گھر کس طرح ٹھیک کریں ۔۔عبدالوحید

نواز شریف نے ایک سیاسی لیڈر ہونے کے ناطے انتخابات 2013ء سے قبل لاہور کے شادمان ایریا میں واقع سیفما کے اجلاس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جو کچھ کہاتھا اس کا لب لباب یہ تھاکہ ہمیں غیر ضروری مہم جو ئی ترک کرنا ہوگی.

اپنی انتخابی مہم میں نواز شریف نے بعض مجالس میں اس امر کاایک سے زائد بار ذکر کیا تھا کہ کچھ تو ایسا ہے کہ ایک طرف پوری  دنیاہم پر الزام عائد کر رہی ہے کہ ہم دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں ۔

میاں نواز شریف نے اپنی کامیاب انتخابی مہم سے فراغت اور وزارت اعظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے چند ماہ بعد اکتوبر میں امریکہ کا دورہ کیا تو واپسی پر ایک بار پھر اس طرف اشارہ کیا کہ ہمیں اپنے گھر کا ٹھیک کرنا ہوگا ۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد پاکستان پہنچ کر اس طرف ہی اشارہ کرتے ہوئے کھلے لفظوں میں کہا تھا کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا ہوگا ۔

اب میاں نواز شریف سعودیہ کے دورےسے واپس آئے ہیں تو انہوں نے ایک بار پھر کہاہے کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا ہوگا ،

ان سیاسی لیڈروں نے جو کچھ کہاوہ کچھ ہی امریکہ ہمیں کہہ رہا ہے کہ اپنا گھر ٹھیک کروورنہ یہ ہوگا اوریہ ہوگا اور پھر یہ ہوگا ،ان میں سے کچھ امریکہ نے کر بھی دیا ہے ۔

امریکہ کا تقاضہ ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور دیگر طالبان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، ہم نے بار بار کہا ہے کہ ہم کسی بھی دہشت گرد کو قبول نہیں کریں گے اور ساتھ ہی اپنی قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں لیکن امریکہ ہے کہ مان ہی نہیں رہا ،اندریں حالات ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو مل بیٹھ کرسوچنا ہوگا کہ ہم اپنے گھر کو کس طرح ٹھیک کریں کہ دنیا ہمارے قومی بیانیے کوتسلیم کر لے۔


افکار و نظریات: گھر کس طرح ٹھیک کریں ۔۔