بلوچستان کا بنیادی مسئلہ

فرخ شہزاد‘کوئٹہ

             بلوچستان یوں تو ہر شعبے میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں پسماندہ اور احساس محرومی کا شکار ہے لیکن تعلیمی شعبے میں یہ پسماندگی بہت زیادہ ہے۔ ماضی میں صوبے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام پر بہت کم توجہ دی گئی جس کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہوئے لیکن اب دیر آید درست آیت کے مصداق چند برس کے دوران صورتحال میں کافی بہتری آچکی ہے۔

 صوبائی دارالحکومت سمیت خضدار اور لسبیلہ میں  میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیاں بن چکی ہیں ۔جبکہ پشین ‘لورالائی ‘خضدار، تربت سمیت کئی اضلاع  میں یونیورسٹیوں کے کیمپس بنائے جاچکے ہیں جبکہ دو شہروں میں میڈیکل کالج بھی قائم کئے گئے ہیں۔ لیکن  ان تعلیمی اداروں پر اکتفا کرنیکی بجائے ابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو بھی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بلوچستان کو ترجیح دینا ہوگی خصوصاً اندرون ملک اور بیرون ملک سکالرشپس میں صوبے کا حصہ بڑھانے کے لئے اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں کیونکہ جب تک نوجوان ایم فل اور پی ایچ ڈی کرکے نہیں آئیں گے صوبے میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ مستحکم نہیں ہوپائے گا۔

 اس وقت بھی صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ  اساتذہ کی کمی کا سامنا ہے جسے پورا کرنے کیلئے معیار پر سمجھوتہ کیا جاتا ہے  جو کسی طرح بھی مستحسن اقدام نہیں۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ فوج  نے بھی اس کام میں بھرپور تعاون  کا یقین دلایا ہے۔ آرمی چیف  جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دورہ کوئٹہ میں بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے جس پروگرام کا اعلان کیا ہے اس کے تحت بھی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام اور توسیع کیلئے اقدامات کرنا چاہئیں۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیرداخلہ پروفیسر احسن اقبال نے دورہ  بلوچستان کے دوران تین اہم تعلیمی منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے احساس محرومی اور پسماندگی کا خاتمہ کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

بلوچستان میں تعلیم کے 21منصوبوں سمیت مواصلات فراہمی آب اور دیگر شعبوں کے کئی بڑے منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے۔وفاقی وزیر نے وڈھ میں لسبیلہ یونیورسٹی کے کیمپس اور پشین اور نوشکی  میں سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کے کیمپس کا افتتاح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے کیمپس کے قیام سے خاص طور پر طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع ان کے گھروں کے قریب دستیاب ہونگے اور وہ آگے چل کر ملک اور صوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔

            تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں تعلیم  کے شعبے کیلئے سب سے زیادہ بجٹ مختص ہوتا ہے ۔لیکن اسکے باوجود یہ شعبہ بہتر نتائج دینے سے قاصر ہے۔پرائمری سے سیکنڈری تک تعلیمی نظام تباہ ہو چکا ہے۔ گنتی کے گنے چنے سکولز و کالجز معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں اس کے علاوہ اکثرتعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونیوالے طلبا ’’تعلیم یافتہ‘‘کی بجائے ’’ڈگری یافتہ‘‘ ہیں۔ اساتذہ تنظیمیں سال میں تین چار مرتبہ ہڑتالوں پر چلی جاتی ہیں۔

 باقی دنوں میں بھی اندرون بلوچستان اساتذہ کی اکثریت غیر حاضر رہتی ہے چونکہ ان کا سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اس لئے کوئی انضباطی کارروائی اول تو ہوتی ہی نہیں یا شروع ہو بھی جائے تو دم توڑ دیتی ہے  اعلی حکومتی ‘سیاسی شخصیات بیورو کریٹس کے بچے تو دیگر صوبوں کے اعلی تعلیمی اداروںمیں زیر تعلیم ہیں ۔شاید یہی بڑی وجہ سرکاری تعلیمی اداروں کی اصلاحات کے عمل میں رکائوٹ ہے۔

صوبے میں اعلی تعلیم کے شعبے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے وفاقی حکومت نے جو کوششیں کی ہیں وہ بلاشبہ قابل تحسین ہیں  اور آئندہ ایک عشرے کے تک صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ کے حوالے سے مسلسل کوششیں کی جاتی رہیں اور اس کیلئے فراخدلانہ فنڈز فراہم کئے جاتے رہیں تو صوبہ تعلیمی لحاظ سے دوسرے صوبوں کے برابر آسکتا ہے۔

‪+92 333 7939697:


افکار و نظریات: بلوچستان کا بنیادی مسئلہ