نذر حافی

انسان بھی مختلف ہیں،  زبان، مزاج، قوم قبیلہ، ذات پات ، برادری، ملک، عقیدہ اور مسلک یہ ساری چیزیں  انسان کی شخصیت پر اثر ڈالتی ہیں، لیکن سب سے زیادہ اثر تعلیم و تربیت کا ہوتا ہے۔ ایک پڑھے لکھے اور ان پڑھ شخص میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے جتنا ایک انسان اور غیر انسان میں۔

ان پڑھ شخص صرف وہ نہیں ہوتا جو سکول نہیں جاتا بلکہ سکول جانے  اور  کتابیں پڑھنے کے باوجود اپنے زمانے کے مطلوب و رائج علوم  و فنون سے ناآشنا ہوتا ہے وہ بھی ان پڑھ رہتا ہے۔ زمانہ جاہلیت کے وہ لوگ جنہیں ہم جاہل کہتے ہیں، وہ بظاہر  اپنے زمانے کے بڑے ادیب ، شاعر اور ماہر لسانیات تھے۔

وہ لوگ عربی زبان کی باریکیوں، لطافت اور مفاہیم کی گہرائی سے اتنے آشنا تھے کہ غیر عرب لوگوں کو عجمی یعنی گونگے کہتے تھے۔ دین اسلام نے انہیں اتنی فصاحت و بلاغت کے باوجود جاہل کہا ہے، چونکہ ان کے زمانے کو جس علم کی ضرورت تھی وہ اس سے نا آشنا تھے۔

اس معاشرے اور اس زمانے  کا انسان غلامی کے مرض میں مبتلا تھا، وہ ستاروں، قبیلوں ، درختوں اور بتوں کی بندگی کرتا تھا، اسے  علم توحید اور علم کلام کی ضرورت تھی۔ لیکن اس زمانے کے اتنے بڑے شعرا ، ادیب اور لکھاری اپنے دور کے حقیقی مسئلے کو نہیں سمجھ رہے تھے۔ وہ لوگوں کو غلامی کی زنجیروں سے نکالنے کے بجائے دیگر موضوعات پر قلم فرسائی کر رہے تھے، اپنے دور کے تقاضوں سے ناآشنا ہونے کے باعث اتنے بڑے فصحا اپنی ہی زبان میں نازل ہونے والی کتاب کا تجزیہ و تحلیل نہیں کر سکتے تھے۔ انہیں جب توحید کی دعوت دی جاتی تھی تو وہ اس دعوت کو نہیں سمجھتے تھے اور جواب میں کہتے تھے ہم تو اپنے آباواجداد کے دین پر ہی چلیں گے،چنانچہ انہیں جاہل کہاجاتاہے۔

علم توحید یعنی علم آزادی، انسان ہر وڈیرے، ہر پارٹی، ہر گروہ، ہر قوم  اور ہر قبیلے کی غلامی سے نکلے اور کسی کو سجدہ نہ کرے۔ سب کی غلامی سے نکل آنا یہ آزادی ہے لیکن نصف آزادی ہے ، مکمل آزادی یہ ہے کہ اس  حاصل کی جانے والی آزادی کو کسی  طرف سے  بھی کسی قسم کا خطرہ  نہ ہو، یعنی انسان  اپنی آزادی کے تحفظ کے لئے کسی  ایسے کی پناہ میں جائے، جو اس کی آزادی کی حفاظت کر سکے۔  وہ پناہ دینے والا ایسا ہو کہ  جس کی پناہ میں آنے کے بعد سارے انسان مختلف ،زبانوں، رنگ، نسل اور علاقوں کے باوجود مساوی ہوجائیں، کسی کالے کو گورے پر، کسی عربی کو عجمی پر، کسی مکی کو مدنی پر، کسی قریشی کو قطبی پر کوئی فوقیت حاصل نہ رہے۔ رنگ ، قوم قبیلے، زبان اور پارٹی کی بنیاد پر کوئی اپنے آپ کو دوسروں سے افضل نہ سمجھے۔

ایسی مساوات پر مشتمل آزادی کے لئے ایک قانون کی ضرورت ہے ۔ جو سب کے حقوق و فرائض کو منضبط کرے۔

وہ ذات جس کی پناہ میں آنے کے بعد انسان کو صحیح آزادی اور حقیقی مساوات نصیب ہوتی ہے ، وہ وحدہ لاشریک کی ذات ہے اور  اس آزادی کو برقرار رکھنے کے لئے جس قانون کی ضرورت ہے اسے دین اسلام کہتے ہیں۔

ہر مسلمان کلمہ پڑھنے کے بعد انسانی آزادی ، انسانی حقوق اور انسانی مساوات جیسے سارے اعزاز حاصل کرلیتا ہے، لیکن اگلہ مرحلہ یہ ہے کہ انسان اپنی اس  حاصل ہونے والی آزادی سے فائدہ کیسے اٹھائے!؟

یہ کیسے ممکن ہے کہ دینِ اسلام عملی ہوجائے اور معاشرے میں انسانی مساوات اور آزادی کا بول بالاہوجائے۔ وہ چیز جو انسان کو آزادی سے فائدہ اٹھانے کا شعور دیتی ہے اور فن سکھاتی ہے اسے جمہوریت کہتے ہیں۔

ممکن ہے ایک قوم آزاد ہو لیکن ہماری طرح  جمہوری نہ ہو۔ہم سب مسلمان ہیں اور آزاد ہیں لیکن  اسلام سے اپنی زندگیوں میں کیسے فائدہ اٹھائیں اس سے ہم آگاہ نہیں ہیں، چنانچہ اسلامی ممالک میں  اذانیں ہونے کے باوجود، روزے رکھنے کے باوجود، ذکواۃ دینے کے باوجود،حج کرنے کے باوجود عام   مسلمان عوام کو پینے کا صاف پانی بھی نصیب نہیں، ان کے بچوں کے لئے معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتیں بھی میسر نہیں۔

ہم نے زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی طرح کلمے کی عربی عبارت تو پڑھ لی، اس کا ترجمہ بھی سمجھ لیا ، لیکن اس سے ہمیں کیا پیغام اور کیا فائدہ ملتا ہے اس کے بارے میں نہیں سوچا۔

چنانچہ ہم ایک طرف تو کلمہ پڑھتے ہیں اور دوسری طرف مغربی جمہوریت  کی تلاش میں ہیں۔ چنانچہ ہماری سیاسی پارٹیوں میں بھی مغربی کلچر کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ دین اسلام میں جمہوریت یہ نہیں ہے کہ عوام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام پر۔

دین اسلام میں سب سے پہلے انسان آزادی حاصل کرے ، لاالہ الااللہ یعنی ہر طرح کے اقتدار اعلی کی نفی کرکے  فقط اللہ تعالی کی پناہ میں آجائے  اور یہ اعلان کرے کہ اب میں کسی کا غلام  اور کسی کی رعیت نہیں ہوں اور اب میں توحید کی سلطنت میں ہوں جہاں اقتدار اعلی فقط ایک ہستی کے پاس ہے اور اس ہستی کے نزدیک سارے انسان مساوی ہیں۔

جب انسان سب کی اجارہ داری اور حکومت کو ٹھکرا کر اللہ کے اقتدار اعلی کا اعلان کرتا ہے تو پھر اسلام اسے یہ راستہ دکھاتا ہے کہ اب اس اقتدار اعلی کی بدولت ملنے والی آزادی سے فائدہ اٹھا ئے۔ آزادی سے فائدہ اٹھانے کے لئے مسلمان کو ایک نظام کی ضرورت ہے چنانچہ وہ کہتا ہے محمد رسول اللہ  یعنی اللہ کا وہ نظام مجھے دین اسلام کی صورت میں حضرت محمدﷺ کی ذات سے ملا ہے۔ اس نظام نے انسان کی آزادی کی حفاظت کرنی ہے اور اسے مفید بنانا ہے۔ لیکن اب یہ نظام معاشرے میں نافذ کیسے ہو!؟ خود پیغمبرِ اسلام ﷺ اور صدر اسلام کے مسلمانوں نے اپنے عمل سے دکھایا کہ اس نظام کو ٹارگٹ کلنگ، قتل عام، لشکر کشی اور بربریت سے نافذ نہیں کیا جانا بلکہ اس کے نفاذ کے لئے  عوام کے شعور کو اتنا بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ مدینے کے لوگوں  کی طرح  خوشی سے اس نظام کا استقبال کریں۔

چنانچہ پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی مکی زندگی میں کسی قسم کی ٹارگٹ کلنگ یا زبردستی کے ساتھ اسلام کو نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن مدینے میں جب عوام میں اسلام کو عوام میں  مقبول پایا تو وہاں اسلامی حکومت قائم کی۔

یاد رہے کہ اس اسلامی حکومت کی سربراہی بھی آپؐ نے خود کی۔ یعنی اسلامی نظام میں اللہ کی حکومت ہرکس و ناکس کے ہاتھوں قائم نہیں ہو سکتی ضروری ہے کہ اسلامی حاکم اللہ کا نیک ترین اور صالح ترین شخص ہو۔

تاریخ اسلام اس بات پر گواہ ہے کہ جب مسلمانوں کے خلیفہ سوم کا قتل ہوا تو عوام نے کسی باغی کی بیعت نہیں کی بلکہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے دروازے پر گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے بھی گھر میں بیعت نہیں لی بلکہ کہا کہ مسجد میں بیعت لی جائے گی، چونکہ مسجد ایک پبلک پوائینٹ تھا۔

اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ صدر اسلام کا مسلمان یہ سمجھتا تھا کہ اللہ کی حکومت ، اللہ کے بندوں پر ، اللہ کے نیک بندوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ لیکن جب اللہ کی حکومت کا نعرہ تو لگایا گیا لیکن غیر صالح افراد نے یہ نعرہ لگایا تو پھر خلافت بادشاہت میں تبدیل ہوگئی۔

یہ ہے اسلامی نظریہ جمہوریت کہ اللہ کی حکومت، اللہ کے صالح ترین افراد کے ذریعے، اللہ کے بندوں پر۔ایسی حکومت کے لئے عوام کو یہ شعور دینا ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے قبیلوں، پارٹیوں، صوبوں اور زبانوں سے بالاتر ہوکر سوچیں ، پھر حکومت کے لئے کرپٹ اور بدمعاش افراد کے بجائے شریف اور دیندار افراد  کو منتخب کریں۔ جب اللہ کے بندے ، اپنے شعور اور اختیار کے ساتھ،  اللہ کی زمین پر  حکومت کرنے کے لئے اللہ کے نیک اور متقی انسانوں کا انتخاب کریں گے اسی روز بادشاہت و فرعونیت کی زنجیریں بھی ٹوٹیں گی اور انسانی مسائل بھی حل ہونگے۔


افکار و نظریات: آزادی اور جمہوریت میں فرق