مرزا احمد اصفہانی

مرزا احمد اصفہانی قائداعظم کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے قائداعظم کے کہنے پرمسلم بینکاری نظام کا آغازکیا اورمسلم کمرشل بینک کی بنیاد رکھی۔ آپ نے ہرمشکل موقع پرمسلم لیگ کے فنڈ میں خطیر رقم بطورچندہ دی۔ قائداعظم اکثروبیشترمسلمانوں کی فلاح وبہبود اورمعاشی ترقی کے لیے آپ کے ساتھ مشاورت کیا کرتے تھے۔

پاکستان کے قیام سے پہلے ہی قائد اعظم محمد علی جناح کی دوربین نگاہوں نے آگے آنیوالے جدید دور کے تقاضوں کو بھانپتے ہوئے ایک قومی ائیر لائن کی ضرورت محسوس کرلی تھی ۔ اسی لئے قائد اعظم نے معروف کاروباری شخصیت مرزا احمد اصفہانی اور آدم جی حاجی دائودسے مدد کی درخواست کی تھی کہ مستقبل کی نئی مملکت کیلئے ایک ائیر لائن کی بنیاد ڈالی جائے جس پر 23اکتوبر 1946کو کلکتہ میں اورینٹ ائیر ویز کے نام سے ایک ائیر لائن کی بنیاد ڈالی گئی جس نے ابتدائی طور پر تین جہاز خرید کر جون 1947میں فلائنگ آپریشن کا آغاز کیا۔

 اسکے بعد جب14 اگست کو آزادی کا اعلان ہوا تو اسی اورینٹ ائیر لائن نے قائد اعظم کی ہدایت پر عوام کی فلاح وبہبود کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ اس طرح برطانوی دور حکومت میں یہ پہلی اور واحد مسلم ائیر لائن تھی۔ اسکے بعد حکومت پاکستان نے گیارہ مارچ 1955کو اورینٹ ائیر لائن کا انضمام کرتے ہوئے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن کارپوریشن کی داغ بیل ڈالی اور اپنے بیڑے میں مزید جہازوں کا اضافہ کرتے ہوئے ترقی کی جانب قدم اٹھانا شروع کیا۔


افکار و نظریات: مرزا احمد اصفہانی