احمدیت کا دھندہ

عبدالوحید

پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھیں تو سول حکومت کے خلاف جونعرے لگائے جاتے تھے ان میں ختم نبوت اور اسلام خطرے میں ہے بھی شامل ہوتے تھے اب کچھ عرصہ سے اسلام خطرے میں ہے کا نعرہ متروک ہوگیا ہے کیوں کہ عوام نے ایسے نعرے لگانے والوں کو ووٹ کی فصل کاٹنے کی اجازت نہیں دی تاہم اب احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے باوجود ختم نبوت کا مسئلہ موجود رہتاہے۔

 اس کے لئے الیکڑانک میڈیا یاپرنٹ میڈیا تو زیادہ اہمیت نہیں دیتا کیوں کہ ان کواس امر کا بخوبی احساس ہے کہ یہ نعرہ جب بھی کوئی لگاتاہے اس کے پیچھے مقاصد کچھ اورہوتے ہیں حتیٰ کہ بسا اوقات اس ایمان کے مسئلہ پر کوئی فرد یا ادارہ بھر پور خلوص سے بات بھی کر رہا ہوتا ہے تو اس کو گمان بھی نہیں گزرتا کہ وہ غلط کر رہا ہے جہاں تک عالمی طاقتوں کااس مسئلہ کی حوالہ سے کیا لینا دینا اس پر ایک سر سری نظر ڈال لیتے ہیں

پاکستان کی پالیسیوں پر سب سے زیادہ امریکہ اثر اندازہوتاہے یہ ایک کھلی حقیقت ہے امریکہ کے علاوہ کوئی بھی ملک ایسا نہیں جو ہمیں کسی بھی نوعیت کاحکم جاری کر سکے او رہم بھی اگر کسی حکم کوتسلیم کرتے ہیں تو وہ امریکہ ہی ہے اس کی وجہ ہے کہ ہم امریکہ اور اس کے زیر اثر اداروں سے مالی امداد لیتے ہیں

امریکہ کو پاکستان میں موجود احمدیوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کیوں کہ ان کے غیر مسلم ہونے ،مسلم ہونے ، اقلیت ہونے یااکثریت کا حصہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر اس حوالہ سے وہ بات کرے گا بھی تو زیادہ سے زیادہ انسانی حقوق کے حوالہ سے کرے تاہم میری نظرمیں کوئی ایسی صورت حال سامنے نہیں آئی کہ امریکہ ختم نبوت کے ضمن میں احمدیوں کے لئے مرے جا رہا ہو

پاکستان سے غیر ممالک جانے والے احمدیوں کی تعداد بھی زیادہ ترامریکہ کی بجائے برطانیہ یاجرمنی کا رخ کرتی ہے ان ممالک میں پہلے سے ہی احمد یوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ان کے رشتے داربھی ان ہی وطنوں میں رہائش پذیرہیں

جہاں تک امریکہ کے اندر احمدیوں کی حیثیت کی بات ہے تو امریکہ کے بارے ہم اپنے میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا میں جو کچھ مرضی گھڑتے رہیں ان کے قوانین واضع ہیں اگر کسی مسلک سے وابستہ کٹر مسلمان نے جوکہ پاکستا ن سے ہی گیاہواہے اس کواگر نشنلٹی مل گئی تو وہ اس کو اسی طرح حقوق دیتا ہے جس طرح کے اپنے دیگر شہریوں کودیتا ہے اس کے سامنے وہ بس امریکہ کا شہری ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔یہ ہی ایک ایسا عمل ہے کہ ہم پاکستان میں امریکہ کے خلاف بڑا زہر اگلتے ہیں لیکن ا س ملک کی شہریت کے حصول کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے اللہ ہی معاف کرے میں یہاں ایک ذاتی مشاہدہ کی بات ضرور عرض کروں گا سرگودھا کاایک آدمی امریکہ میں شہریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اوروہ شہریت ملنے کے بعد پہلی بارپاکستان کے لئے روانہ ہونا چاہتا تھا اس آدمی کے مطابق امریکہ حکومت نے کہاکہ تم پاکستان پہلی بار جارہے ہو پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں بالخصوص امریکیوں سے سخت نفرت کااظہار کیاجا رہا ہے اس لئے احتیاط برتنا ہے اور اگر کوئی مسئلہ پید اہوجائے تو پاکستان کی پولیس سے رابطہ نہیں کریں بلکہ فوری طور پر سفارت خانہ رابطہ کریں

ہمیں آئے روز احمدیوں سے خوف زدہ کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے کہ یہ لوگ ریاست کے اہم عہدوں پر قبضہ کر لیں گے اول تو اس کے امکانات نہیں ہیں دوئم قائد اعظم کی کا بینہ میں سر ظفر اللہ خان شامل تھے انہوں نے ہمارا کیا بگاڑ لیا امریکہ میں حال ہی میں ایک کالا صدر رہا ہے اس نے امریکہ کے گوروں کو کیا نقصان پہنچا دیابھارت میں مسلمان اور سکھ صدارتوں اور وزارتوں جیسے اہم عہدوں پر براجمان رہے ہیں انہوں نے بھارت کاکیا زچ پہنچائی یااپنی ہی کمیونٹی کو کیافائدہ دے دیا

عرض کرنے کا مطب ہے کہ جدید دور میں کوئی ایک فرد کسی بھی بڑے سے بڑے عہدہ پر پہنچ کر اس ملک کو مجموعی طور پر ملیاملیٹ نہیں کر سکتا تاہم ہمارے اپنے ایمان کا معاملہ ہے کہ ہم اپنے عقیدہ کی حفاظت کریں اس سے غافل نہ ہوں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم کسی نہ کسی مسلک سے بندھے ہوئے ہیں آپ کسی بھی اسلامی حوالہ سے بات کریں تو بغیر وقت ضائع کیے بتا دیا جائے گا کہ آپ کس مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اگر یہ درست ہے تو پھر احمدی ہمیں کیوں کر ورغلا سکتے ہیں ؟اوران جانے میں اسلام سے دور کر سکتے ہیں ؟

مجھے پوار یقین ہے کہ کوئی فرد ، ادارہ یا ملک پاکستانیوں کے ایمان پر حملہ کرکے مغلوب نہیں کرسکتا تاہم اگرکچھ لوگوں کی دال روٹی وابستہ ہے یا اسلام کی آڑ میں کوئی اور ہی کھیل کھیل رہا ہے تواس کے لئے بس اپنا رب سے دعاہے کہ وہ ہماری حفاظت فرمائے اور اسلام کی آڑ میں دھندہ کرنے والوں کوبھی راہ ہدائت دے۔


افکار و نظریات: احمدیت کا دھندہ