اردو لکھاریوں کے لئے مکمل تھیوری

نثر اور اسالیب نثر 

اردو نثر وہ طرز اظہار ہے جس میں عام نحوی ترتیب قائم رہے اور صراحت، ربط اور روانی پر زور دیا جائے۔ نظم اور نثر کے درمیان امتیاز محض موزونیت کا نہیں طرز احساس اور طرز اظہار کا بھی ہے۔ نظم میں الفاظ محض بیان حقیقت پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ان کا مقصد تخیل کو بیدار اور متحرک کرنا ہوتا ہے، جبکہ نثر میں عموماً الفاظ کا مقصد صراحت اور وضاحت ہوتا ہے۔ الفاظ اور جملوں میں منطقی ربط قائم رکھا جاتا ہے اور زبان کی نہج روزمرہ کی گفتگو اور عام بول چال کی نحوی اور صرفی ترتیب کے قریب رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

 دور قدیم میں عام طور پر نثر کو فنی اظہار کا وسیلہ نہیں سمجھا گیا اور محض نظم ہی فن قرار دی جاتی رہی۔ لیکن ادب جب عوام سے قریب آنے لگا اور اس سے محض فنی اور شعری مقاصد کی بجائے معلوماتی اور منطقی مقاصد کے حصول کی کوشش بھی ہونے لگی تو نثر بھی فن کے دائرے میں شامل ہو گئی اور اسے بھی تخلیقی اظہار کا ایک اہم وسیلہ قرار دیا جانے لگا۔

 البتہ نثری اسلوب پر شعری اسلوب کا اثر مختلف طریقوں سے مدتوں قائم رہا۔ عربی اور فارسی تنقید نے تخلیقی نثر کو تین اقسام میں تقسیم کر دیا۔ نثر مقفی، نثر مرجز اور نثر عاری۔ پہلی دونوں اقسام کے لیے شاعری کے طرز پر قافیوں اور ہم صوتی ٹکڑوں کا التزام رہا اور مدتوں تک اسی قسم کی نثر کو ادبی نثر قرار دیا جاتا رہا۔ شادی کے رقعوں سے لے کر علمی اور ادبی تصانیف تک اسی قسم کی سجی ہوئی نثر لکھی جاتی رہی جس میں موزونیت کے علاوہ شاعری کے تقریباً سبھی لوازم موجود ہوتے تھے جبکہ نثر کے لوازم سے اس کا رشتہ واجبی سا تھا۔

اس میں نہ تو صراحت، وضاحت اور قطعیت پر زور تھا جو معیاری نثر کا زیور ہیں، نہ اس میں تسلسل اور منطقی ربط و ترتیب لازمی تھی، جو نثر کے آداب و آئین کا حصہ ہے۔ نہ اس میں وہ روانی اور برجستگی تھی جو اسے شاعری کی مرصع کاری اور فسوں گری سے الگ کرتی ہے۔

آج معیاری نثر کے لیے بھی کچھ خصوصیات ضروری ہیں۔ اچھی نثر وہ ہے جو نظم کے مقابلے میں اپنا انفرادی آہنگ قائم رکھ سکے۔ وہ محض شاعری کے اسلوب و مزاج کا حصہ نہ بن جائے بلکہ ان کی شیرنی اور دلکشی اس کو توضیح میں نہیں اس کی سادگی اور بے ساختگی میں ہو۔ زور بیان پر توجہ ہو تو اس طرح کہ وہ الجھانے کا سبب نہ بن جائے بلکہ مضمون کی صراحت اور وضاحت میں مدد دے اور اس کو منزل بہ منزل ربط و ترتیب کے ساتھ ذہن نشین کرانے میں معاون ثابت ہو۔

نظم کی طرح نثر کے بھی مختلف اصناف ہیں اور ہر صنف کے تقاضے الگ الگ شرطوں اور معیاروں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایک طرف علمی اور معلوماتی نثر ہے جس کا سلسلہ فلسفیانہ، تاریخی اور معلوماتی مضامین سے صحافت اور بیانیہ مضامین تک پھیلا ہوا ہے۔ اس صنف میں نثر جتنی سلجھی ہوئی، مربوط، سادہ، رواں اور مضمون کی ضرورت کے مطابق ہو گی اسی قدر معیاری سمجھی جائے گی۔ اس قسم کے مضامین کے ساتھ ہی انشائیہ یا مزاحیہ مضامین کا ذکر ضروری ہے جن میں بیانیہ معلوماتی یا خالص علمی نقطہ نظر پر تخلیقی عنصر غالب آ جاتا ہے۔

ایسی نثر میں تخیل کی رنگ آمیزی نسبتاً زیادہ ہو گی اور ربط اس قدر واضح اور براہ راست نہ ہو گا لیکن صراحت و وضاحت اور روانی یہاں بھی لازمی اقدار ٹھہریں گی۔

پھر افسانے، ناول اور ڈرامے کے اصناف ہیں جن میں حقیقتاً نثر نگار کے اپنے اسلوب کے ساتھ ساتھ نثر میں مختلف کرداروں کے مزاج اور مختلف واقعات اور صورت حال کے مطابق نثری اسلوب بھی بدلتا جائے گا۔ گویا یہاں اسلوب کا معیار اس طرح بھی مقرر کیا جائے گا کہ مکالمے، بیان اور الفاظ کس حد تک متعلقہ کردار اور واقعات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اسی کے ساتھ افسانہ نگار یا ناول نگار، کرداروں اوور واقعات کی پیش کش کے لیے کچھ حصوں میں براہ راست اپنی شخصیت کو ظاہر کر سکتا ہے۔ ان حصوں میں اس کے اسلوب پر اس کی اپنی شخصیت کی پرچھائیں واضح ہو گی۔ ڈرامے میں براہ راست اظہار کی گنجائش کم ہے۔ اس صورت میں ڈرامہ نگار کے نثری اسلوب کو اس کے کرداروں اور اس کے تخلیق کردہ صورت حال ہی کی روشنی میں پہچاننا ہو گا۔

نثر کا معیار مختلف ادوار کے تہذیبی مزاج کے مطابق بدلتا رہا ہے۔ تجزیے کی آسانی کے لیے نثری اسالیب کو چند اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے تمثیلی اسلوب آتا ہے جس میں علامتوں اور تمثیلوں کے ذریعے مضامین، قصوں اور حکایتوں میں اخلاقی، مذہبی اور فلسفیانہ رموز بیان کیے جاتے رہے ہیں۔ اس کی مثالیں مختلف الہامی کتابوں اور مذہبی اور نیم مذہبی تصانیف میں کثرت سے ملتی ہیں۔ دوسری قسم شاعرانہ اور نیم شاعرانہ نثر کی ہے جسے ایک مدت تک ادبی نثر قرار دیا جاتا رہا ہے۔

 اس میں کہیں قافیے سے کام لیا گیا ہے، کہیں ایسے ٹکڑے استعمال کیے گئے ہیں جو برابر کے ہوں اور ہم وزن ہوں۔ کہیں کہیں الفاظ کے در و بست اور تشبیہ اور استعاروں کے استعمال سے بھی کام لیا جاتا ہے۔ تیسری قسم اس نثر کی ہے جس میں سادگی اور صراحت کو اہمیت حاصل ہے اور بیان کی غیر ضروری آرائش کے بجائے نثر کی سادگی اور صراحت کو قدر اول قرار دیا جاتا ہے۔

 اردو میں ان تینوں اقسام کی نثر کا رواج رہا ہے، گو تیسری قسم ہنوز طفولیت میں ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سادگی اور صراحت اور قطعیت والی نثر (جس کی عمدہ مثال فرانسیسی میں فلابیر کی نثر میں اور انگریزی میں برنارڈ شا اور برٹرینڈ رسل کی تحریروں میں ملتی ہے) صنعتی دور کے سماج کی دین ہے اور سماج کے سائنسی مزاج اور کسی قدر منطقی ذہن کی نشان دہی کرتی ہے۔

ہندوستانی سماج چونکہ ہنوز اس منزل تک نہیں پہنچا لہذا ہمارا نثری اسلوب بھی وہ سادگی، روانی، قطعیت اور شفافی نہیں پا سکا۔ پہلے طرز کے کامیاب نمونے وجہی کی "[[سب رس" |سب رس" ]]محمد حسین آزاد کی "نیرنگ خیال" اور ابو الکلام آزاد کی تصنیف "غبار خاطر" میں چڑیا چڑے کی کہانی والے حصے میں ملیں گے۔

 دوسرے طرز کی اچھی مثالیں تحسین کی "نو طرز مرصع" رجب علی بیگ سرور کے "فسانہ عجائب" اور رتن ناتھ سرشار کے "فسانہ آزاد" میں موجود ہیں۔ اس طرز کو تیسرے طرز میں سمو کر جو نثری اسلوب سامنے آیا تھا اس کی مثالیں شبلی کی نثر کے زیر اثر ابو الکلام آزاد، رشید احمد صدیقی، مہدی افادی، ظفر علی خاں، عبد الرحمن بجنوری اور آل احمد سرور کی تحریروں میں ملتی ہیں۔

 تیسرے طرز کے ابتدائی نقوش غالب کے اردو خطوط سے لے کر میر امّن کی باغ و بہار، سر سید احمد خان اور حالی کے نثری اسلوب اور سجاد انصاری کے محشر خیال والے مضامین ہیں اور خواجہ حسن نظامی اور عبد الماجد دریا بادی کی تحریروں میں ملتے ہیں۔ اس طرز میں معروضیت اور استدلال کے عناصر کی شمولیت نے ایک طرح کا فکری استحکام پیدا کر دیا ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے نہ صرف علمی مضامین میں اختیار کیا جائے بلکہ اسے مزید ترقی بھی دی جائے۔

اردو نثر نے ابتدا میں ظہوری اور ابو الفضل کی طرز انشا سے فیض اٹھایا پھر "رقعات عالمگیری" کے اسلوب سے۔ فورٹ ولیم کے دور کے بعد اس پر انگریزی نثر کے اثرات نمایاں ہونے لگے لیکن آج بھی اردو نثر میں وہ شفاف پن، وہ سادگی وہ کاٹ وہ صراحت اور قطعیت نہیں آئی ہے جو نثر میں قدر اول سمجھی جاتی ہے۔

اردو کا نثری اسلوب مختلف منازل اور مراحل سے گزرا ہے اور اس کے صرفی اور نحوی ڈھانچے ترتیب اور تراش میں مختلف طور طریقے رائج رہے ہیں۔ شروع کے دور میں نثری اسلوب کی اکائی جملے بجائے فقرہ تھا لہذا انھیں فقروں کے صوتی آہنگ اور ترتیب سے کام لیا جاتا تھا۔ ان فقروں کی مدد سے نثر میں رنگینی اور کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ملا وجہی کی نثر میں یہ اسلوب سب سے زیادہ نمایاں ہے اور اس کی جھلک سرور کے "فسانہ عجائب" تک میں موجود ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو گی کہ نثر لکھتے وقت بھی مصنف کا ذہن مصرعوں میں سوچتا تھا اور منطقی ربط کے بجائے صوتی آہنگ پر زیادہ زور دیا جاتا تھا۔

 اس طرز کی نثر میں فقروں کی مدد سے ایک ہی جملے کو اس قدر پھیلایا گیا ہے کہ اس کی وحدت کا تصور قائم نہیں رہا۔ کہیں کہیں غالب کے خطوط میں بھی اس طرز کے جملے ملتے ہیں، گو ان میں مقفی و مسجّع انداز بھی موجود ہے لیکن نثر کا آہنگ کہیں مخدوش نہیں ہوتا۔ سر سید احمد خاں کی نثر میں پہلی بار غالباً انگریزی ادب کے زیر اثر جملے کا تصور ملتا ہے اور ان جملوں میں ربط فکری منطقی طور پر قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس طرز کو اردو رسالوں اور اخبارات نے رواج دیا۔

