ناانصافی، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

اصغر مہدی

گلگت بلتستان میرے پسندیدہ شہروں میں سے ہیں. گزشتہ کچھ سالوں میں کافی جانا ہوا. گرمیوں کی طرح جاڑے کے دن وہاں بسر کرنے کا بھی اپنا ہی لطف ہے. برف کی سفیدی سے ڈھکی وادیاں اور ندی نالوں میں بہتے ہوئے پانی پر جمی ہوئی برف کا سحر آپ کو سردی کا احساس بھی نہیں ہونے دیتا. پھر سورج ڈھلتے ہی بخاری (انگیٹھی)  کے گرد لگنے والی محفل کا مزہ کسی بہترین ناول اور کسی دوسری تفریح سے کہیں بڑھ کہ ہے.

 اور بسا اوقات یہاں ملنے والا درس بھی سالوں کے تجربے پر محیط ہوتا ہے جو کسی زخیم کتاب سے بڑھ کہ سکھاتا ہے. اسی انگیٹھی کے گرد بیٹھے ایک شخص نے ایک کہانی سنائی کہ ایک بار کرکٹ کھیلتے ہوئے دو لڑکوں کی آپس میں تکرار ہو گئ ان میں سے ایک نے غصےمیں دوسرے کے سر پہ کرکٹ کھیلنے والا بلا دے مارا شدید ضرب کے باعث دوسرے کی موت واقع ہو گئ. مارنے والا وہاں سے فرار ہو گیا.

مرنے والے کے گھر والوں کی طرف سے ایف آئی آر کٹوائی گئی. مرنے اور مارنے والے دونوں خاندانوں نے قاتل کو ڈھونڈنا شروع کر دیا. قاتل کے گھر والوں کو کچھ بڑی فہم و فراست والے قابل لوگوں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ اپنے لڑکے کی طرف سے کیس کی پیروی کریں لیکن لڑکے کے سیدھے سادھے والد نے یہ کہتے ہوئے منع کر دیا کہ وہ کسی قاتل اور مجرم کا کبھی ساتھ نہیں دیں گے چاہے وہ ان کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو. تب مجھے اندازہ ہوا کہ آخر یہ خطہ پاکستان کا حصہ ہوتے ہوئے بھی کیوں اتنا مختلف ہے یہاں کا کرائم ریٹ سب سے کم ہے اور سہولیات سے محروم پسماندہ ہونے کے باوجود بھی تعلیمی صورتحال بہتر ہے. ایک طرف یہ کہانی اور ایک طرف شاہزیب قتل کیس کی کہانی ہے.

 عدالت سے رہائی پانے والے شاہ رخ جتوئی کا وکٹری کا نشان بنانا. ٹریفک کانسٹیبل کے قاتل اچکزئی کا اعوامی استقبال اور یہ عدالتی فیصلے ہماری معاشرتی بے حسی اور بدبودار نظام کی نشاندہی کرتے ہیں. یہاں سیاست دان , مذہبی رہنما اور ریاستی طاقتور ادارے وسائل پر دسترس حاصل کرنے کی جنگ میں اس قدر غرق ہیں کہ معاشرتی اخلاقی اقدار کو بری طرح مسخ کیئے جا رہے ہیں.

 بات اسی طرف جا رہی ہے کہ کھانا نہیں تو کیک کھا لیں. بیٹا قتل ہو گیا اب اپنی جان کو خطرہ ہے قاضی صاحب میونسپلٹی میں مصروف ہیں اچھا!  کوئی بات نہیں پیسے لیں اور دوبئی منتقل ہو جائیں. دیت کے پیسے ہیں تو آپ لڑکی کو چھیڑ سکتے ہیں اور اس کا بھائی آنکھیں دکھائے تو آپ اس کی آنکھیں بھی نوچ سکتے ہیں.  چھوٹے قبیلے کا کانسٹیبل آپ کی گاڑی کے سامنے آئے تو کچل بھی سکتے ہیں. اور پھر جب دیت کی رقم مقتول کے گھر تک اور کچھ لفافے دفتروں تک پہنچا کہ با عزت بری ہوں گے تو عوام کا ایک ہجوم آپ کے استقبال کے لئے آئے گا. لیکن یاد رکھئے گا ظلم کی حکومت کا اختتام ہمیشہ برا ہوا ہے گزشتہ نسل کی بے حسی سے اکتائی ہوئی نئی نسل آپ کو بے سکون کر سکتی ہے... 


افکار و نظریات: ناانصافی, آنکھیں بھیگ جاتی ہیں