ڈاکٹر حفیظ ارحمان
قومی الیکٹورل کالج سے مراد ووٹر کا وہ طبقہ جو قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرتا ھے ۔

پاکستان میں ووٹر کی عمر اٹھارہ سال ھے ،سوال یہ ھے کے کیا اٹھارہ سال کا ایک نوجوان اس قدر زہنی پختگی رکھتا ھے کے قیادت کے انتخاب میں اپنا کردار ادا کر سکے ۔
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ھم یہ جاننا چاہیں گے کے سیاسی ورکر اور ووٹر میں فرق کو سمجنھا ضروری ھے ۔
سیاسی ورکر ،پارٹی نظریات اور پارٹی لیڈر شپ سے متاثر ھو کر ایک جماعت کے ساتھ اپنی وابستگی قائم کرتا ھے اور اپنی من پسند جماعت کو اقتدار میں لانے کی جستجو کرتا ھے ۔
ووٹر ،ایک عام ادمی ،جس کی کوئی مخصوص وابستگی کسی جماعت سے نظریاتی یا لیڈر شپ کی پسندیدگی کی بنیاد پہ نہیں ھوتی اور وہ بوقت انتخابات اپنے مسائل کے حل کے حوالے سے قیادت یا پارٹی کو ووٹ دیتا ھے ۔
یہاں یہ سوال جنم لیتا ھے کے اٹھارہ سال کا ایک ووٹر کس حد تک زاتی مسائل سے گزرتا ھے ۔
ھمارے ھاں اٹھارہ سالہ فرد عمومی طور پہ تعلیمی مراحل طہ کر رہا ھوتا ھے یا روز گار کے حوالے سے اپنی عملی زندگی کے آغاز میں ھوتا ھے ۔
ابھی اس نوجوان کو کسی خا ندان کی باقاعدہ رہنمائی کا درجہ نہیں ملا ھوتا اور وہ بزات حود ایک خاندان کا حصہ ھوتا ھے اور اسی مناسبت سے خاندانی اضراجات میں اپنا کردار ادا کرتا ھے ۔
تعلیمی اعتبار سے اٹھارہ سال کی عمر میں میٹرک ھی کیا جا سکتا ھے ،اگر تو یہ ووٹر پڑھا لکھا ھے تو میٹرک پاس ھے اور اگر ان پڑھ ھے تو اس کی زہنی استعداد پہ سوال اٹھائے جا سکتے ہیں ۔
ووٹ ،دراصل ایک رائے کا نام ھے ،کسی بھی رائے کو قائم کرنے کے لیے ،مضمون کے بارے میں واقفیت کا ھونا ضروری ھوا کرتا ھے ،جس کے لیے وسائل اور وقت کی ضرورت ھوا کرتی ھے ۔
وسائل سے مراد عوامی رائے اور سوچ و فکر ،میڈیا اور سیاسی جماعتوں کی تبلیغ اور تجوید ،اب اگر کسی مستند ووٹر کے لیے قابلیت کا میعار مندرجہ بالا عوامل مقرر کیے جاتے ہیں ،
جن میں وسائل ،وقت اور سب سے اھم زاتی تجربات ،ایک اٹھارہ سالہ وو ٹر کس حد تک قومی قیادت اور ملک و قوم کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اہل ھو سکتا ھے ۔
ان نو عمر ووٹروں کے جزباتی فیصلوں میں برد باری معاملہ فہمی اور دور اندیشی کا فقدان ھوتا ھے ۔
ھماری دانست میں ملک و قوم کے مسقبلُ کے لیے الیکٹورل کالج کے وو ٹرکی عمر کم سے کم حد تیس سال ھونی چائیے ۔


افکار و نظریات: قومی الیکٹورل کالج