بچوں پر جنسی تشدد کا راہِ حل

فرحان منہاج

پاکستان میں اکثریتی رائے ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام اکیسویں صدی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا اور یہ بات ہر ذی شعور جانتا ہے اور اس پر بات کرتا ہے.اسی طرح ہمارے نصاب کا حال ہے  اس نصاب میں کئی اصلاحات کی ضرورت ہے.

زینب کیس کے بعد اب میڈیا میں اور خاص کر سوشل میڈیا میں ایک نئی بحث چل پڑی ہے کہ بچوں میں جنسی تشدد کے حوالے سے آگاہی اور اس سے بچنے کے لیے سیکس ایجوکیشن کو نصاب کا حصہ بنایا جائے.

اس پر ہم بالکل دو گروپس میں تقسیم ہوگئے ہیں ایک اس کی حمایت کررہا ہے اور دوسرا اسکی مخالفت.

سیکس ایجوکیشن سے مراد سیکس کے بارے میں معلومات ہے تو اس کی مخالفت ہی ہونی چاہیے اسے قطعی طور پر نصاب کا حصہ نہیں ہونا چاہیے نصاب تو ایک طرف اسے اسکول کی چار دیواری کے اندر بھی نہیں آنا چاہیے.پرائمری یا آپ ابتدائی تعلیم کے پانچ سال کہہ لیں اس عمر میں بچے کی اخلاقی اور روحانی تربیت اور  اس کی طیبعیت میں امن اور طہارت پیدا کردی جائے تو کوئی بعید نے کہ طہارت امن اور اخلاق اسکی عادات میں شامل ہوجائیں  گے. اور وہ عادات اس بچے کو معاشرہ کا ایک مفید فرد بنے میں اہم کردار ادا کریں گی

ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں امن،  اخلاق،  روحانیت اور طہارت کو شامل کرنا ہوگا.  نصاب کے ساتھ ساتھ تربیت کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانا ہوگا. 

میں اس بات کی حمایت ضرور کروں گا کہ بچے کی تربیت میں یہ چیز ضرور ہو کہ وہ کسی بھی غیر معمولی بات کو چھپانے کے بجائے اپنے والدین یا پھر استاد سے ڈسکس کرے. 

اس کے اندر اتنا اعتماد ہو کہ وہ کسی کی جانب سے کسی غیر معمولی عمل کو جان سکے اور اس کی پڑتال.کرسکے کہ یہ عمل اچھا ہے یا برا.یہ چیز پیدا کرنے کے لیے نصاب کا حصہ بنانے کے لیے اگر کچھ تیار کرنے کی ضرورت ہو تو ماہر نفسیات اور ماہر تعلیم مل کر ایسا تربیتی نصاب ضرور تیار کریں.

یہ ضرور فائدہ مند ہوگا.سیکس ایجوکیشن خاص کر مخلوط اداروں میں کسی طور بھی معاون ثابت نہیں ہوگی بلکہ مزید اخلاقی امراض کو جنم دے گی

#ضرب_تحریر.


افکار و نظریات: بچوں پر جنسی تشدد کا راہِ حل