راجہ صاحب محمود آباد

 پاکستان، سرسید احمد خان کی تعلیمی خدمات، قائد اعظم کی رہنمائی اورراجہ صاحب محمود آباد کی دولت کے مرہونِ منت ہے۔راجہ صاحب محمود آباد ریاست محمود آباد کے والی تھے جوکہ لکھنو سے 30 میل دور شیعہ اکثریتی ریاست تھی۔

آپ کے والد گرامی سرمحمد علی خان مایہ ناز شخصیت کے حامل تھے آپ کے والد مہاراجہ علی محمد خاں، نے ایک دفعہ کانپورمسجد کے حادثے میں گرفتار ہونے والے مسلمانوں کی ضمانت کے طور پر اپنی پوری ریاست پیش کردی تھی۔ لوگوں نے کہا بھی آپ بلاامتیاز سب کی ضمانت دے رہے ہیں، ان کی اکثریت سے آپ واقف بھی نہیں ہیں تو آپ نے کہا ایک مسلمان کو بچانے کے لئے میری ریاست ختم ہوجائے تو میں اسے معمولی سمجھوں گا۔ اور یہ سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ ان کے تحفظ کے لئے میں اپنی جان اور آن کے لئے بھی خطرہ مول لے سکتا ہوں، ریاست کیا چیز ہے۔

راجہ صاحب نے جس طرح دل کھول کر تحریکِ پاکستان میں اپنی دولت لٹائی ہے اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔ جب آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تویہ ایک قسم کی گورنرسرہنری ہیگ کے ساتھ ٹکرکے مترادف تھا۔ اسی وجہ سے آ پ کو بلاکردھمکی دی گئی کہ اگرآپ نے مسلم لیگ نہ چھوڑی تو ریاست ضبط کرلی جائے گی۔ لیکن آپ پراس کا کوئی اثرنہ ہوا بلکہ شعلہ آتش اورتیزہوگیا۔

راجہ صاحب مخدوم ہونے کے باوجودقوم کے  خادم نظر آتے اورشاید خدمت کی یہ میراث ان کو اپنے والد مہاراجہ محمد علی خاں سے ملی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ راجہ صاحب ایک طرف سے مسلم لیگ کے تمام جلسوں کا خرچہ برداشت کرتے تو دوسری طرف ذاتی طورپرہربیکس و نادارکی مدد کے لے ہمہ وقت تیار رہتے۔

 جب آپ کے بیٹے سلیمان میاں صاحب کی ولاد ت ہوئی تو لوگوں نے جشن منانے کا مشورہ دیا۔ مگرآپ نے عجیب انداز سے اللہ کی اس نعمت کا شکرادا کیا۔ وہ اس طرح کہ ریاست کی تمام ٤٢ تحصیلوں سے کل ایسے آدمیوں کی فہرست منگوائی جو موتیا کے مرض کا شکارتھے۔ چنانچہ انھوں نے گیارہ سو اٹھاون 1158 مریضوں کو اپنے علاقے کے کیمپ میں ٹھہرایا اور تمام لوگوں کا مفت آپریشن ڈاکٹر ٹی پرشادجو اس وقت آنکھوں کے مشہور ڈاکٹر تھے سے کروایا ۔

قیام پاکستان کی تحریک میں آپ کی خدمات جلی حروف میں درج ہیں۔ آپ قائد اعظم کے دست راست شمار ہوتے تھے۔ آپ نے قیام پاکستان کے سلسلہ میں مالی، اخلاقی مدد فراہم کرنے میں بہت زیادہ مثبت کردار ادا کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح متعدد مواقع پر آپ کے وجود کو باعث افتخار قراردیا۔اور آپ کی صلاحیتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے آپ کومسلم لیگ کا خزانچی مقررکیا لیکن راجہ صاحب اس اہم منصب کے ساتھ ساتھ اپنی شعلہ بیانی سے بھی نوجوانوں کے دلوں کو گرماتے رہے، یوں زبانی خرچ کے ساتھ ساتھ جیبی خرچ کی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہے۔


افکار و نظریات: راجہ صاحب محمود آباد