اور تم کیا جانو ایران کیا ہے!؟
تحریر: ایس ایم شاہ

ایران کی آبادی آٹھ کروڑ پر مشتمل ہے۔ آج سے 38سال پہلے یہاں انقلاب اسلامی کے نام سے ایک انقلاب آیا۔ یوں ایرانی عوام نے ڈھائی سو سالہ شہنشائیت کا خاتمہ کرکے98فیصدووٹوں کے ساتھ موجودہ دستوری ڈھانچے کو قبول کیا۔

ان کے دستوری ڈھانچے کے شق نمبر6 کے مطابق اس ملک کے صدر سے لیکر نیشنل اسمبلی اور دیگر تمام عہدوں پر افراد کا تعین عوامی ووٹوں سے ہوتا ہے۔

 چار دہائیوں سے یہ لوگ امریکا اور اسرائیل سے برسرپیکار ہیں۔ ہر ظالم کی مخالفت اور ہر مظلوم کی حمایت ان کی خارجہ پالیسی میں مستقل طور پر شامل ہے۔ اس سسٹم کو بچانے کے لیے انھوں نے کافی قربانیاں دی ہیں۔ امریکا کے اشارے سے اس انقلاب کے آتے ہی صدام کی وساطت سے ان پر آٹھ سالہ جنگ مسلط کی گئی۔ لاکھوں قربانیاں دیں لیکن آخر کار انھوں نے میدان مار دیے۔

مظلوموں کی مدد کرنے کے جرم میں آئے روز نت نئی پابندیوں کے ذریعے استعماری طاقتوں کی جانب سے یہ کوشش کی گئی کہ ان کو گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے لیکن ان کی ایک خصوصیت نے ان کو شکست سے بچا لیا۔ وہ خصوصیت ہے ان کا اتحاد اور عظیم قیادت۔ اگرچہ دوسرے ممالک کی مانند مختلف نظریات کے حامل لوگ یہاں بھی ہیں لیکن جب امریکا اور اسرائیل کے مقابلے کا وقت آتا ہے تو سب یک زبان ہوکر میدان میں اتر آئے ہیں اور مرگ بر امریکہ، مرگ بر اسرائیل کے نعرے لگانے لگتے ہیں۔
انقلاب کے بعد انھوں نے مختلف شعبوں میں خاطرخواہ ترقی بھی کی ہیں۔

 انقلاب سے پہلے کھانے پینے کی تمام چیزیں باہر سے آتی تھیں۔ بلا مبالغہ مرغی فرانس سے، گوشت اسٹریلیا سے، انڈے اسرائیل سے، سیب لبنان سےاور دودھ وغیرہ ڈنمارک سے آتے تھے، ملک کے اندر صرف 33دن تک کے لیے غذائی سٹاک موجود ہوتاتھا، اس وقت 1000 بچوں میں سے 111بچے پیدائش کے بعد مختلف وجوہات کی بناپر لقمہ اجل بنتے تھے، صرف پچیس فیصد دوائیاں دوسرے ممالک کے تعاون سےملک کے اندر بنتی تھیں اور اکثر مریضوں کو علاج معالجے کی خاطر بیرون ملک جانا پڑتا تھا، 70فیصد تک عمر رسیدہ لوگ ناخواندہ تھےاور چالیس فیصد سے بھی کم بچے سکول جاتے تھے، صرف 154000ہزار طلبا چند بڑے شہروں کی یونیورسٹیوں اور دوسرے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم تھے۔ جبکہ اب آبادی دو برابرہونے کے باوجود 300دنوں تک کے لیے غذائی سٹاک موجود ہے، مرور زمان کے ساتھ ساتھ یہ سوفیصد تک ہوگا۔

اب 1000بچوں میں سے صرف 26بچے بچپنے میں مرجاتے ہیں، نارمل انسان کی عمر 58سال سے بڑھ کر 72سال ہوگئی ہے، یہ صحت کے شعبے میں ان کی پیشرفت کی دلیل ہے۔اب چھیانوے فیصد دوائیاں ملک کے اندر بنتی ہیں اور دوائیاں برآمد بھی کرتا ہے، لیٹریسی ریٹ سوفیصد کے قریب ہے،اس وقت ان کے ہاں119سرکاری یونیورسٹیاں، 28سائنسی مراکز، 550پیام نور یونیورسٹی کے برانچ، 385آزاد اسلامی یونیورسٹی کے برانچ، 739فنی علوم کے مراکز کے علاوہ 274پروفیشنل ٹیکنیکل ادارے پائے جاتے ہیں۔

ان مختلف تعلیمی اداروں میں اس وقت چار ملین سے زیادہ طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں، گیس کے زخائر کے اعتبار سے دنیا میں روس کے بعد دوسرا نمبر ایران کا ہے۔ملکی ضروریات پوری کرکے ایران بجلی برآمد کرتا ہے، سائنسی میدان میں اس وقت ایران بارھویں نمبر پر ہے، اس وقت ایران اٹامک ملک سمجھا جاتا ہے اور اٹامک انرجی کا ممبر ملک بھی ہے، سائنسی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کا شمار سات آٹھ ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔

 اس وقت دیسی ساخت کے مصنوعی سیارے سٹلائٹ پر بھیج چکا ہےاور عنقریب مزید بھیجنے والے ہیں اور ان کا شمار دنیا کے ان چھے ممالک میں ہوتا ہے جن کے پاس پراسے بنانے اور لانچ کرنے کی ٹیکنالوجی پائی جاتی ہے۔ (1)۔ انجنئرینگ کے شعبے میں تعدادکے اعتبار سے اس وقت ایران تیسرے نمبر پر ہے اور کئی سال پہلے کے اعداد و شمار کے مطابق تین لاکھ تئیس ہزار سے زائد طلبا انجنیرنگ مکمل کرکے فارغ ہوچکے ہیں۔

اس وقت ان کی سرکاری فوج میں 545000افراد حاضر سروس ہیں اور 65000ریزرو فوج ہیں، سپاہ پاسداران کے 125000 افراد ہیں اور چند سال قبل بسیج کے سربراہ کی رپورٹ کے مطابق 23ملین 8لاکھ بسیجی ہیں۔(2) ان کے ہر شہری پر اٹھارہ سال کی عمر میں دو سالہ فوجی ٹرینیگ لینا ضروری ہے۔ یوں اس وقت ایران ایک بہت طاقتور فوجی طاقت ہے۔

اسرائیل کے مقابلے میں سنی مسلمان تنظیم حماس کی سب سے زیادہ مدد ایران کرتا ہے، اب ایران کی مداخلت نے شام اور عراق سے بھی داعش کا خاتمہ کردیا، اگر یہ نیابتی جنگ یہ لوگ شام میں نہ لڑتے تو ہمیں افغان بارڈر پر لڑنا پڑتا، مسلم ممالک میں وحدت کے حوالے سے ایران نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

 پیغمبر اکرم ؐ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے دنیا بھر کے مسلم سربراہوں کو تہران دعوت دیکر پورا ایک ہفتہ وحدت کے عنوان سے مناتے آئے ہیں، دوسرے بعض اسلامی ممالک کے برخلاف انھوں نے تنگ نظری، دہشتگردی اور تکفیری سوچ کو پروان چڑھنے نہیں دیا۔ بلکہ ہمیشہ مسلمانوں کو قریب کرنے کی کوشش کی گئی، بعض افراد نے کلبھوشن معاملے میں انہیں ملوث کرنے کی ناکام کوشش کی جس کی قلعی ان کے انٹرویو منظر عام پر آنے کے بعد مکمل کھل گئی، جب ان سے استفسار کیا گیا کہ تم نے پاسپورٹ کیوں ہمراہ لے آئے تو  تب  اس نے جواب دیا کہ ایران میں چیکنگ سسٹم پاکستان کے برعکس بہت ہی سخت ہے اس لیے مجھے مجبورا اسے لے کےآنا پڑا۔

 اگر ایران ملوث ہوتا تو بغیر کسی سفری دستاویزات کے اسے چھوڑ دیتا، ایسا انھوں ہرگز نہیں کیا۔ پاکستان بننے کے بعد سب سے پہلے ایران نے اسے تسلیم کیا، اٹامک تجربے کے وقت بحرانی وقت میں ایران نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور انڈیا کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا، ایران کا موازنہ بالکل عرب ممالک سے نہیں کیا جاسکتا، عرب ممالک اس وقت مکمل امریکہ اور اسرائیل کی گود میں پناہ لے چکا ہے۔

نہ ان کے پاس جنگی طاقت ہے، نہ عوامی طاقت ہے اورنہ ہی فوجی طاقت، نہ ان کے اپنے ایجنڈے ہیں بلکہ وہ امریکہ اور اسرائیلی ایجنڈے کو فالو کرتے ہیں۔ جس کاواضح ثبوت قبلہ اول کے بارے صدر ٹرمپ کےخطرناک فیصلہ کے بعد سعودی عرب کا اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت نہ کرنا اور اپنے ہم نواؤںکو شرکت کرنے نہ دینا ہے بلکہ سعودی شہزادے نے برملا کہا کہ فلسطین اسرائیل جنگ ہونےکی صورت میں ہم اسرائیل کا ساتھ دیں گے۔

داعش کو اگر نابود کرنا اگر ایران کے جارحانہ عزائم کی دلیل ہے تو ہم سب بھی ایسے ہی ہوں گے کیونکہ ہم بھی عرصہ دراز سے طالبان اور القاعدہ سے لڑتے آئے ہیں اور ان کے ہاتھوں70ہزار سے زائد افراد جان کی بازی کھو چکے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر اگرایران سے کسی کو خطرہ ہےتو صرف تکفیری اور داعشی سوچ رکھنے والوں اور ان کو سپورٹ کرنے والوں کے لیے ہے ورنہ ایرانیوں نے نہ خود سےآج تک کسی ملک پر چڑھائی کی ہے اور نہ آئندہ  ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔

بادشاہت تو ہے ہی لوڑا لنگڑا نظام حکومت ہے جسے بچانے کے لیے سعودی اور ان کے ہم نواؤں کو امریکا اور اسرائیل کے تلوے چاٹنا پڑ رہا ہےاور یہ تمام مسلمانوں کے لیے ننگ و عار ہے۔

بعض افراد رواں ہفتے میں  مہنگائی کے خلاف بعض مقامات پر احتجاجات ہونے کو بہار عربی سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ یہ اُن کی محض خام خیالی ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، ایران میں اس قدر آزادی رائے عام ہے کہ  محض انڈوں کی قیمتیں بڑھنے پر لوگ سڑکوں پر نکلنے کا حق رکھتے ہیں،البتہ اس عوامی احتجاج سے ایران دشمن عناصر نے فائدہ اٹھاکر حالات خراب کرنے کی بھرپور کوشش کی اور چند افراد جان سے بھی مارے گئے، لیکن نہ یہاں کی پولیس نے کسی پر گولی چلائی اور نہ ہی فوج نے،بلکہ سنجیدگی سے حالات کو کنٹرول میں لیا گیا۔

ایرانی طریقہ کار  کے مطابق عام افراد کو قتل کرنے والوں کے خلاف حتماً قانونی کارروائی ہوگی اور انہیں عدالتی کٹہرے میں کھڑے کیاجائے گا۔

اس وقت اسلامی دنیا میں اگر کہیں حقیقی جمہوریت ہے تو وہ صرف ایران میں ہی ہے،  گزشتہ چار عشروں سے جنوبی ایشیا میں امن کا گہوارہ اور ہر میدان میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اب بھی یہاں بہار کا سماں ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی رہے گا۔

ایران کی سر زمین پر کل بھی اسرائیل اور امریکہ کے گماشتے رسوا  ہوئے تھے اور بفضلِ تعالیٰ آج بھی رُسوا ہو رہے ہیں۔


افکار و نظریات: اور تم کیا جانو ایران کیا ہے