مولوی محمد باقر دہلوی
حسب و نسب اور خاندان

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے مجاہد،اردو کے پہلے ہفت روزے کے بانی اور اردو صحافت کے پہلے شہید ہیں۔ آپ کا حسب و نسب حضرت سلمان فارسی رضوان اللہ سے ملتا ہے ۔مولانا محمد باقر کے اجداد ایرانی تھے ان میں سے علامہ محمد شکوہ، شاہ عالم کے زمانہ میں میں ہمدان سے دلی آئے تھے، بادشاہ نے ان کی شایان شان پذیرائی کی اور دربار سے ان کا وظیفہ بھی مقرر کر دیا تھا۔ مولوی محمد باقر کا بیان ہے کہ وہ ایک مسلم الثبوت مجتہد تھے، علامہ محمد شکوہ کے فرزند ، مولانا محمد اشرف اور ان کے بیٹے مولانا محمد اکبر اور ان کے بیٹے مولوی محمد باقر دہلوی تھے جو ۱۸۵۷ میں وطن کے لئے انگریزوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔

مولانا محمد باقر اپنے والد ماجد مولانا محمد اکبر کے اکلوتے فرزند ارجمند تھے۔ مولانا محمد اکبر طاب ثراہ ایک بزرگ عالم دین کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے تھے ، آپ کے فرزند مولانا محمد باقر کی طبیعت تنوع پسند تھی ان کے مزاج میں گویا قدرت نے بلا کا علمی، ادبی اور ثقافتی ذوق گویا کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا تھا، وہ دہلی کالج میں مدرس اور کلکڑی کے محکمہ میں تحصیلدار اور سپرنٹنڈینٹ کا عہدہ بھی سنبھال چکے تھے۔

مولوی محمد باقر میں تمام حضرات علم دین کے ماہر فقہ، حدیث، تاریخ اور تفسیر کے عالم تھے ،عروج لکھنؤ سے قبل یہ لوگ دہلی میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے ،مولوی محمد باقر صاحب کے ولد مولانا محمد اکبر نہایت پائے کے مدرس تھے ان کے شاگردوں میں مولانا رجب علی شاہ، ارسطو جاہ اور مولانا سید قاری جعفر علی صاحب جارچوی کے اسماء بہت مشہور ہیں مولانا محمد اکبر کا اپنا ایک حوزہ علمیہ تھا جو دہلی میں ملک کے اہل تشیع حضرات کے دینی و علمی مسائل کو حل کرنے میں مصروف تھا ، کہا جاتا ہے کہ مولانا کے دینی مدرسہ میں کثیر تعداد میں طلاب علوم دین تحصیل علم میں مصروف رہا کرتے تھے ، دہلی میں آپ نے ایک امامبارگاہ کی تعمیر بھی کروائی تھی، جو کافی وسیع عریض تھا درگاہ پنجہ شریف کے قریب ہی وہ جگہ آج بھی موجود ہے مگر افسوس کہ آج اس آزاد منزل میں موٹر پارٹس کی بہت سی دکانیں ہیں جو ایک المیہ ہے اور شہید صحافت مولوی محمد باقر کے ساتھ حد درجہ نا انصافی ہے کاش کوئی جواں ہمت قانون سے اس کی بازیابی کے لئے کمر ہمت باندھ لے تو شہید مولوی باقر کو اس سے بہتر خراج عقیدت اور کوئی نہیں ہو سکے گا۔

ولادت اور شہادت
آپ کی پیدائش ہمدان سے آئے ہوئے خاندان میں ہوئی یہ خاندان اپنی علمی ادبی اور تحقیقی بنیادوں پر پہچانا جاتا تھا آپ تقریباً ۱۲۰؁۵ھ میں پیدا ہوئے (۱۷۹؁۰ء) اور ۱۲۷؁۴ھ مطابق (۱۸۵؁۷ء) میں وطن کی آزادی کی چاہت میں دلی دروازہ پر شہید کر دیئے گئے۔

دہلی اخبار سے اخبار الظفر تک کا تاریخی سفر
انیسویں صدی کی آمد تھی کہ جب ہندوستان ایک نئے معاشرہ کو جنم دے رہا تھا اور یہ وہ وقت تھا کہ جب سلطنت مغلیہ کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں لیکن ابھی رمقِ شہنشاہیت باقی تھی اور ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے اقتدار کو از سر نو ہر چہار سمت پھیلانے میں مصروف تھی اسی وجہ سے وہ ہندوستان کی مقبول زبانوں سے قربت حاصل کرنا چاہتی تھی ۱۸۳؁۰ء میں جب فارسی کی عدالتی حیثیت ختم کردی گئی تو اردو کو عدالتی زبان ہونے کا شرف حاصل ہوا کیونکہ عوام کی اصلی اور مادری زبان اردو ہی تھی ۱۸۲؁۵ء میں لیتھو گرافی کی ابتدا ہو چکی تھی اور ۱۹۳؁۵ء ہی میں غالباً نئے اخبار نکالنے کی ملکمل آزادی بھی مل چکی تھی ، ایسے ماحول میں دہلی کے ایک اعلیٰ علمی خانوادہ کے چشم و چراغ نے دہلی اخبار کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبار نکالنا شروع کیا جو اپنی نوعیت کا ایک علیحدہ اخبار تھا۔

دہلی اخبار کی منفرد تاریخ
دہلی کے قدیم معاشرہ میں نت نئے خیالات ، موضوعات اور سیاسی خبریں چھاپنے کا یہ ایک واحد اخبار تھا جو نہات اہم مانا جاتا تھا اس کا طرز تحریر بے پناہ جاذب اور دلچسپ تھا ااس کے مدیر اعلیٰ کو دنیائے صحافت و ثقافت مولانا محمد باقر رح کے نام سے یاد کرتی ہے تاریخ بتانی ہے کہ ۱۸۳؁۶ء میں آپ نے ایک لیتھو پریس خریدا تاکہ اپنی تصانیف و تالیف کی طباعت کا سلسلہ شروع کر سکیں ابتدا میں اس پریس کا نام جعفریہ رکھا گیا مگر بعد کو اردو اخبار پریس میں تبدیل کر دیا گیا۔

ہفت روزہ اخبار میں ادبی، سیاسی،علمی، جو بھی پہلو ہوتا تھا وہ حد درجہ دلچسپ اور حقائق پر مبنی ہوا کرتا تھا البتہ سیاسی پہلو سب سے زیادہ نمایاں ہوتا تھا اور یہی اس اخبار کاطرہ امتیاز بھی تھا۔ مولانا محمد باقر انگریزوں کی غلامی سے بے حد متنضر تھے اور ان کے اقتدار و حکومت کو لمحہ بھر کے لئے قبول کرنے کے لئے راضی نہ تھے کیونکہ ان کے دل میں حقیقی آزادی کا اور وطن پرستی کا جذبہ موجزن تھا۔اس زمانہ میں آج کی طرح ذرائع ابلاغ کی سہولتیں فراہم نہیں تھیں بلکہ مغل بادشاہوں کا قائم کردہ سسٹم نظام وقائع نگاری ہی اپنے عروج و بروج پر تھا لیکن شہید مولانا محمد باقر نے اپنے اخبار میں مختلف درباروں ، ریاستوں اور شہروں کی خبریں شائع کرنے کا جو اہتمام کیا تھا وہ نہایت اہم اور لائق صد تحسین تھا اور اسی وجہ سے اردو اخبار نے عوامی حلقہ میں اپنی ایک اہمیت اور الگ پہچان بنالی تھی۔

غرض وقت گذرتا گیا اور ایک دن وہ بھی آگیا کہ جب ٹھیک ۵۷/سال بعد شمالی ہند میں بسنے والے مولانا محمد باقر نے بھی جون ۱۸۵؁۷ء میں اپنے مطبوعہ اردو اخبار میں اسی قسم کی آزادی اٹھائی اور تمام ہندوستانیوں کو خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان، سکھ ہوں یا عیسائی، ہر ایک کو ، گوروں کے خلاف جنگ کرنے کی دعوت عام دیدی تھی۔

انقلاب کے زور پکڑتے ہی مولانا نے خود کو بمع اپنے اخبار کے وطن کی آزادی کے لئے مکمل وقف کر دیا تھا بلکہ مئی ۱۸۵؁۷ء کا پورا شمارہ انقلاب ہی کے حالات پر مشتمل تھا ،جس میں دہلی، انبالہ، میرٹھ، سہارنپور اور روڑکی کے تمام حالات غدر خاصی تفصیل سے پیش کئے گئے تھے یہاں تک کہ بعد والے تمام شمارے مولانا نے اسی روش پر شائع کئے مزید بر آں یہ کہ مولانا کی طرف سے انقلابیوں کی بڑی ہمت افزائی ہوتی تھی اور بلند حوصلہ رکھنے کے لئے نصیحتیں بھی شائع کی جاتی تھیں۔

‘‘اخبار الظفر’’
مولانا باقر کے انقلابی کارناموں سے خوش ہو کر مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر نے اردو اخبار کا نام اپنے نام پر رکھ کر ‘‘اخبار الظفر’’ کر دیا لہذا آخری دس شمارے اخبار الظفر ہی کے نام سے شائع ہوئے۔

شہادت
جس روز مولانا کو گولی مار کر شہید کیا جانے والا تھا تو آپ کے فرزند جناب مولانا محمد حسین آزاد آپ کے ایک دوست کے ساتھ جو اس وقت کرنل کے عہدہ پر فائز تھا اس کے سائس بنکر خونی دروازہ کے سامنے اپنے بہادر باپ کے آخری دیدار کو تشریف لائے یہاں پر چاروں طرف فوجی پہرہ تھا مولانا باقر نماز میں مصروف تھے اور تھوڑے فاصلہ پر مولانا آزاد گھوڑے کی باگ تھامے کھڑے تھے کہ مولانا باقر نے نماز تمام کی اور اب جو سر اٹھایا تو سامنے اپنے چہیتے لاڈلے مولانا آزاد کو پایا باپ نے بیٹے کو اور بیٹے نے باپ کو دیکھا آنکھوں میں آنسوبہائے مولانا نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور آنکھوں میں اشارہ کیا بیٹا ملاقات ہو چکی اب خدا حافظ مولانا آزاد کو بھیس اس وجہ سے بدلنا پڑا چونکہ آپ بھی اپنے والد کی طرح انگریز مخالف اور مشتبہ افراد کی فہرست میں تھے لہذا کرنل نے مولانا کا اشارہ پاتے ہی اپنا گھوڑا موڑ لیا اور دونوں وہاں سے واپس چلے آئے اور ابھی کچھ دور ہی چلے تھے کہ مولانا محمد باقر کو توپ کے گولے سے شہید کر دیا گیا آپ کے جسم کے ٹکڑے ہوا میں بکھر گئے ۔


افکار و نظریات: مولوی محمد باقر