا ۔

کولمبس نے بھی ھندستان آنے کے چکر میں امریکہ کو دریافت کر بیٹھا اور وہ تا دم  مرگ یہ ھی سمجتھا رہا کے ھندستان میں ھے ۔

ان حملآور اقوام کے آنے سے اس خطے کے لوگوں کی نفسیات بے حد متاثر ھوئی ،جو ڈر ،خوف اور زندگی کی بقا کی جستجو پہ متہج ھوئی جس سے ایک ایسی ثقافت نے جنم لیا ،جو فرد یا خاندان کی خوشحالی سے منسلک ھوئی اور اس کے لیے گروہی مفادات کی قربانی دی گئی تا کے دربار تک رسائی ممکن ھو ۔

درآصل اس مضمون کا بنیادی مقصد یہ ھے کے قوموں کی ترقی میں انکی نفسیات کا کس حد تک عمل دخل ھے اور انکی نفسیاتی کیفیت اور حالت کو تبدیل کر کے انھیں کس طرح ترقی کی جانب موڑا جا سکتا ھے ۔

مغرب فرد کی زہنی حالت کو مثبت کرنے کے حوالے سے تو آج بات کر رہا ھے لیکن اپ کو جان کر شائد حیرت بھی ھو اور دکھ بھی کے اسلام نے روز اوّل سے ھی اسی طریقہ کار کو اختیار کیا ،جسے کہتے ہیں کے لا شعور کو کس طرح سے مثبت کیا جائے اور کیونکر کیا جائے ۔

حیرت اس حوالے سے کے اسلام کس قدر جدید مزہب ھے بلکے ھماری نظر میں تو اس قدر جدید کے قیامت تک کی انسانی ضروریات کو پورا کرتا ھے ،اگر ختم نبوت اور اسلام کے آخری مزہب ھونے کی سچائی کو ثابت کرنا ھو تو سائنس کی کسوٹی پہ پرکھ کر دیکھیں اور اللہ کو جاننا ھو تو اس کی نشانیوں کو جانچنے سے ھی جانا جائے گا لیکن بات دلیل سے ھو تو جمھوری اقدار کے زمرے میں آئے گی اور اگر دھونس زبردستی سے کی جائے گی تو اثر بھی کھو دے گی اور کہنے والے کو انتہا پسند کہلوانے پہ مجبور کرے گی ،

جب اسلام خود جدید تقاضوں کے لیے بنا ھے تو اس کی پیش کش بھی جدید ھی ھونی چائیے نہ کے دقیانوسی انداز میں کی جائے ۔اور دکھ اس بات کا کے خزانے ھمارے پاس ہیں اور ڈھونڈتا کوئی اور ھے ۔

آئیے ،اللہ کی سب سے خوبصورت تخلیق ،انسان کو پڑھتے ہیں ۔انسان کو پڑھیں گے تو اللہ کو جانیں گے ۔

انسانی دماغ اور اسکی کارکردگی یعنی کے زہن ھی دراصل وہ کنجی ھے جو کامیابی کے دروازے کھولتی ھے ،اگر ھم زہن کو سمجھ لیں اور جان لیں کے وہ کیسے کام کرتا ھے تو کامیابی حاصل کرنا کوئی مسلہ نہیں اور اگر اس زہن کو اجتماعی شکل میں ایک قوم کے حوالے سے پڑھا جائے اور پھر اس پہ نئی تحریر رقم کی جائے جو انھیں کامیابی کی جانب لے جائے تو ستاروں پہ کمندیں ڈالنا سرے سے مسلہ ھی نہیں ۔

سائنسدانوں کا کہنا ھے کے آج کا انسان اپنے دماغ کا صرف پانچ فی صد استعمال کر رہا ھے ،دماغ کا پچانوے فی صد ابھی استعمال ھی نہیں ھوا ،اب اس سے اندازہ لگا لیں کے ھم اپنی دماغی صلاحیتوں سے کس قدر دور ہیں اور ھمیں کتنا فاصلہ طہ کرنا ھے ۔

اللہ فرماتے ہیں ،میں تماری شہ رگ سے بھی زیادہ تمارے قریب ھوں ۔

اللہ کے اس فرمان کا لفظی تجزیہ کرتے ہیں ،شہ رگ سے زیادہ کہاں قریب ھو سکتے ہیں ،دماغ یعنی زہن ۔

ھم تخلیق کائینات کو اللہ سے وابسطہ کرتے ہیں اور ھم فرشتوں پہ ایمان رکھتے ہیں ،جو اللہ کے حکم پہ یہ سارا نظام چلا رہے ہیں ۔

سائنس ،قدرت یا اس سارے نظام کو توانائی کی پیداوار کہتی ھے ،دلچسپ بات یہ ھے کے توانائی ینعی کے انرجی کی تعریف سائنسی اعتبار سے وہی ھے جو قرآن میں سورہ کوثر میں اللہ کی ھے ۔

فی الوقت ھم اس بحث میں نہیں پڑتے کے اللہ کی حقیقت کیا ھے لیکن ھم اس طریقہ کار کو ضرور زیر بحث ضرور لایں گے کے اللہ انسانی زہن کو ترقی ،تمدن اور معاشرتی بھلائی کے لیے راغب کرنے کے لیے کیا تدبیر اختیار کرتے ہیں ،

ایک خالق سے بہتر کون اپنی تخلیق کو بہتر جان سکتا ھے ۔

انسان جو کچھ بھی ھے وہ لا شعور ھے ،لا شعور ھمارے زہن کا پچاسی فی صد ھے ۔

چوبیس گھنٹوں میں ستر ھزار کے قریب انسانی زہن سوچوں کو اپنے اندر جزب کرتا ھے اور لا شعور کی مثال ایک ایسے سٹور ھاوس ھے جہاں یہ سوچیں ھمیشہ کے لیے محفوظ ھو جاتی ہیں ۔

لا شعور میں محفوظ ھونے والی یہ سوچیں ھی درآصل ایک فرد کی شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں یا پھر دوسرے الفاظ میں بہت سے افراد کو ملا کر ایک قوم کی تعمیر بھی کی جا سکتی ھے اور اسلام کی ابتدائی فتوحات میں اسی لاشعور کی طاقت اور قوت کو استعمال کرتے ھوئے اللہ نے ایک ایسے معاشرے کو جنم دیا جو آج بھی ھم مسلمانوں کے لیے رول ماڈل ھے ۔

مغرب لا شعور کو فرد کی کامیابی کا زمے دار تو ٹھراتا ھے لیکن ھم مسلمانوں کے لیے سب سے دلچسپ امر یہ ھے کے لاشعور کو ایک آسمانی قوت سے بھی وابسطہ کرتا ھے ،اور انکا کہنا ھے کے یہ قوت ھی فرد کے لاشعور سے تعلق کو جوڑتی ھے اور فرد کی زندگی سے حوالے سے اس کی خواہشات کو پورا کرتی ھے ۔

دوسرے الفاظ میں کیا ھمیں یہ حکم نہیں کے اپنا تعلق اللہ سے جوڑو اور جو کچھ مانگنا ھے اللہ سے مانگو ۔

ھم اللہ سے مانگتے ہیں اور وہ ایک قوت کا کہتے ہیں ،اس سارے عمل کو “قانون کشش “کہتے ہیں ۔

مغرب کی اس تحقیق کا ھم مسلمانوں کو یہ فائدہ ھوا کے ھمیں یہ سمجھ آ گئی کے دعا اور آئیتیں کس طرح ھمارے لا شعور کو تبدیل کرتی ہیں ۔جس سے ھماری شخصیت میں تغیر آتا ھے اور اس کے ساتھ ھی اعمال میں تبدیلی اتی ھے ۔

جدید مغربی تحقیق لا شعور کو ھی زہن کا بنیادی حصہ سمجتھی ھے ۔لاشعور کی تعمیر ھی دراصل انسانی کردار کی تعمیر سے وابسطہ ھے ۔

