جنسیات اور بچوں کی دنیا

طارق احمد  از انگلینڈ

"ڈاکیے نے گہر کی بیل دی۔ ایک دس سال کے بچے نے دروازہ کہولا ۔ ڈاکیے نے بچے سے کہا۔ اپنے امی ابو میں سے کسی کو بلواو ڈاک دے کر دستخط کروانے ہیں۔ بچے نے کہا۔ وہ گہر میں اکیلا ہے۔ ڈاکیے نے فون کرکے پولیس بلوا لی۔ والدین پر مقدمہ درج ہو گیا۔ اور بچے کو سوشل ڈیپارٹمنٹ والے لے گئے۔ کیونکہ والدین نے بچے کو گہر میں اکیلا چہوڑ کر اس کی حفاظت اور زندگی کو غیر یقینی بنا دیا تہا۔ برطانیہ میں بارہ سال سے کم عمر بچوں کو اکیلا چہوڑنا غیر قانونی ہے۔ چودہ سال سے کم عمر بچوں کو تا دیر تنہا چہوڑنا قابل گرفت جرم ہے۔ اور سولا سال تک کے بچوں کو رات میں اکیلا چہوڑنا غیر قانونی ہے۔

ایک گہر میں چولہے کو آگ لگ گئ۔ پہر ایک بوائلر بہڑک اٹہا۔ فائر بریگیڈ والوں نے رپورٹ لکہی۔ اس گہر میں ایک چہوٹا بچہ ہے۔ ایسے واقعات سے اس کی زندگی کو خطرہ ہے۔ اور یہ واقعات والدین کی غیر ذمہ دارای کا ثبوت ہیں۔ چار سال تک وہ بچہ اپنے والدین سے دور کر دیا گیا۔ اس دوران اگر دوسرا بچہ بہی جنم لیتا۔ تو اسے بہی لے جاتے۔

ایک بچے نے پولیس کو فون کیا۔ اس کے والدین آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اور حسب توفیق ایک دوسرے کو پہینٹی لگا رہے ہیں۔ پولیس والدین کو پکڑ کر لے گئ  ۔ ان پر مقدمہ درج ہو گیا۔ بعد میں والدین نے صلح کر لی۔ لیکن ان کے چار بچے سوشل ڈیپارٹمنٹ والے لے گئے۔ وجہ یہ کہ جہگڑالو والدین کی وجہ سے بچوں کی مناسب تربیت ممکن نہیں ۔

یہاں بچے ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ یہاں کی ریاست ماں جیسی ہے۔ یہ ریاست بچوں کو مفت تعلیم دیتی ہے۔ کہانا دیتی ہے۔ جیب خرچ دیتی ہے۔ مفت کتابیں دیتی ہے۔ مفت علاج کرواتی ہے۔ اور ان کی حفاظت اور ویلفیئر کی ذمہ دار ہے۔

ایک پیاری سی بچی ہے۔ اس کے والدین ہمارے فیملی فرینڈز ہیں۔ یہ بچی نرسری میں داخل ہو گئ ۔ ایک بار ہمارے گہر آئ تو بڑوں کی طرح باتیں کر رہی تہی۔ ہمیں اچہی لگی۔ پاس بلا کر پیار کرنا چاہا تو کہنے لگی۔ میں فی میل ہوں ۔ یعنی لڑکی ہوں ۔ یہ مناسب نہیں ۔ ہم سب ہنسنے لگے۔ اس کی ماں نے کہا۔ جب سے یہ نرسری میں داخل ہوئ ہے۔ روز ایک نہ ایک ایسا سبق لے کر آ جاتی ہے۔ اسے اسکول میں باقاعدہ یہ ٹریننگ دی جاتی ہے۔ تمہارے حساس جسمانی مقامات کونسے ہیں۔ اور تم نے کسی کو انہیں چہونے کی اجازت نہیں دینی۔  اگر کوئی چہوتا ہے۔ تو اپنی ٹیچر کو بتاو ۔

 اندازہ کریں ۔ یہاں کی سوسائٹی نے پہلے یہ تسلیم کیا۔ کچہ لوگوں میں پیڈوفیلیا کی بیماری ہے۔ یعنی وہ بچوں کی طرف جنسی رحجان رکہتے ہیں۔ اسی طرح یہاں کی سوسائٹی نے تسلیم کیا۔ قریبی رشتوں میں انسیسٹ یعنی جنسی رحجانات کا مسئلہ ہے۔ جس میں بچے اپنے قریبی رشتہ داروں کی جنسیت کا شکار ہوتے ہیں۔ اور پہر اس سوسائٹی نے ان مسائل کا فکری ، تعلیمی اور عدالتی حل تلاش کیا۔ بچوں کی نرسری سے تربیت شروع کر دی۔ اور ایک ہم ہیں۔ ہماری زبان میں پیڈوفیلیا اور انسیسٹ کے لیے کوئی لفظ ہی نہیں ۔

 گویا ہماری سوسائٹی یہ ماننے سے ہی انکار کرتی ہے۔ کہ ہمارے لوگ ان جنسی جرائم کا شکار ہیں۔ یہ ہپوکریسی یعنی منافقت کی انتہا ہے۔ کوئی ایسا شخص ہو گا۔ جس کو بچپن میں کسی نے ہاتہ نہ پہیرا ہو۔ بد فعلی کے واقعات عام ہیں۔ ہم اس تاثر کے ساتہ بڑے ہوتے ہیں۔ کہ مدرسوں میں اور اسکولوں میں چہوٹے بچوں کو جنسی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہمارے پیشتر لطائف انہی جنسی واقعات کے گرد گہومتے ہیں۔ وہ لطیفہ سب نے سن رکہا ہو گا۔ کہ تمام مسلکی مدرسے کم از کم اس ایک معاملے میں متفق ہیں ۔

 ہمارےتحت الشعور اور ہماری سوسائٹی میں یہ سب تلخ حقیقتیں اور احساسات موجود ہیں۔ لیکن ہم ان پر سنجیدہ بات نہیں کرتے۔ گفتگو نہیں کرتے۔ یہ سوشل  ممنوعات یعنی taboos ہیں۔ جنہیں لطیفوں کی شکل میں انجوائے کیا جاتا ہے۔ معاشرے کے تاریک کونے کہدروں میں ان پر عمل کیا جاتا ہے۔ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن ہمارا مذہبی مائنڈ سیٹ اور ہماری نام نہاد اخلاقیات ہمیں ان مسائل پر گفتگو کرنے سے روکتی ہیں۔

 ایف ایس سی میں بیالوجی میں موجود ری پروڈکشن کا چیپٹر ہم دوستوں نے اندر سے کمرہ لاک کرکے پڑہا تہا۔ کوئی ہمیں سن نہ لے۔ جبکہ ہمارے اپنے چہوٹے  بیٹے نے یہاں چہٹی کلاس میں جب سیکس ایجوکیشن پڑہنی شروع کی۔ تو وہ روز کہانے کی میز پر ہم سے سیکس ایجوکیشن پر سوال کرتا اور میں اور اس کی ماں اور اس کے بڑے بھائی اس کو جواب دیتے۔  جنسی معاملات کے ساتھ احساس جرم اور احساس گناہ جوڑ دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ میاں بیوی میں جسمانی تعلق کی بنیاد بھی اس سوچ پر رکھی گئی ہے۔ کہ یہ تعلق صرف بچے پیدا کرنے کی حد تک ہے۔

 کئ میاں بیوی رات کو لائٹ جلانے نہیں دیتے ۔ اگر اس تعلق میں لطف اور گرم جوشی کا پہلو شامل ہو جائے تو قباحت پیدا ہوتی ہے اور اگر نہ ہو۔ تو تب بھی مسائل جنم لیتے ہیں ۔

 ہم عجب منافقت کی غضب کہانی بن چکے ہیں ۔ شادیاں لیٹ ہوتی ہیں۔ خیر سے دنیا میں فحش ویب سائٹس دیکہنے والی نمبر ون قوم ہیں۔ عام محاورہ ہے۔ ہماری سوسائٹی میں ننانوے فیصد لوگ مشت ذنی کرتےہیں جو ایک فیصد نہیں کرتے۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔

 لیکن ان مسائل پر بات کرنا ان کا حل نکالنا ہماری اخلاقیات اور ہمارے مزہبی مائنڈ سیٹ کو منظور نہیں ۔ ہم نے کبوتروں کی مانند آنکہیں بند کر رکہی ہیں۔ اور پہر ایک دن کوئی بیمار جنسی بلا آتا ہے۔ اور ہمارے کسی معصوم کبوتر کو چیر پہاڑ دیتا ہے۔ تب ہمارے تحت الشعور میں چہپا اور پرورش پاتا ہمارا گلٹ ہمارا احساس گناہ تصویروں، نوحوں، شعروں اور احتجاجوں اور توڑ پہوڑ کی شکل میں باہر بہہ نکلتا ہے۔

 ہم سوشل میڈیا پر سیاپا ڈال کر اپنے اپنے گلٹ کا کتہارسس کرتےہیں ۔ سیاست کرتے ہیں۔ اپنا تاریخی گناہ دوسروں کے کہاتے میں ڈالتے ہیں۔ اور پہر ہلکے پہلکے ہو کر اگلے کسی واقعہ کا انتظار کرنے لگتے ہیں لیکن اس کا مستقل حل اور تدارک نہیں کرتے۔ ہم کیسے مان لیں۔ ہم تو مسلمان ہیں۔ راسخ العقیدہ مذہبی ہیں۔

 ہمارے موبائل فونز پر دن رات نعتیں اور سورتیں چلتی ہیں۔ ہم نے خود کو اپنے طے کردہ اونچے آدرشوں پر بٹھا رکھا ہے۔ ہم کیسے مان لیں۔ ہمارے اسلامی معاشرے میں ایسے جرائم ہو سکتے ہیں۔ یہ سوشل ممنوعات یعنی taboos ہیں ۔ ان پر بات کرنا گناہ ہے۔ اور اس پابندی نے ہمارے معاشرے کی صورت بگاڑ دی ہے.


افکار و نظریات: سیکس اور بچوں کی دنیا