اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات نیاسال اوردو پرانے کام نذر حافی دوست شناسی سے پہلے دشمن شناسی ضروری ہے، کسی خالی پلاٹ پر پڑے ہوےکچرے کے ڈھیر کواٹھائے بغیر وہاں پر دلکش عمارت تعمیر نہیں کی جا سکتی۔دشمنوں کی شناخت کے بغیر دوستوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، اگر دشمنوں کی شناخت نہیں ہوگی تو دوستوں کی صفوں میں جا بجا دشمن گھس جائیں گے۔ ہم بے شک سارے بلوچوں کو ملک دشمن کہہ کر جیلوں میں ڈال دیں، سارے پختونوں کو غدار کہہ کر پابندِ سلاسل کر دیں، سارے سندھیوں کو علیحدگی پسند کہہ کر ٹارچر سیلوں میں جھونک دیں، سارے پنجابیوں پر عدمِ اعتماد کر کے اُنہیں پانچوں دریاوں میں دریا بُرد کر دیں تو اس کے باوجود اس مُلک میں دہشت گردی اور شدت پسندی ختم نہیں ہو گی۔ اگر ہم واقعتاً اس ملک سے شدت پسندی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں سنجیدگی سے یہ سوچنا پڑے گاکہ آخر ہماری نئی نسل شدت پسندوں کی باتوں میں کیسے آجاتی ہے!؟، ہمارے دینی مدارس اور کالجز کے طالب علم طالبان، القاعدہ اور داعش کے نظریات سے کیسے متاثر ہوجاتےہیں!؟ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اس وقت مسلک وہابیت اور مکتب سلفی کے مرکز سعودی عرب میں کوئی سپاہِ صحابہ، لشکرِ جھنگوی، داعش، القاعدہ ، طالبان اور خود کُش بمباروں کا کوئی کیمپ کیوں نہیں!؟ صرف یہی نہیں بلکہ ہمارے لئے یہ بھی لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں دیوبندی مکتب کا مرکز دارالعلوم دیوبند موجود ہے، پورے ہندوستان میں بھی کوئی سپاہِ صحابہ، لشکرِ جھنگوی، داعش، القاعدہ ، طالبان اور خود کُش بمباروں کا کوئی کیمپ کیوں نہیں!؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ سعودی عرب یا ہندوستان میں دیوبندی اور وہابی مسالک کے لوگ کبھی بھی اسلحہ نہیں اٹھاتے ! کیوں آخر کیوں!؟ اسلحہ نہ اٹھانے کی صرف یہی وجہ ہے کہ ان کی سعودی عرب اور ہندوستان کے ساتھ ایک ہم آہنگی اور انڈر سٹینڈنگ ہے جو پاکستان اور پاکستانی عوام کے ساتھ بالکل نہیں۔ پاکستان اور پاکستانی عوام کے ساتھ ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ مکاتب اور تنظیمیں پاکستان بننے کے ہی خلاف تھے، سو پاکستان بن تو گیا لیکن ان کی مخالفت اپنی جگہ ایک نئے روپ میں ظاہر ہوگئی ہے۔ اب یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ جیسا بیج بویا جاتا ہے ویسی ہی فصل تیار ہوتی ہے، اگر ہم اپنی نوجوان نسل کی فصل سے نالاں ہیں تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنی نوجوان نسل کے ذہنوں میں کیا ایسا کیا بیج بو رہے ہیں جس کی وجہ سے شدت پسندوں کی فصل تیار ہو رہی ہے!اور ہماری نوجوان نسل پاکستان کے دشمنوں کہ آلہ کار بن رہی ہے۔ اس کے لئے ہمیں اپنی درسی کتابوں پر ایک نظر ڈالنی ہوگی۔ہم نے اپنی نئی نسل کو قیامِ پاکستان کے دشمنو اور مخالفین سے آگاہ ہی نہیں کیا۔ چنانچہ ہمارا نوجوان بڑی آسانی کے ساتھ پاکستان کے دشمنوں کے لشکروں میں شامل ہوجاتا ہے اور اپنے ہم وطن پاکستانیوں پر شبخون مارنے لگتا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اس حقیقت سے پردہ اٹھانا ہوگا کہ قیامِ پاکستان سے پہلے سلفی و دیوبندی تنظیمیں اور مکاتب قیامِ پاکستان کے خلاف تھیں، صرف خلاف ہی نہیں تھیں بلکہ کانگرس کے ہم قدم اور ہم خیال تھیں، صرف کانگرس کے ہم قدم اور ہم خیال ہی نہیں تھیں بلکہ انہوں نے قائداعظم کو کافراعظم کہا اور پاکستان کو کافرستان کہا! اِن کانگرس نواز تنظیموں اور مکاتب کو ماضی کی طرح آج بھی سعودی عرب اور ہندوستان کے ساتھ کوئی مشکل نہیں ہے، اُنہیں اگر کوئی مشکل ہے تو آج بھی صرف اور صرف پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ ہے۔ جولوگ جس طرح قیامِ پاکستان سے پہلے قائداعظم کو کافراعظم کہتے تھے اور پاکستان کو کافرستان یہ اسی طرح پاکستان بننے کے بعد بھی اپنے موقف پر قائم ہیں ، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قائداعظم کی ریذیڈنسی کو دھماکوں سے اڑایا جاتا ہے ، آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں کو خاک و خوں میں غلطاں کیا جاتا ہے اور پاک فوج کو ناپاک اور پلید فوج کہاجاتا ہے۔ آج ضروری ہے کہ پاکستان کے نصابِ تعلیم میں خصوصاً تاریخِ پاکستان اور مطالعہ پاکستان میں نئی نسل کو اُن شخصیات، مدارس، مکاتب اور تنظیموں سے آگاہ کیا جائے جو روزِ اوّل سے ہی قیامِ پاکستان کے مخالف ہیں اور آج بھی پاکستان کے جوانوں کو دہشت گردی کی تربیت دینے میں مصروف ہیں۔ یہ لوگ ماضی میں بھی کانگرس اور ہندوستان کے دوست اور خیرخواہ تھے اور آج بھی ہندوستان میں یہ ایک اینٹ تک نہیں اکھاڑتے جبکہ آئے روز پاکستان میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔ٹی ٹی پی کے متعدد دہشت گردوں اور کلبھوشن یادو کے اعترافات اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ پاکستان کے دشمن در اصل ہندوستان نواز مکاتب اور تنظیموں کے ہی لوگ ہیں۔ چنانچہ یہ ہمارے پالسی میکرز اور تھنک ٹینکس کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں ان مکاتب اور تنظیموں اور شخصیات کا تعارف کروائیں جو نظریاتی طور پرپاکستان کے دشمن ہیں۔ ہمارے پالیسی میکرز اور تھنک ٹینکس کو اس تلخ حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کی شکل میں پاکستان کے خلاف مکتبی اور نظریاتی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو قائداعظم اور پاکستان کے دشمن مکاتب اور شخصیات سے آگاہ نہیں کریں گے تو وہ مسلسل پاکستان کے دشمنوں کے آلہ کار بنتے رہیں گے۔ سی ٹی ڈی صوبہ سندھ کے مطابق اس وقت مدارس کے شدت پسند طلبہ کی جگہ جامعات کے اعلی تعلیم یافتہ طالبعلم لے رہے ہیں۔ ایس پی راجہ عمر خطاب کے مطابق پہلے جو مدارس سے پڑھتے تھے وہ افغانستان یا وزیرستان جا کر جہاد کرتے تھے لیکن اب یہ نئی کھیپ جامعات سے تعلیم یافتہ ہے اور انھوں نے یہ جنگ لڑنی ہے۔انہوں نے کراچی میں داعش کی موجود گی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ڈیفنس، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور ناظم آباد میں داعش سے متاثر لوگ موجود ہیں اور شدت پسندی اب مدرسے سے یونیورسٹی تک آگئی ہے۔ کراچی میں سیاسی جرائم اور جہاد پر ناول کے مصنف اور محکم انسدادِ دہشت گردی کے ایس ایس پی عمر شاہد حامد کا کہنا تھا جامعات کا طالبعلم مدارس کی جگہ لے رہا ہے۔ یہ جو آن لائن نسل ہے اس کے پاس نظریات و دلائل ہیں یہ قبائلی علاقے کے مدرسے کے بچے نہیں جو کہیں جاکر خودکش بم حملے کردیں۔ ایس ایس پی راجہ عمر خطاب نے بتایا ایک لڑکے سعد عزیز کی ایک لڑکی سے دوستی تھی وہ اس کے مطالبے پر پورا نہیں اترا اور اس نے مذہب کا رخ کر لیا، اسکی خواہش پر والدین نے عمرے پر بھیج دیا۔ واپسی پر اس نے قرآن کی ترجمے کیساتھ کلاس لینا شروع کی لیکن اس کو تسلی نہیں ہوئی،اس کے بعد اسکی ایک جگہ انٹرن شپ ہوئی جہاں اسے ایک لڑکا ملا جو اسے القاعدہ کی ایک شخصیت کے پاس لے گیا اور اس کے دماغ میں یہ بیٹھ گیا کہ اسوقت تک خلافت نہیں آئے گی جب تک عسکریت نہیں آئے گی۔ انکا کہنا تھا ایک جامعہ کا استاد نیپا چورنگی کے قریب گھریلو ساختہ بم بناتا تھا اور اس نے یہ تربیت اپنے بیٹے اور بھتیجے کو بھی دی تھی اس وقت وہ تینوں مفرور اور انتہائی مطلوب ہیں، اسی طرح ایک استاد یونیورسٹی کی پارکنگ میں القاعدہ کو فنڈ دیتا تھا جس کو گرفتار کیا گیا۔ ایس پی مظہر مشوانی نے بتایا انھوں نے کلفٹن سے ایک یونیورسٹی کے استاد کو گرفتار کیا جو کمپیوٹر سائنس کا مضمون پڑھاتا تھا، اسکا تعلق حزب التحریر سے تھا اور لیکچر کیساتھ ساتھ وہ دس منٹ اپنی تبلیغ کرتا، اس کے علاوہ نمازِ جمعہ کے بعد مساجد کے باہر پمفلٹ تقسیم کیا کرتا تھا لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے کبھی اس کا نوٹس نہیں لیا ۔[1] اسی طرح باوثوق ذرائع کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ٹاپ رینکنگ میں موجود اسلام آباد کی تین اہم یونیورسٹیوں میں داعش کے منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، غیر ملکی طلبہ یونیورسٹیوں میں بڑی تعداد میں موجود ہیں اور رہائشی علاقوں میں بنائے گئے ہاسٹلز میں رہائش پذیر ہیں۔[2] یونیورسٹیوں میں دہشت گردوں کے تبلیغی نیٹ ورکس کے یہ چند نمونے ہیں ، اگر ہم نے اپنے تعلیمی اداروں کو دہشت گردی سے پاک کرنا ہے تو پھر ہمیں اپنے نصابِ تعلیم پر فوری توجہ دینا ہوگی۔ ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان ہم سب کا خواب ہے ، لیکن کسی خالی پلاٹ پر پڑے ہوےکچرے کے ڈھیر کواٹھائے بغیر وہاں پر دلکش عمارت تعمیر نہیں کی جا سکتی۔ جب تک ہماری نوجوان نسل دشمن شناس نہیں بن جاتی تب تک پاکستان سے دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی۔ محکمہ تعلیم کے پالیسی میکرز کو چاہیے کہ وہ ملک دشمن عناصر کی شناخت کے سلسلے میں نصابِ تعلیم کے ذریعے طالب علموں کی درست سمت میں رہنمائی کریں۔ نصابِ تعلیم کے علاوہ دوسرا اہم پہلو پاکستان کے سیکورٹی ا داروں اور اہم پوسٹوں پر پاکستان دشمن مکاتب اور تنظیموں کے ہم فکر اور سہولت کار افراد کا موجود ہونا ہے۔ جب بھی کہیں کوئی ملک دشمن کارروائی ہوتی ہے تو یقینی طور پر اہم سرکاری پوسٹوں پر براجمان افراد ملک دشمنوں کے ساتھ ہمکاری کرتے ہیں، ہمیں بغیر کسی تعصب کے اپنے ملک کو بچانے کی خاطر اور اسے محفوظ کرنے کی خاطر تمام ملکی کلیدی پوسٹوں سے پاکستان بنانے کے مخالف یعنی وجودِ پاکستان کے مخالفین کو ہٹانا چاہیے۔ جب تک ہمارے پالیسی ساز ادارے ان دو مسائل پر توجہ نہیں دیتے یعنی نصاب تعلیم میں پاکستان کے مخالفین کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتے اور پاکستان کی اہم پوسٹوں سے اُن مخالفین کو ہٹاتے نہیں ، تب تک پاکستان مسائل کی دلدل سے نہیں نکل سکتا۔ [1] https://dailypakistan.com.pk/14-Jul-2017/608625 [2] http://dailykhabrain.com.pk/2017/04/19/41266/
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: نیاسال اوردو پرانے کام
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں