اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات اگلے الیکشن کے حوالے سے قیاس آرائیاں اور پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ ایک طرف پاکستان عوامی تحریک کے طاہر القادری تمام اپوزیشن جماعتوں کو یکجا کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور دھرنے کی باتیں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف نواز شریف اور شہباز شریف سعودی عرب کی یاترا کر چکے ہیں جس کے ساتھ ساتھ ایک اور این آر او کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ پاناما کیس فیصلے اور دھرنے کے بعد ایک مرحلے پر مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن کمزور اور عمران خان کی مضبوط نظر آئی۔ ملک میں عام تاثر یہ ہے کہ پاناما لیکس میں نواز شریف کی نااہلی، کرپشن الزامات، دھرنے اور ختم نبوت معاملے کی وجہ سے مسلم لیگ کی سیاسی ساکھ شدید متاثر ہوئی۔ تاہم اگر حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو آئندہ الیکشن میں بھی (ن) لیگ کی کامیابی کے امکانات موجود ہیں، جبکہ کسی بھی سیاسی جماعت کا تن تنہا حکومت بنانا مشکل ہو گا اور ممکنہ طور پر اتحادی حکومت ہی تشکیل پا سکتی ہے۔ اگر لاہور کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب کے نتائج کو نمونے (sample) کے طور پر لیا جائے تو اس کے اعداد و شمار کی روشنی میں 2018ء کے الیکشن میں بھی مسلم لیگ کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ نواز شریف کی نااہلی کے نتیجے میں لاہور سے ان کی خالی ہونے والی نشست (این اے 120) پر ضمنی انتخاب ہوا جس میں بالترتیب مسلم لیگ کی امیدوار کلثوم نواز کو تقریباً 61 ہزار، پی ٹی آئی کو 47 ہزار، تحریک لبیک سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو 7 ہزار، ملی مسلم لیگ کو 5 ہزار ووٹ اور پیپلز پارٹی کو صرف 14 سو ووٹ ملے۔2013ء کے مقابلے میں اس ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ کے 11 فیصد ووٹ کم ہوگئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ووٹ میں 3.1 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ پاناما لیکس کیس میں وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی اور کرپشن کے الزامات سے مسلم لیگ کا 11 فیصد ووٹ بینک متاثر ہوا جب کہ پی ٹی آئی کا 3 فیصد بڑھا اور پی پی پی کے ووٹ بینک میں 0.6 فیصد کمی ہوئی۔ تحریک لبیک کو حلقے میں 6 اور ملی مسلم لیگ کو 5 فیصد ووٹ ملے یعنی مذہبی جماعتوں کو مجموعی طور پر 11 فیصد ووٹ ملے۔ اسی لیے اگلے الیکشن میں مذہبی ووٹ بھی انتہائی اہم کردار ادا کرے گا۔ مسلم لیگ کا کتنا ووٹ کم ہوسکتا ہے اور کتنی نشستیں مل سکتی ہیں۔ اگر فرض کرلیں کہ ختم نبوت اور دھرنے کے خلاف آپریشن سے مسلم لیگ کے مزید 11 فیصد ووٹ کم ہوجائیں تو اگلے الیکشن میں مجموعی طور پر اس کا 22 سے 25 فیصد ووٹ بینک کم ہوسکتا ہے۔ ووٹ بینک میں 22 فیصد کمی کے حساب سے مسلم لیگ کو 2018 میں 147 نشستیں ملیں گی، جبکہ 30 فیصد کے حساب سے 132 سیٹیں ملیں گی۔ ان دونوں صورتوں میں (ن) لیگ سیاسی اتحاد بنا کر حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں آسکتی ہے۔ سپریم کورٹ سے نااہلی کے نتیجے میں نواز شریف کی پارٹی صدارت بھی ختم ہوگئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدر بنانے کےلیے الیکشن اصلاحات بل 2017ء متعارف کرایا جس میں ختم نبوت سے متعلق ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم اور پھر اسلام آباد میں دھرنے کے خلاف آپریشن سے مسلم لیگ کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا اور اس کا ایک بڑا ووٹ بینک اس سے متنفر ہو گیا۔ لہذا انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ کے منفی پوائنٹس کرپشن، ختم نبوت اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ان کے مخالفین استعمال کریں گے؛ جبکہ مسلم لیگ امن و امان کی صورتحال میں بہتری، لوڈشیڈنگ میں کمی، قرضوں کی صورت میں سرمائے کی آمد کو اپنے مثبت پوائںٹس کے طور پر اجاگر کرے گی۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بھی اپنی سیاسی مظلومیت کے ثبوت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ دھرنے کے خلاف آپریشن سے جہاں (ن) لیگ کو نقصان ہوا تو بہت سا فائدہ بھی ہوا۔ بہت سے لوگوں نے آپریشن کی حمایت کی۔ بالخصوص دھرنے سے پریشان شہریوں نے حکومتی اقدام کی تائید کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فوج کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے پر تنقید کے بعد یہ پورا معاملہ مشکوک ہوگیا اور آرمی چیف کو سینیٹ بریفنگ میں وضاحت دینی پڑی کہ فوج دھرنے کے پیچھے نہیں تھی۔ قومی اسمبلی میں نشستوں کی کل تعداد 342 ہے جن میں سے 272 پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے جب کہ 70 مخصوص سیٹیں ہیں۔ کسی بھی جماعت کو حکومت بنانے کے لیے 172 یعنی 51 فیصد کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی میں پنجاب کی نشستوں کی تعداد 148، سندھ 61، خیبرپختون خوا 35، بلوچستان 14، فاٹا 12 اور اسلام آباد کی نشستوں کی تعداد 2 ہے۔ 2013 کے انتخابات میں 5 بڑی جماعتوں مسلم لیگ کو مجموعی طور پر 189، پیپلز پارٹی کو 42، تحریک انصاف 35، ایم کیو ایم 24 اور جے یو آئی (ف) کو 15 نشستیں ملیں۔ مسلم لیگ نے براہ راست 126 سیٹیں جیتیں جبکہ خواتین، اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ملنے اور 19 آزاد امیدواروں کی شمولیت کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں اس کی نشستوں کی مجموعی تعداد 189 تک جا پہنچی تھی۔ اس بات کے پورے امکانات ہیں کہ مسلم لیگ کسی دوسری جماعت سے اتحاد کرکے حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ موجودہ حکومت میں اس کی اتحادی جماعت جے یو آئی (ف) ہے جس کے پاس 15 سیٹیں ہیں۔ تاہم اب ایم ایم اے بحال ہوگئی ہے جس کا حصہ جے یو آئی (ف) بھی ہے۔ ممکن ہے کہ 2018ء میں ایم ایم اے 20 نشستیں لینے میں کامیاب ہو جائے۔ ایم کیو ایم بھی بادشاہ گر کی حیثیت رکھتی ہے۔ 2013ء میں ایم کیو ایم کی 24 نشستیں تھیں۔ اگر 2018ء میں بھی ایم کیو ایم کو اتنی سیٹیں مل گئیں تو قومی سیاست میں اسے دوبارہ وہی اہمیت حاصل ہوجائے گی جو پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت میں حاصل تھی جب وہ حکمراں اتحاد کا حصہ تھی۔ ایم کیو ایم حکمراں اتحاد میں شامل ہوکر اپنے لیے رعایتیں بھی حاصل کرسکتی ہے اور کارکنوں کے خلاف مقدمات ختم کروا سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کے موڈ کا اندازہ گزشتہ روز طاہر القادری کی آل پارٹیز کانفرنس کے دوران ہوا جس میں فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم کا وفد نہ صرف وقت ختم ہونے سے پہلے ہی اے پی سی سے روانہ ہوگیا بلکہ بعدازاں ایم کیو ایم نے اے پی سی کے مشترکہ اعلامیہ پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے بغیرسانحے کی ذمہ داری کسی پرنہ ڈالی جائے۔ عوامی تحریک کی اے پی سی نے نواز شریف اور شہباز شریف کو ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے حکومت پنجاب کو مستعفی ہونے کی ڈیڈلائن دی ہے۔ اب کراچی کی سیاست بھی 2013ء کے مقابلے میں یکسر بدل چکی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ تین حصوں ایم کیو ایم لندن، ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی میں تقسیم ہوچکی ہے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس کے کارکنان بھی منتشر ہیں جب کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ پی ایس پی کے سر پر ہے۔ کراچی میں الیکشن میں دھاندلی کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہاں کوئی بھی انہونی ہوسکتی ہے۔ ایم کیو ایم کی تقسیم سے پیدا ہونے والا خلا پی ٹی آئی بھی بھرنے کی کوشش کرے گی اور پشتو بولنے والی آبادیوں اور ڈیفنس و دیگر پوش علاقوں سے وہ چند سیٹیں لینے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ اس ٹوٹ پھوٹ سے عین ممکن ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اہم پوزیشن حاصل نہ کرسکے لیکن اگر وہ 20 نشستیں بھی لینے میں کامیاب ہوگئی تو تب بھی اگلے سال مرکز میں اہم کردار کی حامل ہو گی۔ گذشتہ الیکشن میں پی پی پی کو 47 اور پی ٹی آئی کو 35 نشستیں ملیں۔ این اے 120 کے ضمنی الیکشن اور موجودہ سیاسی حالات کی روشنی میں اگر پی پی پی اور پی ٹی آئی کی بات کی جائے تو پی ٹی آئی کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوگا جبکہ پی پی پی کی نشستوں میں بھی کچھ اضافے کا امکان ہے ۔ پنجاب پر بلاول بھٹو زرداری کی مستقل توجہ کو دیکھتے ہوئے ممکنہ طور پر جنوبی پنجاب میں اسے کچھ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ فرض کیجیے کہ پی ٹی آئی کے ووٹ بینک میں 50 فیصد اضافہ ہوتا ہے تب بھی اس کی صرف 16 سیٹیں بڑھیں گی اور تعداد 53 ہوجائے گی۔ اگر پی ٹی آئی کے ووٹ بینک میں زیادہ سے زیادہ 100 فیصد اضافہ بھی تصور کیا جائے جس کا کم ہی امکان ہے تب بھی اسے 70 نشستیں ملیں گی۔ لہذا اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے تن تنہا حکومت بنانے کا ایک فیصد بھی امکان نہیں۔ لامحالہ اسے پی پی پی کی مدد درکار ہو گی۔ واضح رہے کہ یہ محض ایک اندازہ اور تخمینہ ہے جس میں غلطی کا امکان ہے۔ تاہم یہ تجزیہ اگلے الیکشن میں تین بڑی جماعتوں کی پوزیشن کی جھلک دکھانے میں معاون ضرور ثابت ہو سکتا ہے۔ یہاں یہ مسئلہ آڑے آتا ہے کہ عمران خان کی نظر میں آصف زرداری بدترین کرپٹ شخص ہیں اور ان کے بارے میں وہ نازیبا زبان بھی استعمال کرچکے ہیں۔ عمران خان نے آصف زرداری کو سب سے بڑا ڈاکو اور بڑی بیماری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ زرداری کے ہوتے ہوئے پی پی پی سے اتحاد ممکن نہیں۔ ایسے میں وہ کس منہ سے زرداری کے ساتھ بیٹھیں گے؟ لیکن وائے رے سیاست۔ اقتدار کے حصول کی خاطر پاکستانی سیاست دان کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ کل کا دشمن آج کا دوست اور آج کا دوست کل کا دشمن ثابت ہوسکتا ہے۔ 27 تاریخ کو انہوں نے اس کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا راستہ روکنے کےلیے وہ زرداری کے ساتھ بیٹھنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ اس وقت پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری اسی کام میں لگے ہوئے ہیں اور پی پی پی، پی ٹی آئی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کرکے مسلم لیگ (ن) کے خلاف گرینڈ الائنس بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ تنہا مسلم لیگ (ن) کو پچھاڑنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ بات اس لیے بھی قرینِ قیاس ہے کیونکہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں آج بھی بہت مضبوط ہے۔ اگر اپوزیشن اکٹھی نہ ہوئی تو لامحالہ مسلم لیگ (ن) ہی دوبارہ برسراقتدار آئے گی جس کے نتیجے میں اس کے پاس یہ جواز بھی آجائے گا کہ عوام نے نواز شریف کی نااہلی کا سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا۔ لہذا عمران خان ہر قیمت پر نواز شریف کا راستہ روکنے کی کوشش کریں گے چاہے اس کےلیے انہیں کچھ بھی کرنا پڑے۔ آصف زرداری کے لب و لہجے کو دیکھتے ہوئے یہی لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی اور پی پی پی کے معاملات طے پاچکے ہیں۔ دونوں جماعتیں اتحاد کی صورت میں 100 سے زائد نشستیں لینے میں کامیاب ہوجائیں گی اور شاید جوڑ توڑ کرکے حکومت بنانے کی پوزیشن میں بھی آجائیں۔ تاہم پی پی پی سے اتحاد کا عمران خان کو شدید سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے کہ کل تک جس شخص کو وہ گالیاں دیتے اور کرپٹ ترین شخص کہتے تھے آج محض اقتدار کی خاطر اسی کی بغل میں جاکر بیٹھ گئے۔ نواز شریف تو نااہل ہوچکے ہیں اور اگلے الیکشن میں شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا اعلان بھی کرچکے ہیں۔ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے پنجاب سمیت ملک بھر میں شہباز شریف کا ریکارڈ بہت اچھا ہے لہذا عمران خان کی پوری کوشش ہے کہ نواز شریف کی طرح انہیں بھی کسی عدالتی طریقے سے آؤٹ کیا جاسکے۔ اسی لیے حدیبیہ کیس میں نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: اب حکومت کون بنائے گا
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں