موروثی سیاست

(ڈاکٹر حفیظ ارحمان)

جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کی حلقہ ۱۵۴ کے لیے نامزدگی پاکستانی سیاسیات کا ایک اور المیہ ھے ۔عمران خان صاحب کا اگر پاکستان پہ کوئی احسان ھو سکتا تھا تو صرف یہ ھوتا کے پارٹی کو ادارہ بنا دیتے ۔پاکستان کو شخصیات کی ضرورت نہیں ،اینٹ آٹھایں تو ایک سے ایک ہیرا ملے گا لیکن میرٹ اور انصاف نہ ھونے سے یہ ہیرے مٹی میں رل گئے  ہیں ۔

تحریک انصاف کا نعرہ ھی میرٹ اور انصاف ھے اور جب اپنی پارٹی میں ھی الیکشن ٹکٹ کا کوئی طریقہ کار ھی نہیں اور صرف اقربا پروری کی بنیاد پہ ٹکٹ دیا جارہا ھے تو کل کو حکومت میں آنے کے بعد میرٹ کی بنیاد پہ عام ادمی کو کیسے مواقعے ملیں گے ۔

عمران خان سے ھمارا یہ کہنا ھے کے انٹرا پارٹی الیکشن ھی وہ واحد راستہ ھے جس سے مخلص اور زہین قیادت سامنے آسکتی ھے ،سترویں ترمیم میں جو باقاعدہ انٹرا پارٹی الیکشن کی ترمیم تھی جسے رضا ربانی کی قیادت میں تمام پارٹیوں نے مل کر اٹھارویں ترمیم میں ختم کی لیکن اس وقت اسمبلی میں تحریک انصاف کی نمائندگی نہ تھی ،پر اب تو اسمبلی میں نمائندگی ھے ،اور اس واضع ترمیم کو بحال کر کے جماعتوں میں انٹرا پارٹی الیکشن کو ائینی تحفظ دیا جا سکتا ھے لیکن پی ٹی آئی نے اس حوالے سے تا دم وقت کچھ نہیں کیا ۔

یہ انتہائی دکھ اور تکلیف دہ امر ھے کے پاکستان میں سیاسی اصول پرستی کا فقدان ھوتا جارہا ھے ،صرف زاتی اغراض اور مقاصد کو سامنے رکھ کر سیاست کی جا رہی ھے ،ایک ادنا ورکر سے لے کر پارٹی رہنما تک اپنے ضمیر کی آواز پہ توجہ دینے کی بجائے صرف اپنے زاتی مقصد کو سامنے رکھ رہا ھے ۔

دوسر وں میں خامیاں ڈھونڈنا آسان ھوا کرتا ھے لیکن اپنے گریبان میں جھانکنا بھی ضروری ھوا کرتا ھے ۔

ھمارے نوجوان سیاسی ورکر کوسوچنا چائیے کے سچ اور حق کے لیے آواز اٹھانا ھی دراصل حقیقی سیاست ھے اور اگر بے انصافی اور بے اصولی کی سیاست ھی کرنی ھے تو پھر پاکستان میں اینٹ آٹھایں تو ایسی بے شمار پارٹیاں مل جایں گی لیکن ھم عمران خان  سے اور تحریک انصاف سے یہ توقع نہیں رکھتے کے وہ ان تمام پارٹیوں کے نقش قدم پہ چلیں گے  جنکے ھاتھوں پاکستان کا یہ حشر ھوا ۔


افکار و نظریات: موروثی سیاست