اگر لا شعور میں افسردگی ،مایوسی اور نا امیدی ھو گی جس کا یقینن تعلق ھماری ان ھی مندجہ بالا سوچوں سے ھی ھو گا کیونکے ھم پہلے ھی کہ چکے ہیں کے لا شعور درآصل ایک خلا کی مانند ھے اور ھمُ اسے اپنی سوچوں سے ھی بھرتے ہیں تو جو کچھ لا شعور کو دیا جائے گا ،وہی لا شعور اپنے ھاں جمع کر لے گا اور پھر ھماری شخصیت پہ وہ سب کچھ طاری کرے گا ،جو ھم نے اپنے ھاتھوں لا شعور کو دیا ھے ۔

اب اگر منفی سوچیں لا شعور میں ہیں تو فرد کی شخصیت بھی ویسے ھی ھو گی ،جیسے کے ھم کامیاب نہیں ھو سکتے ،ھمارا کوئی مستقبل نہیں اور یہ کے ھم تباہ ھو رہے ہیں ،ھمیں ھمارے کر تو توں کی سزا مل رہی ھے وغیرہ وغیرہ ،اب یہیں پہ ،اھم نقطہ ھے ،مغربی تحقیق لاشعور کی منفی سوچ کو کائینات سے وابسطہ کرتے ھوئی یہ کہتی ھے کے جب لا شعور میں منفی سوچ ھو گی تو کائینا تی قوتیں ھماری زندگی کو منفی سمت میں لے جائیں گی ۔

اس سے مراد یہ ھے کے تنہا لا شعور ھی فرد کی کامیابی یا ناکامی کا زمے دار نہیں ،کچھ بیرونی عوامل بھی لاشعور پر اثر انداز ھو کر فرد کی زندگی کو تبدیل کرتے ہیں ۔

 

روز مرہ کی مثال ایسے دی جا سکتی ھے کے اگر ھم یہ سوچیں کے پیسے نہیں ہیں اور اخراجات پورے نہیں ھو پا رہے تو انکی تحقیق کے مطابق ایسے حالات اور بھی  زیادہ بڑھ جایں گے کے جہاں پیسوں کی تنگی محسوس ھو گی ،کیونکے ھم اپنے لا شعور کے زریعے کائینات کی ان قوتوں کو دعوت دے رہے ہیں جو منفی صورت حال کو جنم دیتی ہیں یا یہ کے ایک طالب علم اس فکر میں مبتلا ھے کے فیل ھو جاؤں گا تو مایوسی اور نہ امیدی کی قوتوں کی بدولت وہ ناکامی کو ھی دعوت دے رہا ھے ۔

سوال یہ ھے کے نا امیدی یا مایوسی کی بیرونی قوتیں کس طرح اثر انداز ھونگی ،ضروری بات ھے کے کے اگر ایک شخص اخراجات کے ھاتھوں پریشان ھے تو وہ کچھ ایسی غلطیاں بھی کرتا چلا جا رہا ھے جو اخراجات کو بڑھا رہی ہیں ،جیسا کے ملازم ھے تو کام کو توجہ نہیں دے پا رہا ،گاہک کے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں ،پھر اس طرح کے عوامل جنم لینے لگتے ہیں جو مایوسی اور نہ امیدی کی حالت میں فیصلہ سازی کی قوت کو کمزور کرتے چلے جاتے ہیں یا پھر ایک طالب علم فیل ھونے کے ڈر سے پڑھتا کم ھے یا دیگر غیر قانونی زرائع استعمال کرتا ھے جو مشکلات کو اور بھی بڑھا دیتی ہیں

اگر اسی لا شعور کے حوالے مثبت سوچ کی جائے تو نتائج مثبت ھی ملیں گے اور کائنات کی مثبت قوتیں فرد کی جانب بڑھیں گئیں ۔

