نہ دین کے اور نہ دنیا کے

تحریر : شہک رند

  جیسا کے آپ سب کو معلوم ہے کہ کل ہم سب نے نیو ائیر منایا ،سب نے ایک دوسرے  کو مبارکباد دی لیکن  معذرت  کے ساتھ کچھ لوگوں نے اس پے اعتراض بھی کیا۔

معترضین کا کہنا تھا کہ  یہ گناہ ہے، انہوں نے ایک دم فتویٰ لگایا کہ  ہمارا تو  نیا سال اسلامی حساب سے ہے، مگر سوچنے کی بات یہ  ہے  کہ ان فتویٰ سازوں کو کسی کی خوشی یا  غم کیوں ہضم نہیں ہوتا ، حتیٰ کہ  انہیں تو دوسروں کی مسجد بھی برداشت نہیں ہوتی ، وہاں بھی خود کُش دھماکہ کرنے پہنچ جاتے ہیں۔

اگر ہم نے ہیپی نیو ائیر کہہ کرکوئی براکام کر دیا  ہے  تو  فتویٰ بازوں سے یہ بھی تو پوچھئے کہ انہوں نے  نے آج تک  سوائے بے گناہ لوگوں کو قتل کروانے اور بھائیوں کو آپس میں لڑوانے کے کوئی اور کارِ خیر بھی کبھی کیا ہے؟ کیا اللہ نے دوسروں کو تنگ کرنے اور فتوے گھڑنے کے علاوہ ہم پر کچھ اور واجب نہیں کیا؟

 خدا کے لئے انسانی سماج میں انسان بن کر رہنا سیکھیں اور نفرتیں تقسیم کرنے کے بجائے پیارو محبت عام کریں ۔ سال بھر  میں  اگر کسی دن  ہم  لوگ کسی کی  خوشی یا غم میں شریک ہوجاتے ہیں تو اس پر فتوے بازی شروع نہ کر دیا کریں۔

جنہیں دنیا میں چین ، امن اور انسانیت سے رہنا نہیں آتا وہ درحقیقت  دین کو سمجھے ہی نہیں۔ ایسے لوگ نہ دین کے ہیں اور نہ دنیا کے۔

علامہ اقبال کے نصیحت آمیز اشعار

منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر

مل جائے تجھکو دریا تو سمندر تلاش کر

ہر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر کی چوٹ سے

پتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر

سجدوں سے تیرے کیا ہوا صدیاں گزرگئ

دنیا تیری بدل دے وہ سجدہ تلاش کر

ایمان تیرا لُٹ گیا رہزن کے ہاتھوں سے

ایماں تیرا بچالے وہ رہبر تلاش کر

ہر شخص جل رہا ہے عداوت کی آگ میں

اس آگ کو بجھا دے وہ پانی تلاش کر

کرے سوار اونٹ پہ اپنے غلام کو

پیدل ہی خود چلے جو وہ آقا تلاش کر.


افکار و نظریات: نہ دین کے اور نہ دنیا کے