قائداعظم کہنے پر قتل
منیر احمد منیر

روزنامہ نوائے وقت لاہور۔24جولائی 2012ئ۔ ”محمد علی جناحؒ کو ”قائداعظم کا لقب کس نے دیا؟“ کے عنوان سے چودہری ناصر محمود ایڈووکیٹ لکھتے ہیں:”مولانا مظہر الدین نے محمد علی جناح کو پہلی بار دسمبر 1937ءمیں ”قائداعظم“ کا لقب دیا تھا۔

بحوالہ انسائیکلوپیڈیا”پاکستانیکا“ از سید قاسم محمود۔

محمد علی جناح کےلئے لقب قائداعظمؒ کس نے اور کب سب سے پہلے استعمال کیا؟ اب تک کی دستیاب معلومات کے مطابق محمد علی جناحؒ کےلئے یہ لقب سب سے پہلے جمعیت علمائے ہند کے رہنما مولانا احمد سعید دہلوی نے 7 دسمبر 1936ءکو مراد آباد کی جامع مسجد میں ایک وعظ کے دوران میں استعمال کیا:

”آج مسلمانوں میں سیاست کو سمجھنے والا اس سے بہتر کوئی شخص نہیں، لہٰذامسلمانوں کے قائداعظم ہونے کے بجا طور پر وہ مستحق ہیں“۔

(”سیاستِ ملیہ“۔ از: امین زبیری،صفحہ253۔ ایڈیشن 1991ئ۔ پبلشر:آتش فشاں لاہور)

ہمارے ہاں ”پہلی بار“ کے دو الفاظ استعمال کرنے کے شوق نے بڑی بڑی تاریخی اغلاط کو وجود بخشا ہے۔ بزرگ مسلم لیگی احمد سعید کرمانی کا 22 جولائی 2001ءکو روزنامہ جنگ لاہور سنڈے میگزین میں ایک انٹرویو شائع ہوا تھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ لاہور سیشن 1940ءکے ذکر میں انہوں نے کہا:

”.....قائداعظمؒ اس وقت قائداعظم ؒ نہیں بنے تھے۔ یہ خطاب ان کو 42ئ،43ءمیں ملا“ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 42، 43ءتک کئی طرف سے انہیں قائداعظمؒ کہہ کے پکارا جا چکا تھا۔ اور پورا برصغیر اس سے گونج رہا تھا۔ مثلاًپروفیسر شریف المجاہد مطلوب الحسن سید کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جناح صاحب کو کسی لیگ سیشن میں پہلی بار قائداعظمؒ کے خطاب سے مولاناظفرعلی خاں نے پکارا۔

یہ آل انڈیامسلم لیگ کا لکھنو سیشن تھا۔ جو 15تا18اکتوبر 1937ءلکھنو¿ کے لال باغ میں ہوا۔

پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب”قائداعظم جناح.... سٹڈیز اینڈ انٹرپریٹیشن“ میں سید صاحب کے حوالے سے مولاناظفرعلی خاںؒ کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں:

”ہمارے قائدمحمدعلی جناح، بلکہ میں یہ کہوں گا کہ ہمارے قائداعظم محمد علی جناح.....“۔ (صفحہ433)۔

قائداعظمؒ کو یکم جنوری 1938ءکے روز مسلمانان ِ”گیا“ کی طرف سے ایم شاہ سید قاسم الدین احمد نے سپاسنامہ پیش کیا۔ قائداعظمؒ نے اسکے جواب میں تقریر کی۔ اسی روز مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ”گیا“ کے استقبالیے میں بھی وہ خطاب کرتے ہیں۔

یکم جنوری کو ہی مسلم سٹوڈنٹس کلب گیا ان کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کرتی ہے۔ قائداعظمؒ جوابی تقریر ارشاد فرماتے ہیں۔

2جنوری کو قائداعظمؒ گیا شہر کی جمعہ مسجد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہیں۔ ”گیا“ میں انکی اس آمد پر کلکتہ کے اردو روزنامہ ”عصرجدید“ نے 3جنوری1938ءکی اشاعت میں لکھا:-’ ’گیامیں مسلمانانِ ہند کا قائداعظم ؒ“۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے سابق آفس سیکرٹری مرحوم سید شمس الحسن اپنی تالیف”.....صرف مسٹر جناح“ (پبلشر:آتش فشاں لاہور)کے صفحہ 88اور 89پر لکھتے ہیں:-

”اگرچہ قائدؒ کسی قسم کے اعزاز کو ناپسند کرتے تھے، لیکن جب برصغیر کے مسلمانوں نے انہیں قائداعظمؒ کے خطاب سے پکارا تو وہ انہیں اس امر سے نہ روک سکے۔

یہ خطاب پہلے پہل شروع 1938ءمیں مولانا مظہرالدین نے اپنے سہ روزہ ”الامان“ (جو دہلی سے شائع ہوتا تھا) میں استعمال کیا تھا جو فوراً ہی مقبول ہوگیا۔

مولانا مظہرالدین جمعیت علمائے ہند کے علما پر تنقید کرنے میں بڑے بے باک تھے۔ اسی باعث انہیں 13مارچ 1939ءکو دہلی میں شہید کردیا گیا“۔

ملاواحدی کے نزدیک محمد علی جناح کو قائداعظمؒ کا خطاب سب سے پہلے خواجہ حسن نظامی نے دیا۔ اس ضمن میں وہ”میرے زمانہ کی دلی“، مطبوعہ: 1958ءکے صفحہ 268پر لکھتے ہیں:-

”قائداعظمؒ کو قائداعظمؒ بھی سب سے پہلے خواجہ صاحب نے لکھا“۔

حسین ملک، جنہیں 1936ءمیں آل انڈیا مسلم لیگ کا جائنٹ سیکرٹری منتخب کیا گیا تھا، نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا:- ”38ءمیں دہلی میں ایک جلسہ ہوا‘ جلسے کے بعد جلوس نکالا گیا۔ قائداعظمؒ بگھی میں سوار ہوئے۔

دہلی مسلم لیگ کے صدر شیخ شجاع الحق ان کے ساتھ بیٹھے تھے، اور میں سامنے والی سیٹ پر تھا۔ ہجوم بہت تھا، اس لئے بعض اوقات مجھے بگھی سے اترنا پڑتا۔دہلی کی فضا اللہ اکبر اور زندہ باد کے نعروں سے معمور تھی۔ مختلف بازاروں میں سے ہوتا ہوا جلوس دریبا بازار میں سے گزررہا تھا کہ ”قائداعظم زندہ باد“ کا نعرہ بلند ہوا۔ پھر یہ نعرہ مسلسل بلند ہونے لگا۔ لوگ یہ نعرہ پوری قوت سے لگا رہے تھے۔

یہ پہلا موقع تھا جب انہیں قائداعظم کے لقب سے پکارا گیا۔ اسکے بعد مسٹر جناحؒ کسی نے پکارا ہی نہیں۔ قائداعظمؒ (The Great Leader)ہی ان کا نام بن گیا۔ دنیا میں یہ سعادت بھی کسی کو کم ہی نصیب ہوئی ہوگی“۔ (بحوالہ: ”آتش فشاں“ لاہور۔ قائداعظم نمبر۔ دسمبر 1976ئ۔ صفحہ29)۔ یہ جلوس اتوار 30 جنوری 1938ءدہلی میں نکلا۔ اس عظیم الشان اور نشانِ راہ جلوس کی چشم دید تفصیل میری کتاب ”دی گریٹ لیڈر“ (اردو) جلد دوم میں دی گئی ہے۔

آل انڈیا مسلم لیگ کا 26واں سالانہ اجلاس 26تا 29دسمبر1938ءپٹنہ میں ہوا۔ وہیں 26دسمبر کو جلسہ عام میں لاہور موچی گیٹ کے میاں فیروزالدین نے قائداعظم زندہ باد کا نعرہ بلند کیا۔ قیام پاکستان کے بعد مختلف اخبارات میں ہم یہی پڑھتے رہے کہ قائداعظمؒ کے خطاب کے موجد میاں فیروزالدین ہیں‘ تاہم اوپر دی گئی تفصیل اس کی نفی کرتی ہے، بلکہ اکثر بیان ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں، لیکن یہ طے ہے کہ 40ءسے پہلے قائداعظمؒ کا خطاب برصغیر میں اپنی گونج پیداکرچکا تھا۔

ان سے پہلے بھی کئی ہندوستانی اور غیر ملکی شخصیتوں کو یہ خطاب دیا گیا، لیکن بات بنی نہیں۔ یہ تفصیل بھی بڑی معلوماتی ہے۔ صرف چند مثالیں:-