 اخبارات اپنی ضرورتوں کے لحاظ سے پرتکلف اور پرتصنع نثر کو برتنے سے قاصر تھے۔ اس کے علاوہ چونکہ نثر محض ذریعہ انبساط یا اظہار فن کا وسیلہ نہ رہی بلکہ اس کے ذریعے اہم سماجی اور تہذیبی، مذہبی اظہار ہونے لگے، اس لیے نثر زیادہ بے ساختہ، بے تکلف اور سادہ ہوتی گئی اور لازمی طور پر اس میں منطقی ربط و آہنگ زیادہ نمایاں ہونے لگا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ نثر کو زیادہ رواں، سادہ اور بے تکلف بنانے میں اس کے عام وسیلہ اظہار ہونے کو دخل ہے اور پریس اور سماجی اور تہذیبی تحریکوں نے اسے دوسری تمام اصناف میں زیادہ بے ساختہ اور رواں بنا دیا ہے۔

نثری وسائل اظہار میں اسلوب کا سب سے زیادہ واضح فنی اظہار انشائیہ میں ہوتا ہے جو بقول شخصے "نثر کا ایک ایسا چھوٹا سا ٹکڑا ہوتا ہے جس میں مصنف دنیا کے کسی بھی موضوع کے بارے میں اپنی ذات کا انکشاف کرتا ہے۔" چونکہ ذات کا یہ اظہار فلسفے یا منطق، تبلیغ یا تعلیم کے ضابطوں کا پابند نہیں ہوتا لہذا اسلوب پر مصنف کی انفرادیت کی پرچھائیاں زیادہ صاف اور واضح شکل میں نظر آتی ہیں اور یہاں نثر کی زیادہ صاف شفاف، زیادہ رنگین اور دل فریب شکل نظر آتی ہے۔ اسلوب کو شخصیت کا اظہار کیا گیا ہے۔ انشائیے میں یہ اظہار بہت واضح اور دلکش ہوتا ہے۔ یہاں معروضی ڈھنگ سے بات کہنے یا دلیل اور استدلال سے اسے ثابت کرنے کے بجائے گویا ذاتی اور نجی تجربات اور کیفیات، مشاہدات اور تاثرات کا ہم جلیسوں سے سرگوشی یا خوش وقتی کے لہجے میں تذکرہ مقصود ہوتا ہے اور اسی لیے اس میں خطابت کی بجائے گفتگو اور وکالت کی بجائے رفاقت کا انداز غالب ہوتا ہے۔ اردو میں وجہی کے انشائیہ اسلوب سے لے کر غالب، محمد حسین آزاد، عبد الحلیم شرر، مہدی افادی، سجاد انصاری، سجاد حیدر یلدرم، ناصر علی، خواجہ حسن نظامی، فرحت اللہ بیگ، رشید احمد صدیقی، ابو الکلام آزاد، پطرس بخاری، فلک پیما، کرشن چندر وغیرہ تک انشائیہ کی اچھی مثالیں ملتی ہیں۔

یہ سبھی اپنے اپنے طور پر صاحب طرز انشا پرداز ہیں۔ ان کے نثری اسلوب پر ان کی اپنی شخصیت کی مہر لگی ہوئی ہے۔ گویا انشائیہ میں مصنف اور مخاطب کے درمیان کی دیوار بہت پتلی ہوتی ہے اور نثری اسلوب یہاں شخصیت کا تقریباً براہ راست اظہار کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مضمون اور مقالے میں یہ اظہار ذرا زیادہ معروضی ہو جاتا ہے۔ ذاتی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کا معاملہ یہاں دلیل اور ثبوت کا پابند ہونے لگتا ہے اور مضمون میں دلیل جتنی زیادہ وزنی، استدلال جتنا زیادہ معروضی اور منطقی ہوتا ہے اور ذاتی تاثرات اور تعصبات کا اظہار جتنا کم ہوتا ہے، اسی قدر اس کی اہمیت بڑھتی ہے۔ یہاں نثری اسلوب میں تخیل کی اڑان اور جذبے کی فراوانی جتنی کم ہو گی اتنا ہی مضمون مؤثر اور مضمون نگار کامیاب قرار دیا جائے گا۔

