بلوچستان کے مسائل اور ترقی کی راہیں

تحریر: شہک رند

ہم جب سے دنیا میں آئے ہیں ہمیں  تب سےیہ غلط فہمی ہیے کہ یہ ملک ہماری ذاتی ملکیت ہے، میں جب سے پیدا ہوا ہوں تب سے سنتا آیا ہوں کے پنجاب ہمیں ہمارا حق نہیں دیتا اور ساری نوکریاں جو بلوچستان کوٹہ کے حساب سے ملتی ہیں ان پر  پنجاب کے لوگ آکر بیٹھ جاتے ہیں۔

کبھی آپ لوگوں نے سوچھا ہے ایسا کیوں ہے کیوں کہ پنجاب کے لوگ تعلیم کو اپنی ترقی سمجتے جب کہ ہمارے لوگ گیسں کا نکلنا سی پیک کا بننا ریکوڈک سے سونہ نکلنے کو بلوچستان کی ترقی سے مسلت کرتے جبکہ آپنے غلط نظریے سے آپنے بچوں کو بھی غلط راہ پر چل پٹرتے ہیں بلوچستان کے لوگوں کو تعلم سے زیادہ نکل کا بہت شوق ہے۔

یہ وجہ کہ ان کے ماسٹر ڈگری ہونے کے باوجود نوکری نہیں ملتی اسکی وجہ ہے کہ ان کے دماغوں میں صرف اور صرف تعصب ہے جس سے وہ ہر وقت اپنی ناکامی چھپانے کے لیے پنجاب کو برا بھلا کہتے ہیں ۔

زرا سوچیں جو تعلیم یافتہ طبقہ ہے وہ کیوں کامیاب ہے کیونکہ اسے پتا ہے اگر میں تعلیم حاصل نہیں کروں گا تو میری سوچ بھی کلرکی چوکیداری والی ہو جائے گی اور پر میں اس کا زمہ دار بھی پنجاب کو ٹھہراوں گا ۔

خدارا اس سوچ کو اپنے دماغوں سے نکال دیں کہ آپ کی ترقی سی پیک سے مسلک ہے آپ صرف یہ سوچیں کہ آپکی ترقی صرف اور صرف تعلیم سے وابستہ ہے اور جہاں سکول وکالج قائم نہیں تو اسکے زمہ دار آپکے اپنے حلقے کے نمانئدے ہیں جنہیں آپ نے منتخب کیا ہے۔

ان سے تو آپ اپنے حق لینے کا سوال نہیں کرتے تو پھر پنجاب کو زمہ دار کیوں ٹہراتے ہیں۔

یہ زمین اور آسمان صرف اور صرف ﷲ کا ہے جس نے مجھے اور آپ سب کو تخلیق کیا ہے۔ آئیے  آنے والے سال میں آپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ اتفاق و اتحاد  پیدا کریں اور تعصب کے بجائے محنت اور تعلیم پر توجہ دیں۔


افکار و نظریات: بلوچستان کے مسائل اور ترقی کی راہیں