جیسا کے ھم یہ سوچیں کے ھمارے پاس ایک شاندار زندگی ھے ،ھم یہ تصور کریں ،اپنی تحقیق میں وہ اس نقطے پہ کافی زور دیتے ہیں  کے ھم باقاعدہ چلتے پھرتے اس سوچ کو اپنے لا شعور کا حصہ بنایں  یعنی جیتی جاگتی آنکھوں سے اس کا خواب دیکھیں یا دوسرے الفاظ میں یہاں تک ، کے محسوس کریں تو کوئی وجہ نہیں کے ایسی زندگی ھمیں نہ ملے  ۔

خوش رہیں ،جو ھے ،اسے کافی سے بھی زیادہ سمجھیں

ایسے ماحول میں رہیں ،جو مثبت سوچ و فکر کا حامی ھو ۔

لکھنے کی حد تک تو سب آسان ھے اور کہنے میں کیا حرج ھے لیکن کرنے میں مشکل کیونکے ھمارا لا شعور جو نہ صرف برسھا برس  سے منفی سوچوں کی اماجگاہ رہا ھے ،ایک اور تحقیق کے مطابق ،ھم اپنے آباد و اجداد کی عادتوں  کو بزریعہ جین حاصل کرتے ہیں اور جو ھمارے لا شعور کا حصہ بھی بن سکتے ہیں ۔

جیسے کے ھمارے آباد اجداد تاریک غاروں میں رہتے تھے تو نیند کے ما ہرین کا کہنا ھے کے ھم اپنے سونے کے کمروں کو تاریک رنگوں سے مزین کریں ۔

خوشحال زندگی کے ما ہرین صر ف لاشعور کو مثبت کرنے کی بات ہی نہیں کرتے وہ اسے”قانون کشش “ کے تحت کائنات کی ان قوتوں کو بھی متحرک کرنے کی بات کرتے ہیں جو مثبت لاشعور کی بدولت از خود سے آگے بڑھ کر ھماری زندگی کو خو شال بناتی ہیں ۔

لا شعور کو مثبت کیسے بنائیں ۔

جار ی۔

24/12/2017, 11:14 - dr hfiz rhman pti: پاکستان سے عظیم پاکستان ،

(ڈاکٹر حفیظ ارحمان )

خوشحال ،پر سکون اور اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے پہلا مرحلہ مثبت لا شعور اور مثبت لاشعور کے ھوتے ھوئے کائناتی قوتوں کا آگے بڑھ کر فرد کی زندگی کو بہتر بنانا ۔

یہاں تک تو ھم پہنچ گئے اب سوال یہ ھے کے لاشعور کو مثبت کیسے کیا جائے ،لیکن اس سے بھی پہلے یہ سوال جنم لیتا ھے کے کیا ھمارا لاشعور منفی ھے جو اسے مثبت کیا جائے ۔

ھمارا خیال ھے کے لاشعور بنیادی طور پہ منفی ھے اور سارا معاملہ  نیکی بدی ،اچھائی برائی  ،جنت دوزخ ،پیغمبروں کا نزول ،نظریات کا جنم لینا ،یہ سب کچھ منفی لا شعور کو مثبت لاشعور میں بدلنے کی ھی جنگ ھے ۔

منفی لا شعور ،خوف ،ڈر ،حسد  مایوسی ،نہ امیدی ،احساس کمتری ،بے انصافی ،نہ شکری ،لالچ حرص ،غرض ھر وہ عمل جو خود کو نقصان پہنچائے یا کسی فرد کو یا اجتماعی سطح پہ معاشرے کو نقصان دے درآصل ایک منفی لا شعور کی ھی شعوری کوشش ھے ۔

خوشحال زندگی کے ماہرین سب سے پہلے یہ کہتے ہیں کے ھم شکر ادا کریں ،ھم ھر گز ھرگز کسی قسم کی کوئی شکایت نہ کریں ،کیونکے جب ھم نہ شکری کرتے ہیں یا شکایت کرتے ہیں تو ھم پہ وہ ھی آسمانی قوتیں اثر انداز ھونے لگتی ہیں اور ھم نہ شکری کی حالت میں رہنے لگتے ہیں یا شکایت اور گلے کرنے کی کیفیت میں زندگی گزار دیتے ہیں ۔

لاشعور کو مثبت کرنے کے لیے وہ چند مشقیں  بتاتے ہیں ،ان میں سے چند یہ ہیں کے “میں بہت خوش  ھوں ،میرے پاس دنیا کی ھر نعمت ھے ،جن میں صحت ھے ،میرے خاندان والے ہیں ،دوست ہیں ،احباب ہیں ،مجھے اپنے اپ سے محبت ھے اور یہ کے دنیا مجھے چاہتی ھے اور میں دنیا سے پیار کرتا ھوں ،زندگی کس قدر حسین اور خوبصورت ھے ۔

ان جملوں کی گردان کرنے کو کہتے ہیں ،اسکے ساتھ ھی وہ ایسی تصاویر کا دیکھنے کو کہتے ہیں ،جن میں زندگی خوبصورت دکھائی دے ،جیسا کے پھول ،ہنستے مسکراتے بچے ،اُڑتے ھوئے رنگین پرندے ،دلکش اور حسین قدرتی مناظر ،غرض مثبت جملوں کی مسلسل گردان ،تصاویر، کامیڈی فلمیں ،ہنسی مزاق کی باتیں ،پر امیدی کی سوچ ،اچھے مسقبلُ کا یقین اور خوش گوار حال کا احساس ،محصور کن موسیقی ،یہ سب اعمال اور احساسات ھمارے لا شعور کو مثبت راہ پہ ڈالتے ہیں اور وہ تمام منفی سوچیں ھمارے لا شعور سے نکل جاتی ہیں ،المختصر ،

جو کچھ بھی ھم سوچتے ہیں ،وہی کچھ ھم ھوا کرتے ہیں ۔

لاشعور کو مثبت کرنے کے حوالے سے اسلام کیا کہتا ھے ،اگر ان ماہرین کو علم ھو جائے تو وہ صدمے سے بہوش ھو جا ہیں اور لمحوں میں اسلام قبول کرلیں اور مسلمانوں کو یہ احساس ھو جائے کے انکا مزہب کس قدر جدید ھے اور اپنی بنیاد ھی سائنس پہ رکھتا ھے ۔

اسلام جدید ترین زمانے کا مزہب ھے ،صرف آج کا ھی نہیں ،آنے والے کئی زمانوں کا مزہب جوں جوں انسانی زہن اپے ارتقائی منازل ط کرے گا ،توں توں اسلام کو جانے گا اور سمجھے گا ۔

اسلام کا سب سے بڑا حسن یہ ھے کے وہ اپنے مخاطب کی زہنی استعداد کو دیکھ کر اور سمجھ کر مخاطب ھوتا ھے اور اسی وجہ سے یہ ایک جامد یا مردہ مذہب نہیں بلکے متحرک اور زندہ مزہب ھے ۔

اسلام کی سب سے بڑی قوت اور طاقت اس کی یہ ھے کے وہ  دلیل کی بنیاد پہ اپنے مقدمے کو پیش کرنا ھے ۔

اسلام بحث و مباحثے کی دعوت دیتا ھے اور دلیل کے زریعے اپنے نظریے کی اہمیت سے اگاہ کرتا ھے ۔

جمھوریت بھی دلیل کی قائل ھے اور سائنس بھی دلیل سے ھی اپنے نتیجے کو ثابت کرتی ھے ۔

اسلام ،جمھوریت اور سائنس تینوں کا منبہ ایک ھے اور وہ اللہ ھے ۔

اگر دھونس ،زبردستی اور طاقت پہ ھی اپنی بات منوانی ھوتی تو دنیا میں کوئی کافر نہ ھوتا ،جو کے جمھوری اقدار کے خلاف ھوتا ،کائینات کا وجود اور نظام کسی قاعدے اور قانون کا محتاج نہ ھوتا ،جو کے سائنس کے خلاف ھوتا اور ان سب کا اس طرح سے نہ ھونا ھی اسلام کی گواہی ھے اور اسلام کی گواہی ھی اللہ کی عظمت کی گواہی ھے ۔

میں تماری شہ رگ سے بھی زیادہ تمارے قریب ھوں ،یہ فرمانا ھے اللہ کا ،لیکن کیا ھمیں اس کا احساس ھے اور اگر وہ اس قدر قریب ہیں تو پھر انھیں ھمارے دل و دماغ میں ھو نا چائیے اور اگر وہ ھمارے دماغ میں ہیں تو سوائے لا شعور کے اور کہیں نہیں ھو سکتے۔

اسلام ھمارے لا شعور کو بڑی سخت مشقت کے بعد اپنے تابع کرتا ھے ،صبح سویرے جب نیند اپنے جو بن پہ ھوتی ھے تو مسلمانوں کو حکم ھے کے وہ اپنی انتہائی میٹھی نیند کی قربانی دیں اور اپنے رب کے حضور پیش ھو جائیں ،یہ سلسلہ یہاں سے شروع ھوتا ھے اور دن بھر وقفے وقفے سے پانچ مرتبہ اللہ کے حضور حاضری دینی ھے ،صرف یہ ھی نہیں ھر کام کی ابتدا اللہ سے کرنی ھے ،ھر عمل کرتے ھوئے خود کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجنھا ،غرض ابتدا میں اللہ ھے اور اختتام میں بھی اللہ  ھے ۔

بار بار مختلف آئیتوں کی گردان کرنا اور صورتوں کو پڑھنا ،دراصل انکے مفہوم کو سمجنھا ھے اور انھیں اپنے لا شعور کا حصہ بنانا ھے ۔

ان مشقوں کی سائنسی حقیقت یہ ھے کے الللہ کے کلام  کو لاشعور کا حصہ بنایا جائے اور جب اللہ کا کلام ھمارے لا شعور میں سما جاتا ھے  تو اللہ کے حکم کی تعمیل از خود سے ھمارے کردار کا حصہ بنتی ھے ،اسی لیے قرآن دنیا کی واحد الہامی اور غیر الہامی کتابوں میں سے ھے جو از بر ھو جاتی ھے۔

اس کیوجہ اس کا اس طرح سے ترتیب دینا ھے کے لا شعور کوا سے از بر  کرنے میں کوئی دقّت نہیں ھوتی ۔

آج کے مسلمان کے کردار میں قرآن کے پیغام کی جھلک کیونکر نہیں دکھائی دیتی تو اس کی وجہ قرآن کو صرف جنتر منتر کی کتاب سمجنھا ھے ۔

قرآن خود سے کہ رہا ھے کے مجھے  اپنے لا شعور کا حصہ بناؤ اور پھر مغرب جس آسمانی قوت کا کہتا ھے جو ھماری دانست میں سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں ۔

چونکے قرآنی آیات کو نماز اور ثواب کی شکل میں از بر کر نے کو کہا گیا ھے  لیکن  اپنے  مفہوم کے ساتھ ،اب جبکے کے کوئی بھی عبارت اپنے  معنی اور مفہوم کے ساتھ یاد کی جائے اور بار بار اس کی گردان کی جائے تو اس فعل کا واضع مطلب ھے کے اسے لا شعور کا حصہ  بنایا جا رہا ھے ۔

جب یہ قرآنی پیغام اپنے مفہوم کے ساتھ لا شعور  کا حصہ بنتا ھے تو کوئی وجہ نہیں کے فرد کے  کردار پہ اثر انداز نہ ھو اور سب سے بڑھ کر کے اللہ اپنی مدد کو لیے فرد کی خواہشات کو پورا نہ کرے  کیونکے  انھوں نے خود اس کا وعدہ فرمایا ھے ۔

آج کی جدید تحقیق اور اسلام کا پندرہ سو سالہ طریقہ کار ایک ھی ھے کے لا شعور ھی دراصل وہ مرکز ھے کے جہاں سے ،زندگی چاہے فرد کی ھو یا قوم کی ،اسے مثبت بنانا ھو یا منفی ،اسی مرکز سے مربوط ھے اور یہ کے ھم کائینات میں تنہا نہیں ایسی قوتیں ہیں جو ھماری خواہشات کے مطابق ھمیں وہ سب کچھ دینا چاہتی ہیں ،اگر مکملُ یقین سے مانگیں ،ھم مسلمانوں کے لیے یہ قوتیں در آصل اللہ ھی ہیں ۔

مسلمانوں کے زوال کی بنیادی وجہ بھی یہ ھی تھی اور آج اگر مسلمانوں کو عروج چائیے تو بھی انکے سامنے دو راستے ہیں ،جنکی منزل ایک ھے ،مغرب کے راستے کو اپناتے ھوے یا پھر اسلام کے راستے کو اپناتے ھوئے ترقی اور کامیابی کی جانب بڑھا جائے ۔

مغرب کی ترقی میں ھم انکے ھاں ایک مخصوص دور کی ابتدا دیکھتے ہیں ،جس میں اوپر تلے سائنسی ایجادات کا ایک سیلاب دکھائی دیتا ھے ،جمھوری اقدار کی نشونما ملتی ھے اور اقتصادی ترقی کے ساتھ بینالاقوامی فتوحات کا ایک لا متناہی سلسلہ دکھائی دیتا ھے ،جس سے انکے ھاں دولت کی فرا وانی بڑھ جاتی ھے ۔

دوسری جانب اسلام اپنے زوال کی جانب رواں دواں ھوتا ھے ،سازشیں ،ملوکیت ،عیش و عشرت ،خود غرضیاں ،نہ اھل اور اوباش حکمران ،دقیانوسی انداز فکر ،جاہلیت ،تحقیق اور جستجو سے کنارہ کشی اور یہ روش آج تک جاری ھے ۔

ایک طرف امید اور روشن مسقبلُ اور دوسری جانب مایوسیاں اور نہ امید یاں ،ایک طرف خلاوں کو سر کرنے کے خواب اور دوسری جانب پدرمن سلطان بود کی گردان ،ایک طرف اپنی غلطیوں کی لرزش اور محاسبہے اور دوسری جانب اپنی غلط کاریوں کو بیرونی سازشوں کا شاخسانہ کہنا ۔

ایک جانب مثبت سوچ اور دوسری جانب منفی ۔

جس نے جو چاہا ،اسے وہی ملا ۔

آج کے مسلمانوں کی مثال آدھا تیتر آدھا بٹیر کی سی ھے ۔مغربی تہزیب اور رہن سہن کو دل بھی مچلتا ھے ،ویزوں پہ مبارکبادیں دی جاتی ہیں ،دنیا میں رہنا ھے تو مغرب میں رہا جائے اور آخرت میں رہا جائے تو جنت میں ۔

ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں اور پلے کچھ بھی نہیں پڑ رہا سوائے رسوا یوں اور گمنایوں کے ۔

ھمیں فیصلہ کرنا ھو گا اسلام یا پھر مغرب ۔

ملکوں کے نام رکھنے سے ملک اسلامی نہیں ھوا کرتے اور صرف جمعے کے جمعے زمین سے سے سر ٹکرانے  وے اسلام کی روح کو چھوا نہیں جاسکتا ۔

مغرب کو اپناتے ھوئے اسلام کو فرد کا زاتی معاملہ بنا دیں یا پھر پورے کے پورے اسلام کے ھو جائں۔

اپنے مرکز کو لوٹیں اور یا پھر دنیا کی اڑان میں انکے ساتھ اڑیں ۔

اگر ھم اپنے زہن کا فرد کی سطح پہ یا قومی سطح پہ تجزیہ کریں تو ھمیں سوائے انتشار کے کچھ بھی نہیں ملتا ۔ھماری کوئی سمت ھی نہیں ھے ۔ھم جانا کہاں چاہتے ہیں ۔

ایک منتشر  لا شعور کبھی بھی مثبت سمت کی جانب متحرک نہیں ھوتا ۔


افکار و نظریات: سوچنے والوں کا پاکستان