ڈاکٹر طاہر القادری کا ایک خواب

فرحان منہاج

کل چیف جسٹس آف پاکستان کی کراچی میں ڈسٹرک ججز کے ساتھ نشست میں ہونے والے خطاب کو سنے کا موقع ملا.

جس پر چیف جسٹس صاحب کا سارا زور فوری انصاف کی طرف تھا.

انہوں نے کہا کہ ہمارا کام آئین کے آرٹیکل اور قانون کے حدود میں رہ کر قانون کی تشریح کرنا اور انصاف کرنا ہے. 

ہم قانون کی تشریح کرسکتے ہیں لیکن قانون بنا نہیں سکتے.  قانون بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے ہمارا کام اس کی تشریح کرنا اور انصاف کرنا ہے.

فوری انصاف میں ہمارے نظام عدل.میں بہت سے سقم  ہیں جس کے حوالے سے ہماری ایک جوڈیشل کمیٹی 73 کے قریب سفارشات تین سال سے پارلیمنٹ کو دے چکی ہے لیکن اس پر ابھی تک کوئی نظر ثانی نہیں ہوئی.

چیف جسٹس صاحب کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ فوری انصاف میں رکاوٹ ہمارا قانون ہے جس میں اصلاحات ناگزیر ہیں لیکن بدقسمتی سے ہماری پارلیمنٹ کی یہ ترجیح ہی نہیں رہی ۔ جیسا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری طرف سے سفارشات بھیجی گئیں ہیں اور اس کو بھی تین سال کا عرصہ ہوگیا ہے اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی  .

پارلیمنٹ جب تک فوری انصاف کو سنجیدہ نہیں لے گی ایسا ممکن نہیں ہو پائے گا اور ہماری پارلیمنٹ کو آپ.جانتے ہی ہیں.

ایک بات اچھی اور حوصلہ افزاء ہے کہ اداروں کے سربراہ جس میں عدلیہ بھی شامل ہیں ان کو سمجھ آگئی ہے کہ اس نظام میں ہم کچھ بھی ڈلیور نہیں کرسکتے اسکے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں ..اور وہ بھی اب بدلنا چاہتے ہیں ۔

ان شاء اللہ اصلاحات کا ایجنڈا جب سب کی ترجیحات میں شامل ہوجائے گا تب تبدیلی کا پہلا قدم رکھ لیا جائے گا اور ایسا اب جلد ہی ہونے والا ہے.

طاہر القادری نے اصلاحات اور نظام بدلو کا جو خواب دیکھا تھا اور جو نعرہ  دسمبر 2012کے جلسے  اور جنوری 2013 کے لانگ مارچ میں لگایا تھا اب شاید وہ شرمندہ تعبیر ہو جائے کیونکہ اب سب کو سمجھ آنے لگی ہے.

#ضرب_تحریر.


افکار و نظریات: ڈاکٹر طاہر القادری کا ایک خواب