ڈاکٹر حفیظ ارحمان 
نواز شریف اور شہباز شریف سعودی عرب کے حکمرانوں سے مدد کے خواں ہیں یا نہیں ہیں ،اس سے قطع نظر آخر وہ کو نسی وجوہات ہیں جو ھمارے حکمرانوں کو دربدر رہنے پہ مجبور کرتی ہیں ۔
سب سے پہلے اس کی ابتدا ایوب خان نے کی ،جس نے سکندر مرزا کو ملک بدر کیا اور پھر یہ سلسلہ آج تک کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا ۔
بعد کے حکمرانوں میں بے نظیر ،نواز شریف اور مشرف شامل ھوئے ۔
اب بھی ھمارے سیاسی رہنماؤں کے بیرون ملک رہایشی بندوبست موجود ہیں ،جن میں نواز شریف اور آصف زرداری شامل ہیں ،ایک نام الطاف حسین کا بھی ھے ۔

ھمارے ھی ھمسائے میں ایک ملک ھندستان کے نام سے موجود ھے ،اس کے سیاسی رہنماؤں کو تو کسی ملک سے مدد کی ضرورت نہیں پڑتی ،نہ ھی دربدر ھو نے کی ضرورت پڑتی ھے ،نہ ھی رہائشی انتظامات کرنے پڑتے ہیں ۔
آخر ھمارے ھی ملک پہ ایسی کیا قیامت پڑتی ھے کے ایک ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے رہنما اپنے سے انتہیائی چھوٹے ملکوں سے پناہ اور امان مانگتے پھرتے ہیں ۔
ھماری عوام اور دانشوروں کو سوچنا چائیے اور ھماری دانست میں اس کی وجوہات کیا ہیں ۔
پاکستان کے رہنما پھانسی بھی ھوتے ہیں ،قتل بھی کیے جاتے ہیں ،ملک بدر بھی ھوتے ہیں ،مقدمات کی بھر مار بھی کی جاتی ہے ،گویا حکمرانی کرنا جوئے شیر کے برابر ھے ۔
کیا وجہ ھے کے چین سے عوام کی خدمت کے لیے نہیں چھوڑا جاتا ،اور ظاھر سی بات ھے کے ان تمام حرکات کے لیے وجوہات بھی دی جاتی ھونگی ،کہیں بھی کوئی عسکری وجہ ھو گی اور کہیں پہ عدالتی وجہ ھو گی لیکن کیوں آخر کیوں ،
وہ کونسی قوتیں ہیں جو گڈ گورنس کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہیں ،ھمیں سوچنا ھو گا ۔


افکار و نظریات: دربدر حکمران