محبوب اسلم

اگر کبھی ایک ٹکٹ میں دو مزے لینے کے محاورے کو مثال سے ثابت کرنا درپیش ھو تو عمران خان کیطرف سے جہانگیر ترین کی جگہ علی ترین بچونگڑے کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ دینا اور انتہائئ ڈھٹائی سے تبدیلی کا دعوی کرنے کو ایک کلاسک مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ھے۔

 ایک طرف تو عمران خان روایتی سیاست کا ھر وہ قبیح عمل کر رھا ھے جس کو بنیاد بنا کر اس نے بقول مولانا خادم حسین رضوی کے نون لیگ اور پی پی پی کی پین دی سری کی ھوئی ھے۔۔۔اور دوسری طرف نہایت منافقت کا مظاھرہ کرتے ھوۓ عمران خان تبدیلی ک نعرہ لگا رھا ھے۔

اب یا تو عمران خان اس قوم کو حبیب جالب کے بیس کروڑ گدھے سمجھتاھے یا پھر وہ اسی سیلیبریٹی اسٹیٹس پر قناعت کر چکا ھے جو اس کو آج حاصل ھے اور حقیقی تبدیلی سے اسکو کوئی سروکار نہیں ھے۔ یعنی عمران خان کو اس بات کا یقین ھے کہ اب وہ کسی قسم کا بھی بلنڈر کر لے وہ عوام میں اندھی تقلید اور چاپلوسوں کا ایک کرٹیکل ماس بنا چکا ھے جو بقول کِسے بادشاہ کے برھنہ ھونے پر بھی خاموش ھے۔ اب عمران خان کے نزدیک تبدیلی ایک بے معنی ٹارگٹ ھے۔ اگر ایمپائیر نے انگلی اٹھا دی تو یہ بونس ھوگا وگرنہ خدا سلامت رکھے جہانگیر ترین، نعیم الحق، علیم خان اور عون چودھری کو جو عمران خان کی ھر ضرورت کا خیال رکھتے ھیں اور جیتے رھیں تقلیدی ورکرز جو آوےھی آوے کے نعرے لگانے اور عمران خان کی گاڑی کے آگے پیچھے بھاگنے کو ھمۂ وقت تیار ھیں۔

دوری طرف ایک اچھی خاصی تعداد ان ”مخلص“ پارٹی

 لیڈرز کی ھے جو پارٹی ٹکٹ کے چکر میں پارٹی سے ”وفاداری“ نبھا رے ھیں۔ لیکن اس ساری صورت حال میں تبدیلی بچاری گئی تیل لینے!!!

 ‎یہ وہ عمران خان ھے جو عام آدمی کو قومی سیاست میں عملدار بنانے کا دعوی کرتا آیا ھےجو پیسے کو جنون سے ٹکرانے کا دلفریب انقلابی نعرہ لگاتا آیا ھے اور جب وقت آیا تو اس نے پیسے کے سامنے سر سرنگون کر دیا۔ لیکن منافقت کی انتہا ھے کہ یہ حضرت انقلابی گولہ باری ھم بیس کروڑ گدھوں پر مسلسل کیے جارھے ھیں اور حیرت انگیز بات یہ ھے کہ وہ یہ قبیح عمل انتہائی ڈھٹائی سے کر رھے ھیں۔ اللہ بھلا کرے مسٹر ٹین پرسنٹ نے کم ازکم اخلاقیات کا لیکچر ھم گدھوں سے دور رکھا۔ لیکن یہاں تو عمران خان ھمیں کھلا کھوتے کی لِد رھے ھیں اور بضد ھیں کہ بیٹا قوم کھا کہ یہ لڈو ھے!!!

ویسے ھماری بھی کیا قسمت ھے کہ ھم نے بیس سال تھوڑا تھوڑا کر کے ایک فرد سے دوسرے فرد تک جو تبدیلی کا خواب پرویا اور جب اس خواب نے بالاآخر عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کی تو اسوقت عمران خان نے ھمارے یہ خواب بیچ ڈالے۔ یعنی جب شکار کاوقت آیا تو شیر کا شکاری رفع حاجت کو بیٹھ گیا۔۔۔

یااللہ اس قوم کا امتحان کب ختم ھوگا؟؟؟


افکار و نظریات: عمران خان اور تقلیدی ورکرز