یہ خالصتاً ایک تحقیقی اور علمی مسئلہ ہے، پاکستان کی نسلِ نو کو پاکستان دشمن نظریات سے بچانے کے لئے ہمیں بغیر کسی تعصب کے ہمیں اپنی نئی نسلوں کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ جن مولوی حضرات نے تحریکِ پاکستان کی مخالفت کی ان میں مولانا مودودی، مولانا حسین محمد مدنی، مولوی حبیب الرحمن لدھیانوی، سید عطائ اللہ شاہ بخاری، مولانا عبد الکلام آزاد اور علامہ عنایت شرقی جیسے جید علمائ کے نام نظر آتے ہیں (سوائے چند علمائ کہ جن میں عبدا لحامد بدایونی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا احتشام الحق تھانوی شامل ہیں)۔

مولانا مودودی نے کہا، ’’کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ ہم کانگریس سے تصادم چاہتے ہیں۔ ہرگز نہیں! ہندوستانی ہونے کی حیثیت سے تو ہمارا مقصد وہی ہے جو کانگریس کا ہے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس مشترکہ مقصد کے لئے بالآخر کانگریس کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔‘‘ (مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ،صفحہ ٦٤، حصہ اول)
اس طرح بعض مذہبی تحریکیں بھی تحریکِ پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش رہیں، مثلاً جمعیت العلمائ ہند، جماعتِ اسلامی، خدائی خدمتگار، خاکسار تحریک اور مجلس احرار نے نہ صرف پاکستان بننے کی مخالفت کی بلکہ ساتھ ساتھ کانگریس کی حمایت بھی کی۔ ’’مجلسِ احرار‘‘ کے رہنما، مولانا حبیب الرحمن اور محسن لدھیانوی کا تحریکِ پاکستان کے رہنماوں سے نفرت کا اندازہ ان کے اس جملہ سے لگایا جاسکتا ہے:
’’دس ہزار جناح، شوکت، ظفر، جواہر لال نہرو کی جوتی کی نوک پر قربان کئے جاسکتے ہیں‘‘۔

ان حقائق کو سامنے لانے کا مقصد یہ ہے کہ نئی نسل کو ان حضرات کے پاکستان کے حوالے سے ان کے معاندانہ نظریات کا شعور دیا جائے ، اس کے علاوہ دیگر میدانوں میں ان شخصیات سے مثبت اور علمی استفادہ اپنی جگہ پر کیا جا سکتا ہے۔


افکار و نظریات: قیامِ پاکستان کے مخالف مولوی حضرات