سعودی عرب کے بانی سلطان عبدالعزیزابن سعود کے نام کےساتھ بھی قائداعظم لکھا جاتا رہا، لیکن چلا نہیں۔ انکے ایک سوانح میں درج ہے:-

مولانا ابوالکلام آزادکےلئے بھی قائداعظم کا لفظ استعمال ہوا۔چودھری افضل حق، جن کے متعلق شورش کاشمیری لکھا کرتے تھے، وہ مجلسِ احرار کا دماغ تھے، 14فروری1922ءکو سزایاب ہوئے۔ انہوں نے جیل کے تجربات اور مشاہدات پر ”دنیا میں دوزخ یعنی جیل خانہ“ کے نام سے کتاب لکھی۔ اسکے آغاز میں ہی وہ گاندھی کو قائداعظم قراردیتے ہیں:-

لندن میں دوسری گول میز کانفرنس(7ستمبر تا یکم دسمبر1931ئ)میں شرکت کے بعد گاندھی 28دسمبر 1931ءبذریعہ بحری جہاز بمبئی پہنچے۔ ڈاکٹر بی پٹا بھائی ستیارامیہ ”تواریخِ کانگریس“ میں گاندھی کےلئے قائداعظم کا لقب استعمال کرتے ہیں۔

مہجور کاشمیری نے اپنے ان کشمیری اشعار میں شیخ عبداللہ کےلئے قائداعظم کا سابقہ استعمال کیا....

کمی سنا بدلود سون تقدیرقائداعظم شیر کشمیر

بندہ گی موکلے یہ زندگی پھیرقائداعظم شیرکشمیر

مولانا محمد علی جوہر کے نام کےساتھ بھی کئی اخبارات قائداعظم لکھتے رہے۔ میں نے مولانا عبدالماجد دریابادی کے اخبار”سچ“ کے اس دور کے فائل دیکھے۔ ان میں مولانا محمد علی کے ساتھ قائداعظم کا سابقہ بڑی کثرت سے استعمال کیا گیا۔

4جنوری 1931ءکو وہ لندن میں فوت ہوئے۔ کئی اخبارات نے انکے ساتھ قائداعظم کا لفظ استعمال کیا۔ میں نے ایک بار فٹ پاتھ پر 1933ءکا رسالہ ”عالمگیر“ لاہور دیکھا۔ اس میں مولاناپر ایک کتاب کے اشتہار کی عبارت کچھ اس طرح تھی:- اپنے دور کے قائداعظم مولانا محمد علی کی سوانح عمری شائع ہوگئی۔

ترک قوم کے محسن اور جدید ترکی کے بانی کمال اتاترکؒ کے نام کےساتھ میں نے کئی تحریروں میں قائداعظم کا خطاب دیکھا ہے۔ یہاں تک کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے 1923ءکے لکھن¿و سیشن میں استقبالیہ کمیٹی کے چیئرمین شیخ شاہد حسین بیرسٹر نے جو استقبالیہ پڑھا اس میں کمال اتاترکؒ کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے قائداعظم غازی مصطفی کمال پاشا کہا۔

مولانا ظفرعلی خاںؒ کے مشہور زمانہ روزنامہ ”زمیندار“ لاہور نے 6دسمبر1938ءکو فلسطین ایڈیشن شائع کیا۔ اسکے صفحہ اول پر مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی کی تصویر کے نیچے لکھا:-

”تحریک آزادی فلسطین کے قائداعظم حضرت امین الحسینی مفتی اعظم آپ لبنان میں نظر بند ہیں“۔

اور بھی کئی شخصیتوں کےلئے یہ خطاب استعمال کیا گیا لیکن کسی کےساتھ یہ چلا نہیں۔ جب یہ دنیا کے انتہائی سچے، کھرے اور بے ریا سیاستدان، بلکہ سٹیٹس مین محمد علی جناح کےلئے استعمال ہوا تو کرہ ارض قائداعظم زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔

کسی دوسری شخصیت کےساتھ اس خطاب کی ضرورت، خواہش اور کوشش ہمیشہ کےلئے دم توڑ گئی۔ لفظ قائداعظم، محمد علی جناح کی تکمیل، تجسیم، ترصیع اور سراپا بن گیا۔ بقول آغا شورش کاشمیری:- جب تک ستاروں میں چمک ہے یہ نام بھی چمکتا رہے گا۔

ریسرچ رپورٹ وائس آف نیشن