اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات حوصلہ مند لوگوں کا پاکستان ...صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود گبن سے لے کر ٹائین بی تک تمام ثقہ مورخین متفق ہیں کہ زوال پذیر معاشروں کی سب سے واضح علامتیں سوچ، فکر، قومی اعتماد اور قومی خودی میں زوال ہوتی ہیں اور جب قوموں کی فکر زوال کا شکار ہوتی ہے تو اس کی پہلی علامت یوں ظاہر ہوتی ہے کہ قومیں اپنی فتوحات، اپنے کارناموں اور اپنے مشاہیر کو یا تو شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیتی ہیں اور اپنے مخالفوں کی تعریف میں رطب اللسان ہو جاتی ہیں یا پھر اپنے کارناموں اور قومی ہیروز کا قد گھٹانے میں لذت محسوس کرنے لگتی ہیں۔ آپ اپنی تاریخ پر نگاہ ڈالیں اور یاد کریں کہ تقسیم ہند کے نتیجے کے طور پر قیام پاکستان کو عالمی سطح پر ایک تاریخی معجزہ قرار دیا گیا تھا کیونکہ اس سے قبل عالمی تاریخ میں اس طرح کی مثال موجود نہیں تھی اور قائد اعظم محمد علی جناح کو ایک عظیم لیڈر قرار دیتے ہوئے ان الفاظ میں خراج تحسین ادا کیا تھا: ’’عالمی تاریخ میں صرف چند حضرات نے تاریخ کا دھارا بدلا، صرف چند نے دنیا کا نقشہ بدلا، قومی ریاست کے قیام کا کریڈٹ بمشکل ہی کسی کو دیا جا سکتا ہے۔ محمد علی جناح قائد اعظم نے بیک وقت تینوں کارنامے سر انجام دیئے۔ ‘‘ (سٹینلے والپرٹ، جناح آف پاکستان) گویا اس امریکی مورخ کا کہنا ہے کہ عالمی تاریخ میں جناح کے علاوہ اور کوئی مثال نہیں ملتی جہاں کسی لیڈر نے بیک وقت یہ تینوں کارنامے سر انجام دیئے ہوں جبکہ ہم قائد اعظم کا قدوقامت گھٹانے کی مہم میں شریک ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا قائد اعظم قوم کی حمایت کے بغیر یہ تاریخی کرامت یا ’’معجزہ‘‘ سر انجام دے سکتے تھے؟ جواب سادہ سا ہے کہ ہرگز نہیں۔ مطلب یہ کہ قوم نے انہیں تقریباً نصف صدی تک دیکھا، پرکھا، سمجھا اور تب کہیں دوسرے لیڈروں سے تائب ہو کر قائد اعظم کی قیادت پر ’’ایمان‘‘ لائی۔ قائد اعظم نے نصف صدی کی سیاسی زندگی میں ثابت کیا اور پھر قوم اس حقیقت کی قائل ہوئی کہ جناح بصیرت، کردار، انداز سیاست اور ویژن کے حوالے سے تمام مسلمان لیڈروں سے کہیں بڑا لیڈر ہے۔ تب قوم نے قائد اعظم کو نجات دہندہ تسلیم کیا اور اس کی زبان نہ سمجھنے کے باوجود اس کے پیچھے صف آرا ہو گئی۔ قوم کے اندھے اعتماد نے، جسے قائد اعظم نے نصف صدی کی محنت اور کارکردگی سے جیتا تھا، 1945-46 کے انتخابات میں رنگ دکھایا اور مسلم لیگ نے مرکزی قانون ساز اسمبلی کی تمام مسلمان نشستیں جیت لیں۔ ذرا غور کیجئے کہ نیشنلسٹ مسلمان امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں، یہ تھا جوش و خروش اور جذبہ پاکستان کے لئے کیونکہ یہ انتخابات پاکستان کے نعرے پر لڑے گئے تھے۔ دوسرے الفاظ میں یہ تھا مسلمانوں کا اعتماد قائد اعظم کی قیادت اور ذات پر۔ ایثار کا یہ عالم کہ اقلیتی صوبوں کے مسلمان جنہیں علم تھا کہ وہ کبھی بھی ہندو کی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکیں گے انہوں نے بھی اپنے بھائیوں کی اکثریت کی آزادی کے لئے قیام پاکستان کے حق میں ووٹ دیئے۔ مسلمانانِ ہند کے اس کارنامے کو تاریخ نے معجزہ قرار دیا لیکن آج 66برس بعد ہمارے دانشور اس معجزے پر تشکیک کا اظہار کر کے اور شرمندگی کا تاثر دے کر نہ صرف اپنے قومی کارنامے کو گہنارہے ہیں، اپنے بزرگوں کے دامن پر سیاہی کے چھینٹے ’’چھڑک‘‘ رہے ہیں بلکہ قائد اعظم کی قیادت اور ویژن پر بھی اپنی کم فہمی اور مایوسی کے تیر برسا رہے ہیں۔ اس کا ایک آسان سا طریقہ ہے کہ وہ لیڈران جنہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی، قائد اعظم سے دشمنی کرتے رہے اور مسلمانان ہند و پاکستان کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا کر کچلے گئے اُن کی مخالفانہ تحریروں اور تقریروں کے حوالے دے کر ان کی عظمت کے گن گائو اور اپنے قائد اور اپنے قومی کارنامے پر شرمندگی کا اظہار کرو۔ نوجوان نسل جس نے نہ ہند ذہنیت کے چرکے کھائے، نہ پاکستان بنتے دیکھا اور نہ ہی قائد اعظم کی عظمت کو جگمگاتے دیکھا اسے نہ صرف پاکستان سے بدظن کر دو بلکہ اپنے عظیم قائد کی بصیرت اور ویژن کے بارے میں بھی مشکوک کر دو جس کی قائدانہ صلاحیتوں اور بصیرت کی گواہی عالمی تاریخ دیتی ہے۔ قائداعظم بھی سیاسی زندگی کے آغاز میں ہندو مسلم اتحاد کے مخلص داعی تھے، آل انڈیا کانگریس کی صف اول میں کھڑے تھے لیکن ہندو ذہنیت کے آشکارہ ہونے کے بعد اور کانگریس کے سیاسی عزائم سمجھ کر وہ کانگریس سے الگ ہوئے اور مسلمانوں کو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے متحد اور منظم کرنے کے لئے زندگی وقف کر دی۔ کیا آپ کو علم ہے کہ قائد اعظم نے علیحدگی کا فیصلہ کتنے سوچ بچار اور کتنے طویل سفر کے بعد کیا؟ قائد اعظم نے کانگریس اور ہندوئوں کے ساتھ تقریباً پچیس (25) برس گزارنے کے بعد علیحدگی کا فیصلہ کیا جب وہ پوری طرح اس حقیقت کے قائل ہوگئے کہ ہندو اکثریت مسلمانوں کے حقوق کو بہرحال پامال کرے گی اور مسلمانوں سے شودروں سا سلوک کرے گی۔ دیکھ لیجیے ہندوستان کو آزاد ہوئے 66برس گزر گئے، مسلمان ہندوستان کی آبادی کا تقریباً چودہ فیصد ہیں لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کا انڈین سول سروس میں حصہ چار فیصد پولیس سروس میں نمائندگی دو فیصد کے لگ بھگ، فنانس بینکنگ میں ایک فیصد سے تھوڑی سی زیادہ اور تعلیم میں حصہ کسمپرسی کی دردناک داستان ہے۔ آئے دن فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کا قتل معمول کی بات ہے اور ان پر قومی زندگی میں آگے بڑھنے کی راہیں مسدود ہیں۔ ہندوستان کی کتنی ہی فرقہ وارانہ جماعتیں اور سماجی تحریکیں مسلمانوں کے وجود سے نفرت کرتیں اور انہیں مٹا دینا چاہتی ہیں۔ کبھی غور کیجئے کہ آپ کو جو معدودے چند مسلمان اعلیٰ پوزیشنوں پر نظر آئیں گے ان کی اکثریت ہندو کلچر میں رچی بسی ہے اور یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ ہندوستان کی ترقی کے لشکارے دکھا کر ہمارے نوجوانوں کو چکا چوند کرنے والے کبھی اس پر بھی غور کریں کہ ہندوستان کی معاشی، عسکری، سیاسی اور سماجی ترقی میں مسلمانوں کا حصہ کتنا ہے؟ مسلمانوں کی اکثریت آج بھی غربت، بیروزگاری اور جہالت کا شکار ہے۔ جن حضرات کو یہ حسن ظن ہے کہ پاکستان نہ بننے کی صورت میں مسلمان ہندوستان میں چالیس پچاس کروڑ ہوتے اور ہندوستان کی کل آبادی کا تہائی حصہ ہوتے جو تقسیم ہند کے وقت تھے وہ یقین رکھیں کہ پچاس کروڑ مسلمانوں کا بھی وہی حشر ہونا تھا جو آج ہندوستان میں پندرہ سولہ کروڑ مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ وقت ملے تو سیچررپورٹ کا مطالعہ کیجئے جو ہندو ذہنیت اور مسلمان دشمنی کی ہوشربا داستان ہے۔ آپ ذہین فطین اور عالم و فاضل ہی سہی لیکن اپنی بصیرت کا مقابلہ قائد اعظم اور ان کے ساتھیوں سے نہیں کرسکتے جنہوں نے کئی دہائیوں تک ہندو اور کانگریسی لیڈر شپ کے قریب رہ کر خلوص نیت سے کام کیا اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کی فلاح، بہتری اور ترقی کا راز علیحدگی میں مضمر ہے۔ قائد اعظم اس کشتی کے واحد مسافر نہیں تھے بلکہ سچ یہ ہے کہ جنگ آزادی 1857کے کچھ برسوں بعد سے لے کر 1947کی آزادی تک تقریباً ہر بڑے مسلمان لیڈر نے کانگریس اور ہندو عزائم کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد علیحدگی کی راہ اپنائی۔ یہ سلسلہ سرسید احمد خان سے لے کر اقبال سے ہوتے ہوئے جناح تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ راز اگر کسی کو سمجھ میں نہیں آیا تو وہ مولانا ابوالکلام آزاد تھے یا مولانا حسین احمد مدنی تھے جو زندگی بھر ہندوئوں اور کانگریس کی زلف کے اسیر رہے۔ علامہ مشرقی یا مولانا مودودی کا معاملہ یکسر مختلف ہے کیونکہ یہ دونوں حضرات قیام پاکستان کے مخالف نہیں تھے بلکہ مسلم لیگ کے بوجوہ مخالف تھے۔ جماعت اسلامی نے نہ تحریک پاکستان کی مخالفت کی اور نہ حمایت۔ ان کا خیال تھا کہ مسلم لیگ اسلامی ریاست کا خواب دکھا رہی ہے لیکن یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ بہرحال میرا سوال صرف اتنا سا ہے کہ تاریخ میں سر سید، اقبال اور جناح کا کیا مقام ہے اور ان کے مقابلے میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی کہاں کھڑے ہیں؟ میں جب عالمی سطح کے مورخین کی کتابوں میں جھانکتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مدنی کہیں نظر ہی نہیں آتے جبکہ اقبال و جناح عالمی سطح کے مفکرین و قائدین کی صف اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ اسی لئے جب ہمارے دانشور ابوالکلام آزاد یا علامہ مشرقی کے وژن کا مقابلہ اقبال و جناح سے کرتے ہیں تو مجھے حیرت ہوتی ہے اور صدمہ بھی۔ ہماری بدقسمتی کہ ہمارے لیڈروں کی نالائقیوں ، نااہلی اور کرپشن کے سبب ہمیں یہ دن دیکھنا نصیب ہوا کہ ہمارے دانشور پاکستان و قائد اعظم مخالف لیڈروں کی تحریروں کے حوالے دے کر قوم کو شرمندہ اور نوجوانوں کو ملک سے بدظن کررہے ہیں جبکہ نوجوان معاشی بدحالی کے سبب پہلے ہی مایوسی کا شکار ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ دن بدل جائیں گے اور ہمیں رات کی تاریکی کے بعد دن کا اجالا دیکھنا نصیب ہو گا۔ حضرت علی ؓ کا یہ قول یاد رکھیں کہ ’’منزلیں حوصلوں سے ملتی ہیں‘‘ اس لئے عرض کرتا ہوں کہ جب حوصلے پست ہوجائیں تو منزلیں بھی پست ہو جاتی ہیں۔ اتنے ناداں بھی نہ تھے حد سے گزرنے والے ناصحو، پند گرو راہگزر تو دیکھے http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=157111
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: حوصلہ مند لوگوں کا پاکستان
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں