🥀محبت ایک راز  ہے

تحریر = محمد گلزار حسین 

فکشن رائٹر بہاولپور.....🕊

کسی بھی معاشرے میں امن و امان تبھی قائم ہوسکتا ہے جب سارا سماج ایک دوسرے کی قدرومنزلت سمجھتا ہو. اور یہ قدر ومنزلت کیسے سمجھے گا ؟

جب معاشرے کے ہر فرد کو بلا امتیاز تعلیم جیسے زیور سے آراستہ کیا جاۓ گا.

باتوں کو طول دینا مجھے نہیں آتا کیونکہ مطالعہ کم ہونے کی وجہ سے الفاظ کم ہوتے ہیں اس لیۓ طول نہیں دے پاتا. میں نے جو چیز میرے معاشرے میں اپنے ماحول یا ملک میں دیکھی وہ ہے محبت کی کمی. محبت کے دامن کو اکثر و بیشتر لوگ تھامے ہوۓ ہیں لیکن جناب عالی محبت کے تقاضے بھی ہوتے ہیں اگر ان تقاضوں میں سے جان بوجھ کر ایک بھی پورا نہ ہوسکے تو وہ محبت دھوکہ ہو سکتی ہے محبت نہیں.

 جب کسی سے محبت کی جاتی ہے تو اس کے نخرے بھی اٹھاۓ جاتے ہیں , اس کی ناگوار باتوں کو کھلے دل سے برداشت بھی کیا جاتا ہے,  اس کا ہر جائز و ناجائز مطالبہ بھی پورا کیا جانے کی کوشش کی جاتی ہے , اس کے خلاف چھوٹی سی بھی بات سننا برداشت نہیں کیا جاتا,  اس کی خاطر غمگین غزلیں اور گانے سنے جاتے ہیں یا بہاروں کی نویدوں سے بھری پڑی کہانیاں پڑھی جاتی ہیں , اس محبوب یا محبوبہ کی خاطر اپنوں غیروں سب سے الجھنا پڑتا ہے یہاں تک کہ نوجوان ہستیاں اپنے بوڑھے والدین سے برملا کہہ دیتے ہیں کہ ہم فلاں صاحب یا صاحبہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے یا ہمیں فلاں کی باہوں میں بھیج دیا جاۓ یا زہر کا پیالہ حاضر کیا جاۓ  ۔

 جو یہ نہیں کرتے وہ اندر ہی اندر جلنا بجھنا شروع کردیتے ہیں اور یوں بیمار عشق ہوجاتے ہیں پھر جب تک دیدار یار نہ ہو وہ بیمار بیمار ہی رہتے ہیں, محبت میں ہر اونچے وڈیرے چوہدری, بادشاہ سب سے پنگا لینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں. اور اگر کوئ ایسا وقت آجاۓ کہ جان کی بازی لگانے کو کہا جاۓ تو لبیک کی آواز آتی ہے.

 جو کچھ میں نے دیکھا ہے جس کو لوگ محبت کہتے ہیں ماں باپ کو نشہ آور گولیاں دے کر گہری نیند سلا دیا جاتا ہے تاکہ محبت میں کسی بھی قسم کا خلل واقع نہ ہو , اکثر تو ماں باپ, بہن بھائیوں کو قتل بھی کردیتے ہیں محبت میں.

یعنی محبوب کے سوا کچھ دکھائ نہیں دیتا, سنائ نہیں دیتا, کھانا پینا چھوڑ دیا جاتا ہے,  نسیں کاٹ دی جاتی ہیں محبوب کا نام جسم پر کنندہ کرایا جاتا ہے,  مجھے معاشرے میں یہ محبت بھی دیکھنے کو ملی ہے۔

مگر جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ بڑی آسان سی زبان اردو میں ہے کہ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنی ساری محبتیں اپنے ملک و ملت و مذہب اسلام سے وابستہ کر لیں,  زہر پینا پڑے تو مزہب کی خاطر,  اپنوں کو چھوڑنا پڑے تو ملک و ملت کی خاطر, نسیں کاٹنا پڑیں تو مذہب اسلام کی خاطر, پھانسی پہ لٹکنا پڑے تو ملک کی خاطر,نیندیں اڑ جائیں تو مذہب کی محبت میں, جب تک ہم محبت و عشق کی قدر و منز لت نہیں پہچانیں گے تو معاشرے کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا.

ایک دوسرے کی قدر اس وقت تک نہیں کی جاۓ گی جب تک ملک و ملت سے محبت نہیں ہوگی I love you Pakistan

کہنے سے محبت پوری نہیں ہوگی بلکہ  اپنی رگوں کے اندر سے اپنی سانسوں سے اب اس محبت وطن کا اظہار لازمی ہو چکا ہے. اور اگر محبت اسلام میں قربانی کا وقت آجاۓ تو بھی محبت کا حق ادا کیا جاۓ گا. میرے سارے ادارے تندرست ہیں بس محبت کا کوئ ادارہ بنا ڈالو,  تعلیم بھی مساوی نہیں جب تو قدر و منزلت کے متعلق کیا بتاؤں ؟

ہمیں اپنی تعلیمی پالیسیاں بناتے وقت بھی محبت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا,  تو کیا خیال ہے محبت کو ایسا راز نہ کہہ دیا جاۓ جس کو  اپنانے سے ملک و ملت میں ترقی آسکے اور ہم اپنی حقیقی منازل کی طرف گامزن ہونے میں کامیاب ہو سکیں.

اس لیئے ہمیں چاہییے کہ اپنی تمام مصروفیات اور الفتوں کا محور و مرکز دین اسلام اور ملک پاکستان کو بنا لیں.

مجھے لگا کہ یہ راز محبت ہی راز قدر و منزلت ہے اسی میں ملک کی ترقی کا راز پنہاں ہے. آئیں ہم سب اپنے ہاتھوں میں ہاتھ ملائیں اور اپنی سانسوں سے محسوس کروائیں کہ ہم سب ایک ہیں اس پرچم کے ساۓ تلے ہم ایک ہیں.

آئیں ایک آہوں کی زنجیر بنایئں

نفرتوں کو مٹادیں محبتوں کو جلا دیں.

رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل,

جو آنکھ سے ہی نہ ٹپکا وہ لہو کیا ہے ؟

محبت غیرت کا,  زندہ رہنے کا ایک حسین جذبہ ہے. 


افکار و نظریات: محبت ایک راز ہے