ان دو انتہاؤں کے درمیان ناول مختصر افسانہ اور ڈرامے کے نثری اسالیب ہیں جن میں نہ تو جذبے اور تخیل کو کم وقعت قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ معروضیت اور استدلال سے منھ موڑا جا سکتا ہے۔ پہلی دو اصناف میں تو نثری اسلوب دو سطحوں پر کار فرما ہوتا ہے۔ ایک اس حصے میں جہاں مصنف براہ راست اشیا، واقعات یا تاثرات کا بیان کرتا ہے۔

 گویا اس کی اپنی شخصیت کا کم و بیش براہ راست اظہار ہوتا ہے۔ دوسرے اس حصے میں جہاں مصنف مختلف کرداروں کی زبانی بولتا ہے۔ یہاں مصنف کا اپنا ذاتی اسلوب کارفرما نہیں ہوتا بلکہ اس ذاتی اسلوب کا اظہار مختلف کرداروں اور واقعات کے ذریعے ہوتا ہے۔ یعنی نثری اسلوب کرداروں کے مزاج کے مطابق اور مخصوص واقعات اور صورت حال کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ ڈرامے میں صرف آخری صورت ہی ممکن ہے کیونکہ یہاں مصنف براہ راست بیان نہیں کر سکتا۔

اوپر نثر کی روایتی قسموں کا ذکر آیا ہے لیکن اردو میں عام طور پر چار نثری اسالیب رائج رہے ہیں، جنھیں تمثیلی، مقفی، داستانی اور سادہ کی اصطلاحوں سے ظاہر کیا جا سکتا ہے اور ان چاروں کی بھی مختلف اور متعدد اقسام ہیں۔ دراصل ہر صاحبِ طرز قلم کار اپنا نثری اسلوب خود متعین کرتا ہے اور اس کی نثر مختلف عناصر ترکیبی سے عبارت ہوتی ہے۔ پھر بھی اردو نثر سے شناسائی کے لیے ان چار اسالیب کی شناخت اور ان کے عناصر ترکیبی سے واقفیت ضروری ہے جس کے اہم ترین نمائندے علی الترتیب وجہی اور یا محمد حسین آزاد، رجب علی بیگ سرور، میر امن اور سرسید احمد خاں کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ اردو کا نثری اسلوب ابھی تک شبلی دور سے گزر رہا ہے۔

 اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جس طرح ہمارے سماجی اور اقتصادی حالات میں جاگیرداری اور صنعتی دور کی پیوند کاری جھلکتی ہے، اسی طرح ہمارے نثری اسالیب میں بھی عہد متوسط کی شاعرانہ اور روایتی سجاوٹ کا پیوند سادہ اور شفاف نثر میں لگایا جاتا رہا ہے۔ آج بھی ہماری نثر نگاری شاعرانہ آداب میں گھری ہوئی ہے اور اس کی تربیت اور آہنگ میں جو واقعیت پسندی، منطقی ربط اور استدلال ہونا چاہیے، اس کی طرف توجہ کم ہے مگر یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ پچھلے ڈھائی سو سال میں اردو نثر نے بلوغت کی کئی منزلیں طے کر لی ہیں اور اس میں تنوع، رنگا رنگی معروغیت، وضاحت اور وسعت پیدا ہو چلی ہے۔


افکار و نظریات: اردو لکھاریوں کے لئے مکمل تھیوری