اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات تحریر: نادر بلوچ پاکستان جیسے ملک میں موروثی سیاست کو ختم کرنے کے دعوے کرنا اور بات ہے، لیکن عملی طور پر اس کا ثبوت دینا بہت مشکل ہے۔ تبدیلی کے نعرے لگانے والے عمران خان نے بھی اب یہ باور کر لیا ہے کہ اس ملک میں پیسے والے ہی سیاست کرسکتے ہیں جبکہ غریب اور عام ورکر نہیں، وہ ورکرز جنہوں نے اپنی زندگیاں ان سیاسی جماعتوں پر وار دیں، ان کیلئے سیاسی جماعتوں میں آگے بڑھنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ یہ درست بات ہے کہ عمران خان تحریک انصاف میں مراد سعید جیسے کئی چہرے سامنے لائے ہیں، لیکن بہت سارے چہرے وہی ہیں جو مشرف کی باقیات کہلاتے ہیں۔ خود جہانگیر خان ترین بھی مشرف ہی کے ساتھی رہے ہیں۔ اسی طرح اور اب تھوک کے حساب سے مختلف جماعتوں سے لوگ تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں اور پرانے چہرے پارٹی میں پچھلی صفوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ نظریاتی اور اصولی سیاست پاکستان میں تقریباً ناپید ہوچکی ہے۔ لوکل باڈیز الیکشن میں عمران خان کے نئے خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے نعروں کی دھجیاں اڑائی گئی تھیں، لیکن کپتان کے پاس کھلاڑیوں کو جواب دینے کیلئے کچھ نہیں تھا۔ اس وقت نئے خیبر پختوخوا کے وزیراعلٰی پرویز خٹک نے اپنے بھائی لیاقت خٹک کو نوشہرہ کا ناظم، وزیر مال علی امین گنڈاپور نے اپنے بھائی عمر امین کو تحصیل ناظم، وزیر قانون امتیاز قریشی نے اپنے بھائی اشفاق قریشی کو تحصیل لاچی کا ناظم اور وزیراعلٰی کے مشیر خلیق نے بھائی کو تحصیل ناظم بنوایا۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام کا بیٹا بھی ضلعی ناظم منتخب ہوا، جبکہ پیپلزپارٹی کے محمد علی شاہ کے بھائی احمد علی شاہ بھی ناظم منتخب ہوئے تھے۔ ملکی سیاست میں چند خاندان شروع سے حاوی رہے ہیں اور سیاست کا مرکز بھی یہی خاندان ٹھہرے ہیں، اس بات سے اندازہ لگائیں کہ نواز شریف نااہل ہوئے تو انہیں پارٹی کی صدارت دینے کیلئے نہ صرف پارلیمنٹ سے آئین میں ترمیم کرائی گئی، حتٰی مسلم لیگ نون کے دستور میں بھی ترمیم لانا پڑی۔ لیگی دستور میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ کسی بھی امیدوار کیلئے آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر پورا اترنا ضروری ہے، عدالت سے نااہل ہونے والا شخص جماعت کے کسی بھی عہدے پر فائز نہیں ہوسکتا، لیکن جیسے ہی نواز شریف کو سپریم کورٹ سے نااہلی کا سرٹیفیکیٹ ملا تو فوراً پارٹی کا دستور تک بدل دیا گیا۔ خاندانی سیاست اس ملک پر کتنی حاوی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ نواز شریف نے اپنی نشست یعنی حلقہ این اے 120 پر اپنی اہلیہ کو کھڑا کیا اور آئندہ کے وزیراعظم کیلئے بھی اپنے بھائی شہباز شریف کے نام کا اعلان کر دیا ہے، کیا مسلم لیگ نون میں فقط شریف خاندان ہی بڑے عہدوں کیلئے اہل ہے اور باقی پوری جماعت میں کوئی بھی امیدوار وزارت عظمٰی کیلئے اہل نہیں۔ اسی طرح پیپلزپارٹی والے خود کو بھٹو خاندان کے بغیر فارغ تصور کرتے ہیں، جے یو آئی (ف) کی بقاء مفتی محمود کا خاندان ہے، اے این پی باچا خان سے نیچے نہیں آسکتی۔ موروثیت، تبدیلی اور انقلاب کے موضوع پر کئی دانشوروں اور تجزیہ نگاروں نے کالمز لکھے ہیں۔ ممتاز کالم نگار مظفر اعجاز نے 2011ء میں اپنے تجزيہ کا عنوان "انقلاب کی باتیں اور انقلاب" دیا تھا۔ اپنے تجزیے میں مظفر اعجاز نے لکھا تھا ’’اگر کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کسی فوجی حکومت کا مطلب انقلاب ہے، پیپلزپارٹی سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت آجانے کا نام انقلاب ہے۔ ان دونوں کی جگہ قاف لیگ کی حکومت آجانے کا نام انقلاب ہے یا کسی امپورٹڈ وزیراعظم معین قریشی کی حکومت کا نام انقلاب ہے، تو ان کے لئے عرض ہے کہ یہ سارے نام نہاد انقلابات گاؤ آمد و خر رفت کے مصداق ہیں اور یہ بار بار عملاً ثابت ہوچکا ہے۔ یہ باتیں کرنے والے بھی جان لیں بلکہ جانتے ہیں کہ انقلاب کسے کہتے ہیں اور کون لاسکتا ہے۔ انقلاب کس تحریک کا نام ہے اور اس کو لانے والے کون لوگ ہیں؟ چنانچہ اسی لئے ہم سب نے مل کر اصل انقلاب کا راستہ روک رکھا ہے۔ ان سب کے لئے ہمارا مشورہ ہے کہ وہ خود ہی انقلاب کو راستہ دے دیں۔ ورنہ وہ سب کچھ ہوگا، جس سے وہ آج کل غریب عوام کو ڈراتے ہیں اور سب سمجھ رہے ہیں کہ اس انقلاب میں ان کو کچھ نہیں ہوگا۔" مظفر اعجاز آگے لکھتے ہیں کہ ’’اگر وہ انقلاب بھی آگیا جس سے ایک دوسرے کو ڈرا رہے ہیں تو وہ سب لپیٹ میں آجائیں گے۔ یہ سب مل کر اس اصل انقلاب کو روکتے ہیں، کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ جب پیغمبر انقلاب کا لایا والا نظام آئے گا تو عوام کے سامنے یہ جواب دینا ہوگا کہ لوہے کی ایک بھٹی سے فولاد کے کارخانوں تک کا سفر کیسے طے ہوا۔ گلیوں سے ایوانوں تک پہنچنے والوں کی زندگی کی کایا کیسے پلٹی۔ ایک کرایہ کے مکان میں رہنے والے کئی کئی گاڑیوں اور مکانوں کے مالکان کیسے بن گئے۔ اپنے باپ کے سینما کے ٹکٹ بلیک کرنے والے ارب پتی بلکہ کھرب پتی کیسے بن گئے۔ غریبوں، مظلوموں اور پسے ہوؤں کی سیاست کرنے والوں کی دنیا کیسے بدل گئی۔ لاکھوں کی پجارو میں کیسے گھومتے ہیں۔ لسانی سیاست کرنے والا ہر لیڈر پجارو سے کم پر نہیں گھومتا۔ پھر بھلا بتائیں یہ لوگ اصل انقلاب کو راستہ کیسے دیں گے اور تاریخ اور قرآن بھی گواہ ہے کہ اصل انقلاب کا راستہ مترفین (کھاتے پیتے لوگ) ہی روکتے ہیں۔ بہرحال ہمیں یقین ہے کہ اصل انقلاب ضرور آئے گا، خواہ کتنے بڑے بڑے بت راستہ روکیں۔" اسی طرح سینیئر صحافی اور کالم نگار جناب ڈاکٹر آر اے سید نے پاکستان میں انقلاب یاد تبدیلی کے حوالے سے چھ کالموں کی سیریز بعنوان ’’انقلاب یا انتشار‘‘ لکھی تھی، جس میں ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سر پر یونیفارم کے بغیر جرنیل اور تاج کے بغیر بادشاہ بیٹھے ہیں۔ یہ کیا شاندار جمہوریت ہے، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کسی نہ کسی "بھٹو" کی محتاج ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون "میاں" خاندان کے بغیر نہیں چل سکتی، پاکستان مسلم لیگ قاف "چودھریوں" کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، عوامی نیشنل پارٹی کا سربراہ ہر صورت میں "باچا" خاندان سے ہوگا، جے یو آئی مفتی محمود کے خانوادے کی دہلیز سے نیچے نہیں اترے گی اور ایم کیو ایم الطاف حسین کے بغیر سروائیو نہیں کرسکے گی۔ آپ مسلم لیگ نون کو بھی دیکھئے۔ میاں نواز شریف پارٹی کے قائد ہیں، میاں شہباز شریف پارٹی کے صدر ہیں اور حمزہ شہباز شریف پارٹی کا مستقبل ہیں۔ کیا پارٹی کو میاں خاندان سے باہر کوئی لیڈر نظر نہیں آتا۔؟ مسلم لیگ قاف کو بھی دیکھئے۔ چودھری شجاعت حسین پارٹی کے قائد ہیں، چودھری پرویز الٰہی پارٹی کے دوسرے قائد ہیں اور چوھدری مونس الٰہی پارٹی کا مستقبل ہیں۔ ڈاکٹر آر اے سید لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان کی سیاسی پارٹیاں سیاسی تربیت اور نئی لیڈرشپ پیدا کرنے کے حوالے سے بانچھ ہوچکی ہیں۔ نظریاتی تربیت کا فقدان، نئی مخلص لیڈرشپ ناپید، سیاسی جماعتوں کے اندر عدم جمہوریت، بیرونی طاقتوں بالخصوص امریکہ کی غلامی، استقلال و آزادی کے نظریات سے عدم آگاہی، عوام کو بھیڑ بکری سمجھ کر ان سے صرف ووٹ لیتے وقت اہمیت دینا، پاکستانی سیاست کی صرف چند جھلکیاں ہیں اور یہ سب کچھ پاکستانی سیاست کا ایک معمولی سا عکس ہے۔ اس تصویر اور عکس کے پس منظر کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ایسے ہولناک حقائق سامنے آئیں گے کہ عوام جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کی سیاست کا نام لیتے ہی کانوں کو ہاتھ لگانا شروع کر دیں گے۔" سول سپرمیسی کی دعویدار نون لیگ کی قیادت اس وقت سعودی عرب میں موجود ہے اور کسی نئے این آر او کو تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شہباز شریف کی سعودی یاترا اور ترک وزیراعظم کا بھی اس دوران وہاں پہنچنا کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے، دونوں رہنماوں کا ایک ساتھ سعودی عرب میں ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اندر کھاتے بہت سارے معاملات طے پا رہے ہیں۔ بعض تجزیہ نگار تو یہاں تک کہتے ہیں کہ شہباز شریف کو آئندہ وزیراعظم نامزد کیا جانا بھی دلیل ہے کہ اسٹیبلمشٹ کو اپنی مرضی کا مہرہ مل چکا ہے اور عمران خان کی اگلی باری آتی نظر نہیں آرہی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عمران خان عالمی اسٹیبلمشنٹ کو قبول نہیں ہیں۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
ان تمام باتوں کے باوجود ایک ریاست کے چیف ایگزیکٹو کو گھاس ڈالے بغیر ایک صوبے کے وزیراعلٰی اور نااہل سابق وزیراعظم کا سعودی عرب جانا دلیل ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں سعودی عرب کتنا وارد ہے، جو کسی بھی آزاد اور خود مختار ریاست کیلئے نگ و عار سے بڑھ کر نہیں۔ کمرشل لبرلز کیلئے تو شرم کا مقام ہے جو نواز شریف کو نظریاتی اور انقلابی بنانے میں اپنی توانائیاں صرف کئے ہوئے ہیں۔
افکار و نظریات: ۲۰۱۸ موروثی سیاست سے وابستہ توقعات کا سال
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں