اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات آصف محمود امریکہ پاکستان سے ناراض کیوں ہے اور پاکستان امریکہ کی ناراضی سے اتنا بے نیاز کیسے ہو گیا؟ ان دونوں سوالات کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے اس خطے میں طاقت کا بدلتا ہوا توازن ۔ افغانستان اور حقانی نیٹ ورک کی بات تو محض زیب حکایت ہے اصل معاملہ یہی ہے کہ چین اور پاکستان قریب آ رہے ہیں اور اس قربت سے جہاں امریکہ ناراض ہے وہیں اس قربت نے پاکستان کو وہ اعتماد دیا ہے کہ ہم اپنے حکمرانوں کو امریکہ سے بدلے ہوئے لہجے میں بات کرتا دیکھ رہے ہیں اور محو حیرت ہیں۔ چین اور پاکستان نے باہم تجارت ڈالر کی بجائے یووان میں کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس سلسلے میں سٹیٹ بنک آف پاکستان نے باقاعدہ پالیسی بیان جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ معمولی بات نہیں ہے ۔ یہ بدلتے موسموں کی ا ولین انگڑائی ہے۔ یہ ڈالر کی حکمرانی کو دیا جانے والا واضح چیلنج ہے۔ ٹرمپ اگر غصے میں ہیں تو یہ بلاوجہ نہیں ۔ وہ ڈالر کی بالادستی کی عظیم الشان عمارت میں پڑنے والے شگاف سے پریشان امریکہ کے فطری جذبات کی عکاسی کر رہے ہیں ۔ پاکستان کی چین سے درآمدات کا سالانہ حجم اس وقت 14 بلین ڈالر ہے۔ یعنی صرف درآمدات کی مد میں پاکستان چین کو14 بلین ڈالر سالانہ ادا کرتا ہے ۔ اگر باہمی تجارت کا نصف بھی ڈالر کی بجائے یوآن میں ہونے لگے تو اس کا مطلب ہے کہ صرف اس ایک معاملے میں ڈالر کی کھپت میں سات بلین ڈالر سالانہ کی کمی واقع ہو جائے گی ۔ڈالر کے لیے یہ جھٹکا غیر معمولی تو ہر گز نہیں ہو گا لیکن یہ اتنامعمولی بھی نہیں ہو گا۔اور یہ جھٹکا آنے والے دنوں کے ارتعاش کی ایک ہلکی سی جھلک ہے۔ ڈالر کے ساتھ جو ہونے والا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ خوفناک منظر ہو سکتا ہے ۔ اشوک سجندھن بھارت کے کہنہ مشق سفیر رہے ہیں ۔ ان کا دعوی ہے کہ چین نے سعودی عرب پر بھی دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ اس کو ڈالر کی بجائے یوآن میں پٹرول فروخت کیا جائے ۔ چین پٹرولیم مصنوعات کا بہت بڑا خریدار ہے جو روزانہ 70 لاکھ بیرل پٹرول درآمد کرتا ہے۔ اتنے بڑے خریدار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔اشوک کے مطابق امکان یہی ہے کہ سعودی عرب زیادہ عرصہ اس دباؤ کا سامنا نہیں کر پائے گا اور چین کو پٹرول کی فروخت ڈالر کی بجائے یو آن میں کی جائے گی۔ ایک دفعہ چین کو پٹرول کی فروخت ڈالر کی بجائے یوآن میں ہونے لگی توپھر یہ سلسلہ یہیں نہیں رکے گا ۔ پھر چین دیگر دوست ممالک کو بھی اسی راستے پر چلنے کا کہہ سکتا ہے اور سعودی عرب دوسروں کو بھی انکار نہیں کر سکے گا ۔ گویا یوآن اب بہت جلد ’ پیٹرو یوآن‘ بننے جا رہا ہے ۔ سی پیک محض دو ممالک کے درمیان ایک معاشی اور تزویراتی منصوبے کا نام نہیں ۔یہ ایک جہانِ نو ہے جو انگڑائی لے کر پیدا ہو رہا ہے۔ بہت سے ممالک اس بندھن میں بندھنے جا رہے ہیں ۔ چین ، روس ، ترکی ، ایران اور پاکستان باہم کافی تضادات کے باوجود ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں ۔ اس قربت کی بنیاد معیشت ہے اور معیشت کا محور اب ڈالر نہیں رہے گا بلکہ یوآن ہو گا ۔ سی این بی سی کی سائٹ پر 24 اکتوبر 2017 کو سری جگارجا نے لکھا کہ فوری نہ سہی مگر پیٹرو یوآن کے ہاتھوں ڈالر کا زوال اب نوشتہ دیوار ہے ۔ منظر نامہ آہستہ آہستہ واضح ہوتا جا رہا ہے ۔ 2009 میں چین نے یوآن کو پہلی بار بین الاقوامی تجارت میں تجرباتی طور پر متعارف کرایا اور پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر آسیان کے دس ممالک کے ساتھ باہمی تجارت یوآن میں شروع کی ۔ یہ تجربہ کامیاب رہا اور اس کے بعد سے چین نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ 2010 میں چین نے ماسکو انٹر بنک کرنسی ایکسچینج میں روبل کے ساتھ یوآن میں تجارت کا معاہدہ کر لیا ۔ اس سے اگلے سال اس نے جاپان کے ساتھ اپنی کرنسی میں تجارت کا معاہدہ کر لیا ۔ 2013 سے آسٹریلوی ڈالر کے ساتھ یوآن میں لین دین کا معاہدہ ہوا ۔ اسی سال یوآن دنیا کی آٹھویں بڑی تجارتی کرنسی بن گیا ۔ اور دو سال کے بعد یعنی 2015 میں یہ دنیا کی پانچویں بڑی تجارتی کرنسی قرار پایا ۔ 3نومبر 2016 کو یوآن کو ڈالر اور یورو کے بعد دنیا کی تیسری ’ گلوبل ریزرو کرنسی‘ قرار دے دیا گیا ۔ امکان یہی ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کی کامیابی کے بعد جو ممالک اس سے منسلک ہوں گے ان کی باہم تجارت ڈالر میں نہیں بلکہ یو آن میں ہو گی ۔ ڈالر کی اجارہ داری سے نجات کا مطلب امریکی سامراج سے نجات ہے۔ پاکستان ہی کی مثال لے لیجیے۔ جب اسے لین دین کے لیے ڈالر درکار ہوتے ہیں اور بنکوں میں مطلوبہ ڈالر موجود نہیں ہوتے تو امریکہ کی خوشنودی کے لیے پھر سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ جب تجارت یوآن میں ہو گی اور متبادل امکانات کا جہان آباد ہو گا تو اس محتاجی سے معقول حد تک نجات ملے گی ۔ اس محتاجی سے نجات کا ابھی صرف امکان پیدا ہوا ہے اور پاکستانی حکومت کا لب و لہجہ بدل سا گیا ہے۔ غور فرمائیے جب اس کی عملی شکل سامنے آئے گی تو امریکہ کا کردار کس حد تک محدود ہو جائے گا ۔ پھر اس نئے معاشی امکان کے ہمراہ سفارتی اور عسکری قوت بھی ہے ۔ چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور ویٹو پاور ہے۔ روس بھی اسی مقام کا حامل ہے۔ یہ دونوں تازہ امکانات کے پیدا ہوتے اس جہان کے سرخیل ہیں ۔ ترکی ان کے ساتھ ہے، پاکستان ساتھ کھڑا ہے۔ آسیان کے ممالک اس کے ساتھ ہوں گے۔ ون بیلٹ ون روڈ سے منسلک ممالک کے لیے اب یوآن کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہو گا اور اس خطے میں ڈالر دن بدن سکڑتا چلا جائے گا ۔ ڈالر کی شان و شوکت کے بارے میں پہلے ہی بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ اب اگر دنیا کا ایک غالب حصہ متبادل کرنسی کی طرف چلا جاتا ہے تو ڈالر کی حیثیت وہ نہیں رہے گی جو اس وقت ہے۔ اور ڈالر کا مطلب محض کاغذ کی کرنسی نہیں یہ امریکی شان و شوکت کی علامت بھی ہے۔ امریکہ اس علامت کو بچانے کے لیے ماضی میں بہت کچھ کر چکا ہے۔ کرنل قذافی کو بھی ایک ایسے ہی جرم کی سزا دی گئی کہ وہ مقامی گولڈ کرنسی متعارف کرانے چلے تھے۔ ان کے پاس سات بلین ڈالر مالیت کے گولڈ ریزروز موجود تھے۔ چنانچہ انہیں نشان عبرت بنا دیا گیا ۔ اب تو ہیلری کلنٹن کی ای میلز نے ساری کہانی بیان کر دی ہے مگر اس وقت قذافی کے خلاف ایسا ایسا پروپیگنڈا کیا گیا کہ الامان ۔ امریکہ کے فکری رضاکار ہر ملک میں موجود ہیں ۔ یہ جس کے خلاف مہم برپا کر دیں سمجھ جائیے واردات شروع ہو چکی ۔ چنانچہ ایک طالب علم کے طور پر یہ بات نظر انداز کی ہی نہیں جا سکتی کہ پاکستان میں امریکہ کے فکری رضاکار کب کب اور کس کس کے خلاف متحرک ہوتے ہیں ۔ یہ جو باہر سے این جی اوز اور اداروں کے نام پر ڈالر آتے ہیں بلاوجہ نہیں آتے ۔ پاکستان کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ پاکستان صدام کا عراق ہے نہ قذافی کا لیبیا ۔ یہ ایک ایٹمی قوت ہے۔ چین اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ بلکہ متبادل امکانات کا منصوبہ بنیادی طور پر چین کا منصوبہ ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو ٹارگٹ کرنا آسان نہیں۔ ہاں اسے اندر سے کھوکھلا کرنے کی کوششیں ہو سکتی ہے۔ نکتے ملاتے جائیے اور امریکہ کے فکری رضاکاروں پر نظر رکھیے۔ فوج کو ولن بنایا جا رہا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال کے والدین کے قتل کو بھی فوج کے کھاتے میں ڈالا گیا تھا ، بعد میں معلوم ہوا معاملہ تو بالکل اور تھا۔تین دفعہ اس ملک نے جسے وزیر اعظم بنایا اس کی طرف سے شیخ مجیب بننے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ کوئی دشمن نہیں ، ہمارااپنا وزیر داخلہ ارشاد فرماتا ہے چین سی پیک میں سرمایہ کاری روک سکتا ہے۔ اس ارشاد مبارکہ کی سنگینی ہم محسوس کریں نہ کریں چین نے اسے محسوس کر لیا ہے اوراس کے سفیر نے باقاعدہ بیان دیا ہے کہ نواز شریف کے جانے کے باوجود سی پیک پر کام جاری ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: امریکہ سے بگڑتے تعلقات
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں